منٹو کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہا ہوں: نواز صدیقی

منٹو تصویر کے کاپی رائٹ NANDITA DAS
Image caption انڈیا کی اداکارہ نندتا داس معرف افسانہ نگار منٹو کی زندگی پر ایک فلم بنا رہی ہیں

بالی وڈ کے اداکار نوازالدین صدیقی اداکارہ اور ہدایتکارہ نندتا داس کی معروف فکشن نگار سعادت حسن منٹو کے بارے میں فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ نوازالدین نے اس بارے میں بی بی سی کے سشانت موہن سے گفتگو کی۔

'میں جب نندتا داس سے ان کے گھر پر ملا تو انھوں نے کہا کہ میں ہی ان کا منٹو ہوں۔ وہ پہلے ہی مجھے اس کردار میں لینے کے لیے ذہن تیار کر چکی تھیں۔

'نندتا کا خیال ہے کہ میں زندگی بہت زیادہ جی اور دیکھ چکا ہوں۔ میرا تو پتہ نہیں لیکن منٹو نے زندگی بہت جی اور وہ آج بھی پہلے جتنے ہی حسب حال نظر آتے ہیں۔

'میں خوش قسمت ہوں کہ ان کا کردار ادا کر رہا ہوں۔ بطور اداکار میں نے کئی کردار نبھانے اور سٹیج کے لیے ادب پڑھا ہے لیکن منٹو کو پڑھنے کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ وہ عظیم لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔

'لیکن منٹو کا کردار نبھانا آسان نہیں ہے۔ ان کا دائرہ بڑا ہے۔

'وہ باصلاحیت آدمی تھے اور جب ان کو پردے پر اتارنے کی باری آتی ہے تو بہت کچھ پڑھنا پڑتا ہے، تلاش کرنا پڑتا ہے، تاہم سوچنے کا زیادہ کام نندتا کا ہے۔ وہ یہ طے کریں گی کہ بطور ڈائریکٹر وہ اپنے آرٹسٹ اور اپنے تیار کردہ ردار سے کیا چاہتی ہیں۔

'لیکن بطور ایک اداکار مجھے اس منٹو اور اصل منٹو کے جوہر کو ضم کرنا پڑے گا اور یہ واقعی مشکل کام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CRISPY BOLLYWOOD
Image caption نواز الدین صدیقی ایک منجھے ہوئے اداکار ہیں

'وہ کمال کے مصنف تھے۔ ان پر فلم بنانا پیچیدہ کام ہے۔ میں 22 سالوں سے انھیں پڑھتا رہا ہوں۔ بھلے ہی ان کی زندگی سے زیادہ واقف نہیں لیکن ان کی کہانیوں سے میرا ربط رہا ہے ۔

'میں نے بطور خاص ان کی چھوٹی کہانیاں پڑھی ہیں۔ ان پر بننے والے ڈرامے کا حصہ رہا ہوں۔ وہ صرف ترغیب نہیں رونگٹے کھڑی کر دینے والی کہانیاں لکھتے تھے جو صرف وہی لکھ سکتے تھے۔

'ان کی کسی ایک کہانی کا نام لے کر میں ان کے کام کو محدود نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ان کی ہر کہانی میں ایک مختلف کوشش، کشش اور کشمکش ہے۔

'یہ آج کے حالات پر اتنی ہی درست ہے جتنی اس وقت تھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے آج ہی اس آدمی نے یہ لکھا ہو۔

'اس کردار کے لیے تیاری کرتے ہوئے ایک خاص بات محسوس ہوئی۔ یہ شاید اچھا ہے کہ منٹو کی صرف تصاویر اور کہانیاں ہیں۔ ایسے میں میں جو بھی کر دوں گا لوگ مان لیں گے کہ منٹو ایسے ہی ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NANDITA DAS
Image caption نندتا داس آرٹ فلموں میں اداکاری کے لیے معروف ہیں

'اس کردار کی تیاری کے لیے تو صرف مجھے ان کی باڈی لینگویج سمجھنی ہے اور پھر سکرین کا کام ہو جائے گا۔ لیکن چہرے کے وہ جذبات اور تناؤ لانے کے لیے مجھے انھیں سمجھنا ہوگا۔

'کیا، کس طرح، کب اور کتنا اس کا جواب نندتا (فلم کے ڈویلپر ڈائریکٹر) بہتر دے سکتی ہیں۔.

'میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ فی الحال منٹو کی منٹوئيت کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں