انڈیا پاکستان کشیدگی اور قطرینہ کی پریشانی

Image caption انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناؤ سے بالی وڈ میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے کی بھی مخالفت ہوئی ہے لیکن فنکاروں ان کے حق میں آواز اٹھائی ہے

انڈین فلم انڈسٹری اور پاکستانی فنکاروں کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ مختلف دور میں مختلف فنکار فلم انڈسٹری کا حصہ رہے اور جب جب انڈیا پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی نہ صرف ان فنکاروں کو بلکہ انھیں کام دینے والوں کو بھی سخت گیر حلقوں کے عتاب کا نشانہ بننا پڑا۔

اب اوڑی حملے کے بعد بھی وہی صورت حال ہے۔

بالی وڈ میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے کے خلاف مہاراشٹر نو نرمان سینا کی دھمکی کے بعد انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے ایک قرارداد منظور کر کے پاکستانی اداکاروں اور ٹیکنیشنز کے کام کرنے پر اس وقت تک کے لیے پابندی لگا دی جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں ہے۔

بالی وڈ کے جو آرٹسٹ یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کام حکومت کا ہے جو ان فنکاروں کو کام کرنے کا ویزہ اور اجازت دیتی ہے تو انھیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس کی مثال کرن جوہر، ورون دھون، سلمان خان اور سیف علی خان ہیں یہاں تک کہ انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن کے ایک رکن راہل اگروال نے ان فنکاروں پر پابندی کے خلاف احتجاجاً استعفی دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں آوازیں تو بہت اٹھ رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ان آوازوں کو سن بھی رہا ہے۔

ادھر سخت گیر ہندو تنظیم اکھل بھارتیہ ہندو کرانتی دل نے حکام سے کہا ہے کہ گڑ گاؤں میں پاکستانی سنگر عاطف اسلم کا کنسرٹ منسوخ کیا جائِے۔ فلمساز کرن جوہر کے گھر کے باہر ایسی ہی سخت گیر تنظیموں کا احتجاج جاری ہے۔ کرن کا قصور بس اتنا ہے کہ ان کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ میں پاکستانی اداکار فواد خان ہیں اور شاہ رخ خان کی فلم ’رئیس‘ سے مائرہ خان کو بھی نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ مودی حکومت میں ہندو انتہا پسند تنظیمیں ادب اور ثقاتی شعبوں میں بھی سیاست کا زہر گھولنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ان پاکستانی فنکاروں کے بھارتی مداحوں کو بھی یہ شکایت ہے کہ بطور فنکار وہ اوڑی حملے کی مذمت نہ سہی کم از کم اسی انداز میں دکھ کا اظہار کر دیتے جس طرح انھوں نے پشاور اور پیرس حملوں کے دوران کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ yashraj films
Image caption قطرینہ کا کہنا ہے کہ چار سال بعد ایک بار پھر سلمان کے ساتھ کام کرنے میں انہیں بہت خوشی ہو رہی ہے وہ کہتی ہیں کہ انکی زندگی میں بہت کچھ بدلا ہے

قطرینہ کیف کی ذاتی اور پروفیشنل زندگی اس وقت منجدھار میں نظر آ رہی ہے۔ جہاں ذاتی زندگی میں وہ بریک اپ کے بعد خود کو سنبھالنے کی کوشش کرہی ہیں وہیں ان کی فلمیں بھی سنبھلنا تو دور چلنے کی حالت میں بھی نہیں ہیں۔

ان کی فلم 'بار بار دیکھو' کا جو حال ہوا اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگوں نے بار بار تو کیا ایک بار بھی فلم دیکھنا گوارہ نہیں کی۔ لیکن قطرینہ کی قسمت اچھی ہے کہ وہ سلمان خان کی دوست ہیں اور اسی دوستی کے چلتے انھیں سلمان کی فلم 'ٹائیگر ابھی زندہ ہے' مل گئی ہے فلم میں کترینہ ایکشن کرتی نظر آئیں گی۔

قطرینہ کا کہنا ہے کہ چار سال بعد ایک بار پھر سلمان کے ساتھ کام کرنے میں انھیں بہت خوشی ہو رہی ہے وہ کہتی ہیں کہ ان کی زندگی میں بہت کچھ بدلا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قطرینہ اور سلمان کی زندگی میں اب آگے کیا کچھ بدلے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ film pr
Image caption اداکارہ شردھا کپور بے شمار صلاحیتوں کی مالک ہیں جہاں وہ ایک اچھی اداکارہ ثابت ہوئی ہیں وہیں وہ باصلاحیت گلوکارہ بھی ہیں اور اس کا مظاہرہ بھی کیا ہے

اداکارہ شردھا کپور بے شمار صلاحیتوں کی مالک ہیں جہاں وہ ایک اچھی اداکارہ ثابت ہوئی ہیں وہیں وہ باصلاحیت گلوکارہ بھی ہیں اور اس کا مظاہرہ وہ اپنی فلم 'باغی'، 'اے بی سی ڈی ٹو اور ایک وِلن کے علاوہ کئی فلموں میں کر بھی چکی ہیں۔ اب شردھا فرحان اختر کی فلم راک آن ٹو میں نہ صرف اداکاری کا مظاہرہ کریں گی بلکہ اپنی آواز کا جادو بھی بکھیرنے والی ہیں۔

یوں تو شردھا کے پاپا شکتی کپور میں بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں تھی ہاں ان کا ٹیلنٹ زرا مختلف تھا جس میں وہ ہر فلم میں ہیروئن کے پیچھے اور ہیرو کے آگے بھاگتے نظر آتے تھے۔

پیرالل سنیما کی شہزادی کہلائی جانے والی اداکارہ تنِشٹھا چیٹرجی نے اجے دیوگن کی فلم 'پارچڈ' میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انڈیا سے باہر تنشٹھا کے کام اور نام کو کافی سراہا جاتا رہا ہےاور فلم پارچڈ بھی انڈیا سے پہلے بیرون ممالک میں نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہے اور فلم کے بارے میں بہت اچھی رائے ظاہر کی جا رہی ہے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ فلم کے پروموشن مختلف ٹی وی پروگرامز اور خاص طور پر ریالٹی شوز میں جانا فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے تو فلم پارچڈ کی ٹیم بھی جا پہنچی کرشنا کے پروگرام کامیڈی نائٹ بچاؤ۔

جہاں تنیشا کی جسمانی رنگت کو مذاق کا موضوع بنانے کی کوشش کی گئی جو انھیں بالکل پسند نہیں آیا اور وہ شو چھوڑ کر نکل گئیں۔ یہ وہ شو ہے جہاں ہر مہمان کو بری طرح 'روسٹ' کیا جاتا ہے۔ تنیشا کو یہ تو معلوم ہوگا کہ شو پر انھیں بھی مذاق کا نشانہ بنایا جائے گا لیکن شاید یہ نہیں معلوم ہوگا کے اس مذاق کا معیار کیا ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں