’انڈین فوجیوں کی توہین‘: اوم پوری کے خلاف غداری کے مقدمے کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بالی وڈ اداکار اوم پوری نے ایک پاکستانی فلم 'ایکٹر ان لا' میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے

بالی وڈ کے معروف اداکار اوم پوری کے خلاف ممبئی کے اندھیری پولیس سٹیشن میں انڈین فوجیوں کی توہین اور پاکستانی فنکاروں کی حمایت کے لیے شکایت درج کی گئی ہے۔

کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں ایک فوجی کیمپ پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد پاکستانی فنکاروں کے انڈیا میں کام کرنے کے خلاف انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے فیصلے پر ایک انڈین چینل پر پیر کو ہونے والے مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے اوم پوری نے مبینہ طور پر انڈین فوجیوں کی توہین کی تھی۔

اوم پوری نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: 'کس نے ان سے کہا کہ فوج میں بھرتی ہوں؟ کس نے ان سے کہا کہ بندوق اٹھائیں۔‘

پولیس نے بتایا کہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اوم پوری کے خلاف غداری کی دفعہ 124 (اے) کےتحت ایف آئی آر درج کی جائے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ممبئی کے نائب پولیس کمشنر اشوک دودھے نے کہا: 'ہمیں اوم پوری کے خلاف ایک شخص کی جانب سے عرضی (شکایت) موصول ہوئی ہے اور اس بابت مزید ایکشن تحقیقات کے بعد لیے جائیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اوم پوری کی اداکاری کا بڑے بڑے فنکار لوہا مانتے ہیں، یہاں انوپم کھیر اوم پوری کا پاؤں چھونے کی کوشش کر رہے ہیں

خیال رہے کہ انڈیا پاکستان کے درمیان حالیہ تنازعے کے بعد بالی وڈ منقسم نظر آتا ہے۔ جہاں امیتابھ بچن، انوپم کھیر جیسے فنکار حکومت کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں وہیں فلم ساز مہیش بھٹ، کرن جوہر، سلمان خان، اوم پوری جیسے فنکار سیاست اور فن کو علیحدہ رکھنے کے حق میں ہیں۔

جبکہ وشال بھاردواج جیسے فلمساز اور گلزار جیسے نغمہ نگار نے اس بابت کچھ بھی کہنے سے انکار کیا۔

اس سے قبل سلمان خان اور کرن جوہر نے پاکستانی فنکاروں کے بارے میں کہا تھا کہ 'وہ فنکار ہیں دہشت گرد نہیں‘۔

بالی وڈ اداکارہ سورا بھاسکر نے کہا ہے کہ 'فن کے شعبے میں سیاست کا غلبہ ہو جانا اچھی علامت نہیں۔'

پاکستانی فنکاروں کے متعلق مختلف قسم کے بیانات کے بارے میں انھوں نے کہا: 'فن اور فنکاروں کو سیاست سے مت جوڑیے۔'

سوشل میڈیا پر اوم پوری کی شدید تنقید ہو رہی ہے۔ اوم پوری نے ایک سوال کے جواب میں پوچھا: 'کیا آپ یہ چاہتے ہیں انڈیا اور پاکستان اسرائیل اور فلسطین بن جائیں اور صدیوں تک لڑتے رہیں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ CRISPY BOLLYWOOD
Image caption بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر

انھوں نے کہا کہ 'یہ صرف ایک ملک کی تقسیم نہیں تھی، اس میں خاندان منقسم ہو گئے تھے۔ ہمارے ملک میں 22 کروڑ مسلمان ہیں اور ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں۔'

پاکستانی فن کاروں کے بالی وڈ میں کام کرنے پر پابندی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: 'مودی جی کے پاس جائیے اور ان کا ویزا منسوخ کرا دیجیے۔ 15-20 لوگوں کو خود کش بمبار کے طور پر تیار کیجیے اور بھیج دیجیے پاکستان۔

اوم پوری نے پاکستان کے فن کاروں کا دفاع کیا ہے اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں اوم پوری نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے ایک پاکستانی فلم 'ایکٹر ان لا' میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں