راج ٹھاکرے کے تین مطالبات، ’فلم کے آغاز میں اوڑی کا پیغام چلائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ DHARMA PRODUCTION
Image caption فلم اے دل ہے مشکل طے شدہ تاريخ 28 اکتوبر کو ریلیز ہونا ہے

انڈیا کی فلم اینڈ ٹیلی ویژن پرڈيوسرز گلڈ کے صدرمکیش بھٹ کا کہنا ہے کہ گلڈ نے فیصلہ کیا کہ ’ہم پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہیں کریں گے‘۔

انھوں نے یہ بات بالی وڈ فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کی ریلیز کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات کے حوالے سے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنويس، ہدایت کار کرن جوہر اور مہاراشٹر نونرمان فوج کے سربراہ راج ٹھاکرے کے درمیان سنیچر کو ملاقات کے بعد کہی۔

انھوں نے کہا ’اس اجلاس میں لوگوں، فوجیوں اور پورے ملک کو ذہن میں رکھتے ہوئے گلڈ نے فیصلہ کیا کہ ہم پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہیں کریں گے، ہم گلڈ کا اجلاس بلا کر اس تجویز کو منظور کریں گے۔‘

٭ ’حالات بدل گئے،اب پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہیں کروں گا‘

٭ پاکستانی اداکاروں والی فلمیں نہ دکھانے کا فیصلہ

اس دوران ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے 'اے دل ہے مشکل' کی ریلیز کو حوالے سے جاری احتجاج ختم کرنے کا کہا. تاہم ساتھ ہی انھوں نے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں بتایا کہ انھوں نے اجلاس میں تین مطالبات بھی کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرن جوہر کو فوجی ویلفیئر فنڈ میں پانچ کروڑ روپے جمع کرواناہوں گے

ان کے مطابق: ’ایم این ایس کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ فلم کے آغاز میں اوڑی اور اس سے قبل شہید ہونے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے، دوسرا مطالبہ یہ کہ فلمساز تحریری طور پر دیں کہ مستقبل میں پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہیں کریں گے، اور تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ پاکستانی فنکاروں کو فلم میں لینے والے ہدایت کار فوج ویلفیئر فنڈ میں پانچ کروڑ روپے جمع کروائیں۔‘

راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ ’آج تک کئی بم دھماکے ہوئے، مکیش بھٹ اور کرن جوہر سے میں نے کہا کہ پاکستان میں وہ آپ کی فلموں اور آپ کے مواد پر پابندی لگاتے ہیں تو آپ کیوں پاکستانی فنکاروں کے لیے سرخ كارپٹ بچھاتے ہیں؟‘

دوسری جانب مکیش بھٹ نے اجلاس کے بعد کہا کہ ’اجلاس مثبت رہا، میں نے کہا کہ ہم پہلے انڈین ہیں، ہمارے لیے بھارت سب سے اہم ہے۔‘

مکیش بھٹ کا کہنا تھا کہ ’اس اجلاس میں لوگوں، فوجیوں اور پورے ملک کو ذہن میں رکھتے ہوئے گلڈ نے فیصلہ کیا کہ ہم پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہیں کریں گے، ہم گلڈ کا اجلاس بلا کر اس تجویز کو منظور کریں گے۔‘

Image caption راج ٹھاکرے نے فلم اے دل ہے مشکل کے حوالے سے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا پر ساتھ تین مطالبات بھی سامنے رکھے

انھوں نے کہا کہ ’کرن جوہر نے تجویز پیش کی ہے کہ وہ اوڑی کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے فلم شروع ہونے سے قبل ایک پیغام دکھائیں گے۔ وہ فلم کی شروعات میں اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنے سے پہلے شہداوکو خراج تحسین پیش کریں گے۔‘

خیال رہے کہ فلم ’اے دل ہے مشکل‘ میں پاکستانی اداکار فواد خان کا کاسٹ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ فلم تنازعات کا شکار ہوگئی ہے۔

مکیش بھٹ نے کہا کہ فلم طے شدہ تاريخ 28 اکتوبر کو ہی ریلیز ہوگی۔

ان کے مطابق ’فلم چلے یا نہ چلے فوج کے ویلفیئر فنڈ میں بھی کرن جوہر اور دوسرے صنعت کار نے حصہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا: ’اس کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا، یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کیا گیا ہے کیونکہ فوجیوں نے ملک کے لیے جان دی ہے، اس کے بدلے میں یہ چھوٹا سا حصہ ڈال رہا ہوں.‘

تصویر کے کاپی رائٹ CRISPY BOLLYWOOD

مکیش بھٹ کا کہنا تھا کہ ’سارا تنازع ختم ہو گیا ہے، انتہا پسندی کی وجہ سے ایک انڈین کا دوسرے انڈین سے جو تنازع ہوا تھا وہ ختم ہوگا۔ اب ’اے دل ہے مشکل‘ وقت پر ریلیز ہوگی اور ہم سب کو دیوالی کی مبارکباد دیتے ہیں.‘

خیال رہے کہ ممبئی کے ایک تھیٹر میں فلم کی سكریننگ پر ایم این ایس کے کارکنوں نے ہنگامہ کیا تھا جس کے بعد ایم این ایس کے 12 کارکنوں کو عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔

فلم 'اے دل ہے مشکل' میں ایشوریہ رائے بچن، رنبير کپور، انوشکا شرما کے ساتھ پاکستانی اداکار فواد خان بھی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں