انڈیا: ’اے دل ہے مشکل‘ سخت حفاظتی انتظامات میں ریلیز

پاکستانی اداکاروں کی وجہ سے متنازع بننے والی کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ انڈیا کے سینکڑوں سینیما ہالز میں جمعے کو آخرکار نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔

ریلیز ذرا مشکل سے ہوئی لیکن فلم دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ فنکاروں کو سیاست سے الگ ہی رکھا جانا چاہیے چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔

اے دل ہے مشکل میں مشہور پاکستانی اداکار فواد خان بھی ہیں اور اس وجہ سے مہارشٹر کی ایک سخت گیر قوم پرست جماعت ایم این ایس اس کی نمائش کی مخالفت کر رہی تھی۔

فلم کی ریلیز کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور سینیما ہالز کے باہر امن و امان قائم رکھنے میں نیم فوجی دستے دہلی پولیس کی مدد کر رہے تھے۔

لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ ’فرسٹ ڈے فرسٹ شو‘ دیکھنے پہنچے جن میں میگھا بھی شامل تھیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’فواد خان کا زیادہ بڑا کردار نہیں تھا، ہم اس سے زیادہ بڑے کردار کی امید کر رہے تھے۔‘

ان کے ساتھی تشار کہتے ہیں کہ جب فواد خان پہلی مرتبہ سکرین پر نظر آئے تو فلم دیکھنے والوں کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں تھا:’ نہ لوگ خوش تھے، نہ پریشان تھے۔‘

میگھا کہتی ہیں کہ’فواد خان کو یہاں لوگ بہت پسند کرتے ہیں، ان کے خلاف کسی کے دل میں کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ کسی بھی فنکار کی فلم ریلیز ہونے میں کوئی دشواری نہیں آنی چاہیے بس ان کا کام اچھا ہونا چاہیے۔۔۔جب ہم ان سب کو پسند کرتے ہیں، ان کے ہنر سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو پابندی کی بات کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

ایک اور نوجوان پارتھک کہتے ہیں کہ ’فلم کا پہلا ہاف بہت اچھا ہے لیکن دوسرے ہاف میں کہانی تھوڑی بورنگ ہو جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کے ساتھی شوریہ کہتے ہیں کہ’فلم میں دکھایا گیا ہے کہ دوستی کیسی ہونی چاہیے اور کیسے لائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔‘

یہ دونوں ہی باتیں آج کل انڈیا اور پاکستان کے رشتوں پر صادق آتی ہیں۔

شوریہ کے مطابق ’دونوں ملکوں کے درمیان دوستی ہونی چاہیے لیکن انہیں یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ کیا چیزیں نہیں کرنی چاہییں۔۔۔ اور بات چیت ضرور دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔‘

فواد خان کے ایک مداح آشو کہتے ہیں کہ ’میں ایک جمہوری ملک کا شہری ہوں اور میں مانتا ہوں کہ فن کس سرحد کا محتاج نہیں ہوتا۔۔۔ایک فنکار کے لیے فن ہی اس کا ملک اور اس کا مذہب ہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ فلم پاکستان میں بھی ریلیز ہونی چاہیے تاکہ انہیں بھی معلوم ہو کہ انڈیا میں لوگ کیسے رہتے ہیں۔‘

ایم این ایس اور اس سے نظریاتی مماثلت رکھنے والی کچھ تنظیمیں اے دل ہے مشکل کی نمائش کی مخالفت کر رہی تھیں۔ ان کا موقف ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں پاکستانی فنکاروں کو بالی وڈ میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

لیکن مہارشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فرنویس کی ثالثی میں کرن جوہر اور ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ کرن آئندہ اپنی کسی فلم میں پاکستانی اداکاروں کو نہیں لیں گے اور فوج کے ایک فلاحی فنڈ میں پانچ کروڑ روپے کا عطیہ دیں گے جس کے بعد راج ٹھاکرے نے اپنی مخالفت ترک کر دی تھی۔

اسی بارے میں