وہی کلہاڑی دوبارہ

Image caption پچھلے تین سالوں میں بالی وُڈ کی فلموں کا ریوینیو پاکستان کے پورے باکس آفس کا 60 سے 75 فیصد رہا ہے۔

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے شہر اُوڑی میں فوج پر ایک حملہ ہوتا ہے۔ اس حملے میں 18 انڈین فوجی مارے جاتے ہیں۔ کچھ دن بعد انڈین فوج دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں پانچ مقامات پر ’سرجیکل اسٹرائکس‘ کی ہیں اور پاکستان کے زیرِاثر جنگجوؤں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان اس دعوے کی سختی سے تردید کرتا ہے، لیکن کہتا ہے کہ دو پاکستانی فوجی لائن آف کنٹرول کے پار سے گولہ باری میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ کسی طرح اس سارے خون خرابے اور دعووں کا نزلہ فلموں اور فلمسازوں پر ہی آ کر گرتا ہے۔

پہلے انڈیا میں، اور خاص طور پر انڈین میڈیا کی، ہرزہ سرائی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز اسوسی ایشن ایک قرارداد کے ذریعے پاکستانی اداکاروں اور فلم ٹیکنیشنز کو انڈیا میں کام کرنے سے روکنے کا مطالبہ کردیتی ہے۔ اسی جوش سے پاکستان میں سنیما مالکان اعلان کر دیتے ہیں کہ جواباً وہ انڈین فلمیں دکھانا اُس وقت تک بند کر دیں گے جب تک حالات 'نارمل' نہیں ہو جاتے۔

پاکستانی سنیما مالکان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی غیرت کا تقاضا ہے۔ آپ نے ’اپنے ہی پاؤں پہ کلہاڑی مارنا‘ کا محاورہ تو سنا ہوگا (شاید کبھی کسی بدنصیب کو کرتے دیکھا بھی ہو)۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ کسی کو اپنے ہی پاؤں پر دوبارہ کلہاڑی مارتے نہ سنا ہوگا نہ کبھی دیکھا ہوگا۔ تو اب دیکھ اور سُن لیجیئے۔

لیکن پہلے ایک وضاحت کرنا ضروری ہے۔ اس بات سے کوئی انکاری نہیں ہے کہ انڈین میڈیا میں جنگی جنون اور پاکستان کے خلاف زہر اُگلنا فی الوقت اپنے عروج پر ہے۔ اور یہ کہ انڈین پروڈیوسرز کی تنظیم نے اس اشتعال انگیز میڈیا کے اثر میں آ کر ایک نہایت ہی احمقانہ بیان جاری کیا ہے (جس کو سلمان خان، مہیش بھٹ، کرن جوہر اور اوم پوری جیسے نامور فلمسازوں اور اداکاروں نے سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے)۔ اگر دو چار پاکستانیوں کو انڈیا سے دربدر کرنے سے (یا انڈین شہریوں کو پاکستان سے نکالنے سے) خِطّے میں امن و آشتی آسکتی تو یقیناً پچھلے ساٹھ ستّر سالوں میں برِصغیر سکون کا گہوارا بن چُکا ہوتا۔

لیکن اگر انڈیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سوچنے سے زیادہ زبان چلانے کو ترجیح دیتے ہیں، تو پاکستان میں بھی دیکھے بغیر چھلانگ لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

پاکستان کی سنیما انڈسٹری کے حوالے سے کچھ حقائق پیشِ خدمت ہیں۔ 1970 کی دہائی کے آخر تک پاکستان دنیا کے دس سب سے زیادہ فلمیں بنانے والے ملکوں کی صف میں شامل تھا۔ پاکستان میں سالانہ سو سے زیادہ فیچر فلمیں بن رہی تھیں۔ سنیما گھروں کی تعداد 1300 سے 1400 تھی۔ لیکن ہوم وڈیو، سیٹلائٹ ڈِش اور انٹرنیٹ کی آمد سے اور جنرل ضیاء کی فلم کے خلاف پالیسیوں سے ایسا زوال آیا کہ ایک وقت پاکستان میں بننے والی فلموں کی تعداد صرف بیس کے لگ بھگ رہ گئ (جن میں سے بیشتر پشتو زبان کی فلمیں تھیں) اور سنیما سکرینز کی تعداد 70 سے بھی نیچے آگئی۔

2007 میں جب جنرل مشرف کے دور میں پاکستان نے انڈین فلموں پر سے 40 سال سے لگی ہوئی سرکاری پابندی ہٹائی تو اس کا اصل محرک وہ دباؤ تھا جو سنیما مالکان اور کارا فلم فیسٹیول جیسی تنظیموں (جس میں میرا بھی کچھ ہاتھ تھا) نے حکومت پر ڈالا تھا۔ اُن کی منطق خالصتاً معاشی تھی۔ پاکستانی سنیما گھروں کو چلنے کے لئے فلموں کی اور فلم بینوں کی ضرورت تھی۔ نہ تو پاکستان میں اتنی فلمیں بن رہی تھیں جن سے سنیما سارا سال چل سکیں اور فلم بین ویسے بھی گھر بیٹھے بالی وُڈ کی وہ فلمیں دیکھ رہے تھے جو اُن کو سنیما میں دیکھنے کو نہیں مِل رہی تھیں۔

شروع شروع میں لاہور کی بدحال فلم انڈسٹری نے اس اقدام کی پُرزور مزاحمت کی، لیکن کچھ ہی عرصے میں یہ ظاہر ہو گیا کہ یہ ایک بلکل صحیح اور دوراندیش قدم تھا۔ نہ صرف سنیما گھر ٹُوٹنے بند ہوگئے بلکہ نئے سنیما گھر بننا شروع ہوگئے۔ اور جیسے جیسے باکس آفس میں انڈین فلموں کی بدولت پیسہ آنا شروع ہوگیا، پاکستانی فلمسازوں کو بھی تقویت ملی کہ وہ فلمیں بنانا دوبارہ شروع کریں۔ آج کل پاکستانی فلم انڈسٹری کے 'ریوائیول' کا جو چرچا ہے وہ سارے کا سارا اسی اقدام کا نتیجہ ہے جس کے تحت انڈین فلمیں پاکستانی سنیما گھروں میں ریلیز ہونا شروع ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ YRF Films
Image caption اس سال پاکستان میں سب سے کامیاب فلم سلمان خان کی 'سلطان' رہی ہے جس نے 34 کروڑ روپے کمائے۔

پچھلے تین سالوں میں بالی وُڈ کی فلموں کا ریوینیو پاکستان کے پورے باکس آفس کا 60 سے 75 فیصد رہا ہے۔ یعنی ہر 100 روپے جو سنیما گھروں نے کمائے ہیں، اس میں سے 60 سے 75 روپے انڈین فلموں نے کما کر دیے ہیں۔ 2011 سے اب تک انڈین فلموں کا بزنس ہر سال 24 سے 31 فیصد بڑھا ہے۔ اس سال، جو مالی اعتبار سے نسبتاً کمزور رہا ہے، سب سے کامیاب فلم سلمان خان کی ’سلطان‘ رہی ہے جس نے 34 کروڑ روپے کمائے۔ کوئی پاکستانی فلم اس سال اس کے قریب بھی نہیں آئی ہے۔

لیکن ابھی تو سنیماؤں کے احیا کا سلسلہ صرف شروع ہوا ہے۔ پورے پاکستان میں اب بھی صرف 80 کے لگ بھگ اسکرین ہیں۔(اس کا موازنہ اس سے کریں کہ یونائٹڈ کِنگڈم میں 4000 سے زائد اسکرینیں ہیں، انڈیا میں 13000 سے زائد اسکرینیں ہیں، چین میں 31000 سے زائد اور امریکہ میں 40000 سے زائد سنیما اسکرینیں ہیں)۔ چھوٹے سے متحدہ عرب امارات میں بھی 250 سے زائد اسکرینیں ہیں۔) یہ نئی پابندی پاکستانی سنیما کے احیا کے اس سارے سلسلے کو یہیں پر روک دینے کی طاقت رکھتی ہے۔

خبریں آرہی ہیں کہ 16 مزید اسکرینیں جو کراچی، لاہور، ایبٹ آباد، بہاولپور اور سیالکوٹ میں بننے جارہی تھیں اُن پر کام روک دیا گیا ہے کیونکہ اُن پر پیسہ لگانے والے حضرات کو ڈر ہے کہ اُن کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ اس کو اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنا نہ کہیں تو کیا کہیں؟

آغاز میں میں نے 'اپنے ہی پاؤں پہ دوبارہ کلہاڑی مارنے' کا ذکر کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے، اور بیشتر لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے، کہ 1965 میں حکومت کی طرف سے عائد کردہ سرکاری پابندی سے کئی سال پہلے، انڈین فلموں پر پہلی پابندی اصل میں سنیما مالکان نے 1960 میں خود لگائی تھی۔ اس وقت بھی جذبات میں آ کر انڈین فلمیں غیر سرکاری طور پر ممنوع کردی گئیں تھیں۔ اُس اقدام کے منفی اثرات کو سامنے آنے میں کچھ وقت لگا (اس وقت نہ تو ٹی وی تھا، نہ وی سی آر، نہ ڈِش، نہ انٹرنیٹ)۔ لیکن میرے خیال میں پاکستانی فلموں اور سنیما کے زوال کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

Image caption انڈین پروڈیوسرز کی تنظیم بیان کو سلمان خان، مہیش بھٹ، کرن جوہر اور اوم پوری جیسے نامور فلمسازوں اور اداکاروں نے سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

اس عاقبت نااندیش پروٹیکشن ازم نے پاکستانی فلموں کا بیڑا ڈبو دیا۔ چونکہ اس وقت کسی اور طرح کا مقابلہ نہیں تھا تو کچھ عرصہ پاکستانی فلموں نے خوب بزنس کیا، لیکن معیار بھی گرتا گیا اور چربہ فلموں کا رجحان بھی زور پکڑتا گیا۔ پھر مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے سے انڈسٹری کا ایک اہم حصّہ ختم ہو گیا۔ اور جب اصل چیلنج سامنے آیا، ٹی وی اور ہوم وڈیو کی شکل میں، تو انڈسٹری میں وہ طاقت ہی نہ رہی تھی کہ وہ اس کا مقابلہ کر سکے۔

سوال لیکن یہ کھڑا ہوتا ہے کہ پاکستان کے سنیما مالکان نے یہ تاریخ جانتے ہوئے ایسا قدم کیوں اُٹھایا؟ میرا اندازہ یہ ہے کہ اپنی طرف سے اُنھوں نے کچھ چالاکی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ پچھلی عید پر تین پاکستانی فلمیں لگیں، جنہوں نے مجموعی طور پر خاصا اچھا بزنس کیا۔ وہ فلمیں ابھی تک چل رہی تھیں۔ آگے محرم الحرام کا مہینہ آ رہا تھا، جس میں ویسے بھی سنیما جانے کا رجحان کم ہو جاتا ہے اور کم از کم دو روز سنیما بند رہتے ہیں۔ پھر کوئی بڑی فلم اکتوبر کے آخر تک ریلیز نہیں ہو رہی۔ میرے خیال میں سنیما مالکان نے سوچا کہ یہ موقع اچھا ہے اپنی حُب الوطنی کے اظہار کا۔ ایسی حُب الوطنی جس سے بظاہر سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ایگزھیبٹرز ایسوسی ایشن نے شاید یہ سوچا ہے کہ کچھ ہفتوں میں معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا، جس کے بعد وہ دوبارہ انڈین فلموں کی نمائش پر سے پابندی ہٹا دیں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایسی چالاکیوں کا نتیجہ ضروری نہیں وہی ہو جیسا کہ آپ امید رکھتے ہیں۔ تاریخ ایسی کئی چالاکیوں سے بھری پڑی ہے جن کا انجام توقع سے کچھ اور ہوا ہے۔ کل کو سیاسی حالات اور بھی بگڑ سکتے ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ آپ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ پہلے بھی 45 سال لگے تھے اس فیصلے کو تبدیل کرنے میں جو سنیما مالکان نے اپنے اوپر مسلط کیا تھا۔ اس دفعہ اگر دوبارہ کچھ گڑبڑ ہو گئی تو اُن کے پاس کسی اور پر الزام لگانے کا جواز بھی نہیں ہوگا!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں