’انڈین ڈراموں کی فینٹسی کبھی کبھی اچھی لگتی ہے‘

Image caption ناصر مسیح تسلیم کہتے ہیں پاکستانی ڈراموں میں پہلے وہ مزہ نہیں رہا تھا اس لے انڈین ڈراموں نے جگہ بنالی۔

'اتنے عرصے سے ہم ’تھپکی‘ کو دیکھ رہے تھے۔ اب دل اداس ہو جائے گا۔ ڈراموں کا کیا لینا دینا ہے ملکوں کی لڑائی سے، انہیں کیوں بند کرتے ہیں؟'

پاکستان میں پیمرا کی جانب سے انڈین چینلز اور مواد نشر نہ کرنے کے فیصلے پر یہ مایوس سا ردِ عمل تھا مسز وحید کا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔ گھر کے کاموں سے فراغت کے بعد یہی انڈین ڈرامے ان کی تفریح کا باعث تھے۔

مرد حضرات کی بڑی تعداد کی ایک ہی رائے ہے کہ 'یہ بہت اچھا اقدام ہے'، لیکن عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ڈرامہ خواتین میں انتہائی مقبول ہیں۔ کچھ خواتین ڈراموں سے اپنی وابستگی تسلیم تو کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ کہتی ہیں 'چلو اچھا ہوا بند ہو گئے اب گھر کے کام وقت پر ہو جائیں گے۔'

راجہ ساجد کو زیادہ شکایت ان ڈراموں کی طوالت سے بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں 'ان ڈراموں کی وجہ سے نئی نسل خراب ہو رہی تھی۔ بچے ہر وقت ڈراموں کی وجہ سے ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے تھے۔ ایک ڈرامے میں تو ہیروئیں کے بچوں کی بھی شادیاں ہو گئی ہیں سات سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا اسے۔'

Image caption لوگ جب اپنی سوچ سے مختلف چیز دیکھتے ہیں تو انہیں اچھی لگتی ہے

ناصر مسیح تسلیم کہتے ہیں پاکستانی ڈراموں میں وہ مزہ نہیں رہا تھا اس لے انڈین ڈراموں نے جگہ بنالی۔

ان کا کہنا تھا 'انڈین پروڈکشن کا معیار یہاں سے اچھا ہے۔ یہاں بھی بہتر کیمرہ، بہتر لباس اور میک اپ سے چیزوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ‘

مردوں کو شکایت ہے کہ انڈین ڈراموں میں ساس بہو اور خاندانی لڑائیاں دیکھ دیکھ کر گھروں کا ماحول خراب ہو رہا تھا لیکن خواتین ان ڈراموں میں کچھ اور بھی تلاش کرتی ہیں۔

سنبل ارشد بھی انڈین مواد پر پابندی سے خوش نہیں۔ انہیں لگتا ہے ملکوں کی لڑائیاں عوام کی تفریح کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہیئں کیونکہ وہ اور ان جیس کئی دوسری خواتین تو ان ڈراموں میں فیشن کے نئے انداز، کپڑے اور زیور دیکھ کر خوش ہو جاتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا 'ان کے لباس دیکھ کر ہم بھی کچھ سیکھ لیتے ہیں اور اچھے اچھے کپڑے بنا لیتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ COLORS TV
Image caption خواتین کو ان ڈراموں میں کپڑے اور زیور بھی متاثر کرتا ہے

دس برس کی جینیفر زویا بھی ’ناگن‘ اور ’تھپکی‘ جیسے ڈراموں کی دلدادہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں انہیں انڈیا کی پیاری پیاری اداکارائیں اچھی لگتی ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ وہ زیادہ اداس نہیں کیونکہ اگر ڈرامے نہیں ہوں گے تو وہ کارٹون دیکھ لیں گی۔

مسز فاطمہ کمال کہتی ہے 'اگر بات ملکی مفاد کی ہے تو ٹھیک ہے لیکن لوگوں کی تفریح کے لیے اور ہے کیا؟ پاکستانی مواد ویسے بھی کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے حتٰی کہ خبروں میں یہ لوگ انڈین گانے ہی استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو ہمیں اصلی چیز ہی دیکھنے دیں۔'

Image caption راجہ ساجد انہیں زیادہ شکایت ان ڈراموں کی طوالت سے بھی ہے

مہرین مغل کو افسوس ہے کہ انڈین شوبز کی کچھ نامور شخصیات نے پاکستان اور یہاں کے فنکاروں کے حوالے سے اچھے بیانات نہیں دیے اس لیے وہ سمجھتی ہے کہ یہاں انڈین مواد پر پابندی بھی جائز ہے۔

مہرین کا کہنا تھا 'انڈین انڈسٹری بھی پاکستانی فنکاروں کو استعمال کر رہی ہے یعنی کہ یہ اچھے فنکار ہیں۔ تو ہمارے لوگوں کو انہیں استمعال کرکے اپنی انڈسٹری کو بہتر بنانا چاہیے۔'

سحر خالد ایک طالبہ ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ اب پاکستانی ڈراموں کا معیار پھر سے اتنا بلند ہو گیا ہے کہ انڈین ڈراموں کی مقبولیت کم ہو گئی ہے۔

'انڈین ڈراموں میں تو وہی گھسی پٹی ساس بہو کی کہانیاں ہوتی ہیں جبکہ پاکستانی ڈراموں میں حقیقی زندگی سے قریب تر کہانیاں ملتی ہیں۔ اب یہ زیادہ مقبول ہے حتی کے انڈیا میں بھی۔ اچھا ہے کہ یہ پابندی لگ گئی کیونکہ جو لوگ پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھ رہے تھے اب وہ بھی دیکھیں گے۔ '

چودہ سالہ ہاجرہ سکول کی طالبہ ہیں وہ بھی انڈین ڈراموں کی شوقین تھیں۔ بُجھے دل کے ساتھ ان کا کہنا تھا 'اچھا ہی ہوا بند ہو گئے کیونکہ ڈرامہ لگا ہوتا تھا تو سبق پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا تھا۔ اب پڑھائی پہ دھیان دیں سکیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ COLORS TV
Image caption ’جو حقیقی زندگی میں بھی ہے اسے سکرین پر دیکھنے سے نیا پن محسوس نہیں ہوتا‘

نازیہ شاہین کا خیال الگ ہے وہ کہتی ہیں انہیں یہ فیصلہ بالکل اچھا نہیں لگا کیونکہ پہلے دونوں ملکوں کی تہدیب کا امتزاج دیکھنے کو ملتا تھا اور اب پھر سے یکسانیت کا شکار ہو گئے ہیں۔

'پاکستانی ڈراموں میں ایک ہی کہانی آحر تک چلتی ہے جبکہ انڈین ڈراموں میں ڈرامہ بازی ہوتی ہے۔ وہ کہانی میں اتنی بہت سی چیزیں ڈال دیتے ہیں کہ اچھی انٹرٹینمنٹ ہو جاتی ہے۔'

نازیہ ڈراموں پر پابندی کے عام مطالبے کے لیے دی جانے والی اس توجہیہ سے متفق نہیں کہ انڈین ڈراموں میں دکھائے جانے والے رویے حقیقی زندگی جیسے قطعی نہیں ہوتے۔

'لوگ جب اپنی سوچ سے مختلف چیز دیکھتے ہیں تو انہیں اچھی لگتی ہے۔ اگر حقیقی زندگی ہی ٹیلی وژن پر بھی دیکھنے کو ملے گی تو آپ کو چینج تو نہیں ملے گا نا۔ کوئی نیا پن نہیں ہوگا۔'

'ہمیشہ چیز وہی اچھی لگتی ہے جو آپ کی توقع کے برعکس ہو۔ جیسے ناگن ڈرامہ ایک فیٹیسی ہے۔ کبھی کبھی فینٹسی بھی اچھی لگتی ہے۔'

انڈین ڈرامے اور تفریحی پروگرامز دیکھنے والے ہوں یا اسے محض وقت کا زیاں سمجھنے والے دونوں ہی ایک بات پر متفق ہیں کہ لڑائی جھگڑا ثقافت اور تفریح کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیئے۔

Image caption مہرین مغل کے بقول چونکہ انڈین شوبز کی کچھ نامور شخصیات نے پاکستان کے حوالے سے اچھے بیانات نہیں دیے اس لیے انڈین مواد پر پابندی بھی جائز ہے

اسی بارے میں