’باب ڈِلن کا نوبل انعام نظرانداز کرنا تکبر ہے ‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption واسٹبرگ نے کہا کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ باب ڈلن دس دسمبر کو انعام حاصل کرنے کے لیے سٹاک ہولم جائیں گے یا نہیں

نوبل انعام دینے والی اکیڈمی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ مشہور گلوکار اور نغمہ نگار باب ڈِلن کی جانب سے ادب کا نوبل انعام قبول نہ کرنا ’نا شائستہ اور تکبرانہ‘ ہے۔

مشہور گلوکار 75 سالہ باب ڈِلن کو گذشتہ ہفتے اِس برس ادب کا نوبل انعام ديا گيا تھا۔

تاہم سویڈش اکيڈمي کی جانب سے باب ڈِلن کے ساتھ رابطے کے لیے کی جانے والی تمام تر کوششیں ناکام رہیں اور گلوکار نے عوامی سطح پر اس انعام کو قبول نہیں کیا۔

اکڈیمی کے رکن واسٹبرگ نے سویڈش ٹیلی ویژن کو بتایا: ’وہ ہیں جو وہ ہیں، ڈِلن کی جانب سے اس خبر کو نظر انداز کرنا کچھ حیران کن تھا۔‘

رکن نے ایک اور انٹرویو میں سویڈن کے ڈیگنز ناہیٹر کو بتایا کہ ’ہم یہ جانتے تھے کہ وہ ایک مشکل شخصیت ہیں اور جب وہ سٹیج پر تنہا ہوتے ہیں تو کسی اور کو پسند نہیں کرتے۔‘

گذشتہ ہفتے باب ڈلن کی ویب سائٹ سے انعام کا حوالہ ہٹا دیا گیا تھا۔

مسٹر واسٹبرگ نے مزید کہا کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ باب ڈلن دس دسمبر کو انعام حاصل کرنے کے لیے سٹاک ہوم جائیں گے یا نہیں۔ اگر وہ نہ گئے تو ان کے کریئر سے متعلق تقریب ویسے ہی ہوگی جیسا کہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

واسٹبرگ نے اسے ’بے مثال‘ کہا ہے لیکن اس سے قبل 1964 میں بھی ایک شخصیت ادب کے نوبل انعام سے انکار کر چکے ہیں اور وہ فرانس کے مصنف اور فلسفی شان پال سارتر تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں