پیمرا کے انڈین مواد پر پابندی کے فیصلے سے کیبل آپریٹرز کی مایوسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیمرا کے مطابق انڈین تفریحی مواد پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے ٹی وی چینلز ارو ایف ایم ریڈیوز کا لائسنس بغیر شوکاز نوٹس جاری کیے معطل کر دیا جائے گا

پاکستان میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کی جانب سے سٹیلائیٹ ٹی وی چینلز اور ریڈیو پر انڈین مواد نشرکرنے پر جمعے سے پابندی ہو گی تاہم اس فیصلے پر ملک میں کیبل آپریٹرز مایوسی کا شکار ہیں۔

پیمرا کے اس فیصلے سے پاکستان بھر کے کیبل آپریٹرز متاثر ہوئے ہیں کیونکہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب ان میں سے بیشتر کیبل آپریٹرزنے کیبل کے نظام کو اینالاگ سے ڈیجیٹل پر منتقل کیا تھا۔

راولپنڈی کے ایسے ہی ایک کیبل آپریٹر چوہدری شکیل احمد نےبی بی سی کو بتایا کہ انڈین چینلز پر پابندی سے انھیں لاکھوں کا نقصان ہوا ہے کیونکہ اضافی چینلز فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل باکس خرید کر فروخت کیے تھے۔

'ڈیجیٹل لانچ پہ میرا کوئی ستر لاکھ کاخرچہ آیاتھا۔ ہم نے پانچ سےچھ سو باکسز فروِخت کیے ہوئےتھے۔انڈین چینلز بند ہونےکی وجہ سےوہ تمام سرمایہ زیرو ہوگیا ہے۔'

٭ پیمرا نے مشرف دور میں انڈین مواد پر دی گئی یکطرفہ رعایت منسوخ کر دی

چوہدری شکیل نے بتایا کہ 'صارفین کا رویہ ایسا ہےکہ اپنا باکس واپس لیں اور پیسے واپس دیں۔ یہی چینلز دیکھتے ہیں وہی بند کر دیے ہیں، جوچینلز اینالاگ پر آتے ہیں وہی ہم نے ڈیجیٹل پر نہیں دیکھنے۔اسی لیے ہمارا 70 لاکھ کا نقصان ہوگیا ہے۔'

فی الوقت کیبل آپریٹرز پیمرا سے منظور شدہ 122 چینلز ڈیجیٹل اور اینالاگ سروسز پہ فراہم کر رہے ہیں۔ واضح رہےکہ ڈیجیٹل باکس کے ذریعے خریدے جانے والے اضافی چینلز تاروں کے ذریعے فراہم کی جانے والی کیبل سروس سے مہنگے پڑتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ'حکومت کم از کم ہمیں ہمارے ڈیجیٹل کی مد میں لگے سرمایے کو پورا کرنے دیتی تو اس حوالے سے یونین جو بھی فیصلہ کرے گی سب کا اُس پر سب کا چلنے کا ارادہ ہے۔'

پاکستانی ٹی وی سکرینوں پر انڈین مواد اور چینلز کی بندش کے بارے میں عوام میں ملاجلا ردعمل ہے۔

ایک شخص نے کہا کہ'انڈیا کی معیشت کا کافی دارومدار اس کی فلم انڈسٹری پر ہے تو ہم ان کی فلمیں کیوں دیکھیں یا ان کے چینلز کیوں دیکھیں۔ بالکل ٹھیک اقدام اٹھایا حکومت نے۔'

گروپ کی شکل میں ملنے والی بعض خواتین نے گلا کیا کہ'پاکستانی ٹی وی چینلز پہ تو کوئی ڈھنگ کے تفریحی پروگرام نہیں آتے۔ انڈین چینلز دیکھ لیا کرتے تھے اب وہ ہی بند کر دیے گئے ہیں'۔

Image caption پیمرا نے ملک میں غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ ( ڈش ریسیورز) کی فروخت اور سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے

ایک نوجوان نے حل تجویز کرتے ہوئے کہا کہ'میں انڈین فلموں اور گانوں سمیت ان کے مزاحیہ شوز بے حد شوق سے دیکھا کرتا تھا۔ اب ٹی وی پر نہیں دیکھوں گا تو کیا ہوا، انٹرنیٹ اور ڈی وی ڈیز پر یہ سب دیکھ لیا کروں گا۔'

عوام کا ایک حلقہ ان چینلز کی بندش کےحق میں نظر آئی۔

ان کا مؤقف تھا کہ ہم انڈین چینلز کو کیوں فروغ دیں جبکہ اس پابندی کی مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ پاکستانی چینلز پر کوئی خاص تفریحی پروگرام نہیں دکھائے جاتے اور وہ صرف نیوز دیکھنے کے لیے ٹی وی نہیں لگاتے۔

عوام کی رائے جو بھی ہو لیکن لگتا یہ ہے کہ حکومت نے انڈین چینلز کو نشر کرنے کے خلاف جو فیصلہ کیا ہے اُس پر تندہی سے قائم ہے اور اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے پیمرا چھاپے بھی مار رہی ہے۔

اسی بارے میں