پاکستان میں بالی وڈ فلموں پر پابندی سے اپنا ہی نقصان

فلم تصویر کے کاپی رائٹ PINK
Image caption 1965 کی جنگ کے بعد پہلی بار پاکستان نے بھارتی فلموں کی پاکستانی سینیما گھروں میں نمائش کی اجازت دی تھی

پاکستان میں بالی وڈ کی فلموں کی نمائش پر ممکنہ پابندی کے ضمن میں ہدایتکار، سینیما مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ سیاسی اور حکومت کی سطح پر یہ فیصلہ کرنا ارباب اختیار کے ہاتھ میں ہے تاہم کاروباری نظر سے دیکھا جائے تو اس سے پاکستان کا اپنا ہی نقصان ہے۔

پاکستان کی فلمی صنعت میں گذشتہ تین برسوں سے کافی ہل چل رہی ہے جب پاکستان میں طویل عرصے کے بعد دوبارہ فلمیں بننا شروع ہوئیں۔

'پاکستانی فنکاروں پر پابندی دہشت گردی کا حل نہیں'

پاکستان میں تجزیہ کار اسے حکومت کی اس پالیسی کا نتیجہ قرار دےرہے تھے جس کے تحت 1965 کی جنگ کے بعد پہلی بار پاکستان نے بھارتی فلموں کی پاکستانی سینیما گھروں میں نمائش کی اجازت دی۔ جیسے جیسے انڈین فلمیں آتی گئیں نئے سینیما بنتے گئے اور کچھ ہی عرصے میں پاکستانی فلمی صنعت بھی ابھرنی شروع ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jami Mehmood
Image caption ہدایتکار جامی محمود کا کہنا تھا نہ جانے جب بھی دونوں ملکوں میں کشیدگی ہوتی ہے سینیما پر حملہ کیوں جاتا ہے؟

تاہم اب پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد ایک بار پھر یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آیا پاکستان انڈین فلموں کی سینیما میں نمائش روک نہ دے۔

اس ضمن میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی جاچکی ہے جبکہ بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو بھارت چھوڑنے اور ان کی فلموں کی نمائش روکنے کا واویلا جاری ہے۔ اگر حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے تو کیا ہوگا۔

ایوارڈ یافتہ ہدایتکار جامی محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی دونوں ملکوں میں کشیدگی ہوتی ہے سینیما پر حملہ کیوں جاتا ہے۔

مانڈوی والا پکچرز کے ندیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ پاکستانی سینیما میں بالی وُوڈ کی فلموں کا بہت بڑا حصہ ہے اور اگر حکومت انہیں بند کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا گہرا اثر پڑےگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو بالی وُوڈ کی فلموں کی وجہ سے سینیما بننے شروع ہوگئے ہیں جس سے پاکستانی فلمیں بھی دوبارہ بن رہی ہے اس لیے اگر دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کا اپنا فائدہ ہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں سینیما کی اسکرینز دو درجن سے بڑھ کر 116 ہوگئی ہے اور آئندہ تین سالوں میں مزید 100 اسکرینز کے سینیما تیار ہورہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nadeem Mandviwala
Image caption ندیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ پاکستانی سینیما میں بالی وُوڈ کی فلموں کا بہت بڑا حصہ ہے اور اگر حکومت انہیں بند کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا گہرا اثر پڑےگا

پاکستانی فلم ڈسٹری بیوٹر ستیش آنند کا کہنا ہے کہ پاکستانی سینیما میں بالی وُوڈ کی فلموں کا سب سے بڑا حصہ ہے اور اگر حکومت بالی وُوڈ کی فلمیں بند کرتی ہے تو اس کا اثر سینیما پر ضرور پڑے گا تاہم ان کے خیال میں پاکستانی سینیما میں اب اتنی جان ضرور ہے کہ وہ یہ جھٹکا برداشت کرجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سینما گھروں میں صرف بالی وُوڈ کی فلمیں ہی نہیں لگتیں یہاں ہالی وُڈ بھی ہے اور پاکستانی کی اپنی فلمی صنعت بھی اب چَل پڑی ہے۔ْ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ سینیما کو ہر ہفتے ایک نئی فلم چاہیئے ہوتی ہے جو ابھی پاکستانی فلم انڈسٹری فراہم نہیں کرسکتی۔

پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کے ضمن میں وفاقی سینسر بورڈ کے چیئرمین مبشر حسن کا کہنا ہے کہ واضع رہے کہ ابھی تک حکومت ِ پاکستان کی جانب سے بھارت فلموں کی نمائش پر پابندی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں