مقبول فلسطینی فلم کی تشہیر اتنی کم کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہدایتکار ہانی ابو اسعد نے بتایا ہے کہ فلم کے کرداروں کے لیے غزہ میں ہی آڈیشن کیے گئے تھے

حال میں ایک ایسی فلم دیکھنے کا موقع ملا جس نے میرا دل جیت لیا۔ یہ عربی زیبان کی فلم 'یا طیر الطّائر' ہے جسے انگریزی میں 'دا آئڈل' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ فلم غزہ کے اُس گلوکار کی کہانی ہے جس نے 2013 میں ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے گلوکاری کا مقابلہ 'عرب آئڈل' جیت کر فلسطینیوں کو خوشی اور جشن کے کچھ لمحات دیے۔

محمد عساف نامی یہ نوجوان غزہ سے کس طرح نکلا اور کن مشکلات سے گزر کر مقابلے کے مختلف مراحل پار کیے، وہ خود ہی ایک دلچسپ کہانی ہے، لیکن یہ فلم اس کہانی کو جس خوبصورتی سے ظاہر کرتی ہے وہ حیران کُن ہے۔

فلم کا تقریباً نصف حصہ محمد عساف کے پچپن کے ایک دور کے بارے میں ہے اور انوکھی بات یہ ہے کہ محمد، اس کی بہن نور، اور اس کے دو دوستوں عمر اور احمد کے کردار غزہ کے ہی کچھ بچوں نے ادا کیے ہیں۔

ہدایتکار ہانی ابو اسعد نے بتایا ہے کہ ان کرداروں کے لیے غزہ میں آڈیشن کیے گئے تھے۔

ویسے تو فلم کے تمام اداکاروں کی کارکردگی ہی کمال کی ہے لیکن بچوں خاص طور پر نور کا کردار ادا کرنے والی ہِبہ عطااللہ کی اداکاری قابلِ تحسین ہے۔

فلم کی کہانی بھی اس انداز میں بتائی گئی ہے کہ آپ پوری طرح اس میں گم ہو جاتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کی بہت سی شوٹنگ غزہ میں ہی کی گئی ہے جو کہ ایک خاصی بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس محصور علاقے میں اس کی اجازت آسانی سے نہیں ملتی ہے۔

فلم آپ کو ہنساتی بھی ہے، رُلاتی بھی ہے۔ اور فن اور موسیقی کے قوت اور انسانوں کو متحد کرنے کی اس کی صلاحیت کی بھی ہمیں یاد دلاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دسمبر 2015 میں دبئی کے عالمی فلمی میلے میں اس فلم کو پیپلز چوائس ایوارڈ ملا

لیکن اس قدر عمدہ فلم عالمی شہرت کیوں نہیں پا سکی ہے؟ یہ بات مجھے سمجھ نہیں آ رہی اور شک تو یہ ہی ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سیاسی ہو۔

یہ فلم کئی فلمی میلوں میں دکھائی جا چکی ہے۔ پچھلے سال ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں اس کی تعریفیں ہوئیں اور گذشتہ دسمبر دبئی کے عالمی فلمی میلے میں اس کو پیپلز چوائس ایوارڈ ملا اور حال میں اس کو لندن کے فلمی میلے میں بھی دکھایا گیا۔

تاہم اگر آپ اس کے ریویوز دیکھیں تو وہ بہت کم ہیں یا بہت مختصر اور جو ہیں ان میں فلم پر تنقید اس کے سیاسی یا سماجی حقیقت پسندانہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ہے حالانکہ یہ ایک دستاویزی فلم نہیں ہے۔

نوعیت کے لحاظ سے یہ فلم 'سلم ڈاگ ملینیئر' یا 'گڈ بائے لینن' سے ملتی ہے۔ سلم ڈاگ میں ممبئی کا ایک غریب بچہ 'کون بنے گا کروڑپتی' جیسا ٹی وی شو جیت جاتا ہے، اور 'گڈ بائے لینِن' میں ایک مخصوص سیاسی اور سماجی ماحول میں روز مرہ کی زندگی بیان کی گئی ہے۔

'دا آئڈل' کو فلسطینیوں کی طرف سے آسکر ایوارڈز میں بہترین غیر ملکی زبان میں بنائی گئی فلم کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ایوارڈ کا فیصلہ کرنے والے اس کو کس نگاہ سے دیکھیں گے- ایک فیچر فلم کی حیثیت سے یا پھر ایک سیاسی پروپیگینڈے کے طور پر، حالانکہ یہ ایک سیاسی فلم نہیں بلکہ ایک انسان کے فن اور عظمت کی کہانی ہے۔