20 سال کے بعد اروندھتی رائے کے نئے ناول کی اشاعت کا اعلان

اروندھتی رائے، Arundhati Roy تصویر کے کاپی رائٹ HAMISH HAMILTON
Image caption 54 سالہ اروندھتی نے زیادہ تر نان فکشن کام کیا ہے

ادبی ایوارڈ 'بُکرز پرائز' جیتنے والی معروف بھارتی ادیبہ، فلم ساز اور کالم نگار اروندھتی رائے کے مشہور ناول ’دی گاڈ آف سمال تھنگز‘ کی اشاعت کے 20 سال بعد ان کا نیا ناول منظر عام پر آرہا ہے۔

یہ ناول جس کا نام ’دی منسٹری آف آوٹ موسٹ ہیپینس‘ ہے سنہ 2017 یعنی اگلے برس میں شائع ہوگا۔

٭ اروندھتی رائے کو توہین عدالت کا نوٹس

٭اروندھتی رائے نے بھی ایوارڈ لوٹا دیا

اپنے پیغام میں اروندھتی رائے نے کہا کہ ’ مجھے یہ بتانے میں خوشی ہے کہ دی منسٹری آف آوٹ موسٹ ہیپینس میں پاگل روحوں (حتیٰ کہ بری نے بھی) اس دنیا میں اپنا راستہ پالیا ہے۔

ان کی زیادہ تر تحریریں نان فکشن ہیں لیکن ان کے پہلے ناول کو فکشن میں ان کا پہلا طویل کام سمجھا جا رہا ہے۔

اروندھتی رائے کے ادبی ایجنٹ ڈیوڈ گوڈون نے کہا کہ ’صرف اروندھتی ہی ایسا ناول لکھ سکتی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ’بالکل حقیقی‘ ہے۔

یہ ناول ہمیش ہملٹن اور پینگون نامی پبلشنگ ہاؤسز کی جانب سے شائع کیا جائے گا۔

اپنے بیانات میں ہمیش ہملٹن کے سمن پروسر اور پینگون کے میرو گوخیل نے کہا کہ’ اس کتاب کی اشاعت کرنا ان کے لیے باعث مسرت اور فخر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 2002 میں انھیں توہین عدالت کے جرم میں علامتی جیل ہوئی تھی

ان کے ناول کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ بہت ہی غیر معمولی ہے اور اس کے کردار بھی ایسے ہی ہیں جو زندگی کی جانب لے کر جاتے ہیں۔‘

بیانات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناول میں اختیار کیا گیا زبان کا انداز فیاضانہ ہے اور اس کی تازگی اور پر مزاح انداز ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ الفاظ زندہ ہیں۔ جو ہمیں بیدار کرنے، دیکھنے، سننے اور محسوس کرنے کا نیا نداز بخشتے ہیں۔

54 سالہ اروندھتی رائے انڈیا کی بہترین مصنفین میں شامل ہیں اور انھوں نے سنہ 1997 میں بکر پرائز جیتا تھا۔

انھوں نے سنہ 2010 میں کشمیر کے متنازع خطے پر انڈیا کی حکمرانی کو چیلینج کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں گرفتاری اور بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے علاوہ اروندھتی وہ بڑھتے ہوئے سرمایہ درانہ نظام کے بھی خلاف ہیں۔

رائے نے حال ہی میں ایلے میگزین کے ایک کور فیچر کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ انڈیا کی خوبصوتی سے متعلق افسانوی کہانیوں کا تاثر ختم کرنا چاہتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک سیاہ عورت ہوں، ہم میں سے زیادہ تر ایسی ہی ہیں، 90 فیصد، یہ وہم کہ انڈینز کی سفید رنگت اور سلکی بال ہیں مجھے بے زار کرتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں