انڈیا سے ’ڈانسنگ گرل آف موہنجودڑو‘ کی واپسی کا مطالبہ کریں گے: جمال شاہ

ڈانسنگ گرل تصویر کے کاپی رائٹ National Museum

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے سربراہ، معروف مصور اور اداکار جمال شاہ نے کہا ہے کہ وہ یونیسکو کے ذریعے انڈیا سے 'ڈانسنگ گرل' کے مجسمے کی واپسی کا مطالبہ کریں گے اور اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

جمال شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈانسنگ گرل' کا مجسمہ موہنجودڑو سے دریافت ہوا تھا اور اس کو تقسیم ہند سے قبل ایک نمائش کے لیے انڈیا لے جایا گیا اور یہ کبھی واپس نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ 'ڈانسنگ گرل' مجسمہ پاکستان کا مستند ورثا ہے جو سندھ کی زمین موہنجودڑو سے کھدائی کے دوران ملا تھا۔

'میں تو کئی بار اس بات کا مطالبہ کر چکا ہوں بطور پاکستانی اور ایک آرٹسٹ کے کہ اس مجسمے کی واپسی کا مطالبے کیا جائے۔ لیکن اب پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل کے ناطے میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ذریعے انڈیا سے اس مجسمے کی واپسی کی کوشش کروں گا۔'

یاد رہے کہ 'ڈانسنگ گرل' مجسمہ اس وقت انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے نیشنل میوزیئم میں ہے۔

انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ اوڑی حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

'میں تو پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں۔ اس مجسمے کی انڈیا سے واپسی کے مطالبے کا تعلق دونوں ملکوں میں جاری حالیہ کشیدگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔'

انھوں نے ڈانسنگ گرل کے بارے میں بتایا 'ڈانسنگ گرل آف موہنجودڑو وادی سندھ کی تہذیب کا اہم حصہ ہے۔ ہماری تہذیب کی جو چیزیں بھی جہاں بھی ہیں ان کی واپسی کے لیے مطالبہ کرنا اور ان کی واپسی کے لیے کوشش کرنا ہمارا حق ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اسی طرح پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس مصورہ امرتا شیرگل کی ایک تصویر بھی غائب ہو گئی تھی۔

'وہ پینٹنگ اب معلوم ہوا ہے کہ انڈیا میں ہے۔ ظاہر ہے کسی نے چرا کر انڈیا میں بیچی ہو گی۔ اور بطور ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے کے میں یہ معلوم کرواؤں گا کہ یہ کس کا کام تھا اور انڈیا میں جس کے پاس بھی وہ پینٹنگ موجود ہے ان سے درخواست کروں گا کہ وہ یہ پینٹنگ واپس کر دیں۔'

'ڈانسنگ گرل' مجسمہ تانبے کا بنا ہوا ہے اور یہ ساڑھے چار ہزار سال پرانا ہے۔ یہ مجسمہ ساڑھے دس سینٹی میٹر لمبا ہے اور اس کو سنہ 1926 میں موہنجودڑو میں کھدائی کے دوران دریافت کیا گیا تھا۔

برطانوی ماہر آثار قدیمہ مورٹیمر وہیلر نے اس مجسمے کو دریافت کیا تھا۔ انھوں نے اس مجسمے کو کچھ اس انداز میں بیان کیا: 'میرے خیال میں یہ ایک 15 سالہ لڑکی ہے جس نے صرف بازوؤں پر اوپر تک چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ یہ ایک پراعتماد لڑکی ہے۔ میرے خیال میں اس جیسی دنیا میں کوئی اور نہیں ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں