ہاتھی کا شکار

نصیر الدین شاہ تصویر کے کاپی رائٹ Jeevan Hathi
Image caption نصیر الدین شاہ اپنے رول میں بہت مزہ لیتے ہیں لیکن اُن کا رول صرف چند منٹ کا 'کیمیو' ہے۔

تین سال قبل ایک چھوٹی سی فلم 'زندہ بھاگ' منظرِ عام پر آئی جس کے فلمساز اپنی پہلی فیچر فلم پیش کر رہے تھے۔ اس میں نصیرالدین شاہ کے سوا کوئی اور جانے پہچانے چہرے نہیں تھے لیکن پنجابی زبان میں ہونے کے باوجود اس نے ملٹی پلیکس اور فلم نقادوں میں دھوم مچا دی۔

سنہ 2014 میں اس فلم کو پاکستان کی طرف سے آسکر ایوارڈ کے مقابلے کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

'زندہ بھاگ' کے فلمساز، یعنی مشترکہ ہدایتکار مینُو گوَر اور فرجاد نبی اور پروڈیوسر مظہر زیدی کی دوسری فلم 'جیون ہاتھی' اب سنیما میں ریلیز کر دی گئی ہے لیکن شاید اس کو فیچر فلم کہنا مناسب نہ ہوگا۔

'جیون ہاتھی' صرف ایک گھنٹے لمبی ہے اور اصل میں انڈیا کے چینل زی ٹی وی کے لیے بنائی گئی تھی۔ زی ٹی وی نے پاکستان اور بھارت سے ایک ایک گھنٹے کی آٹھ ٹیلی فلمیں کمیشن کی تھیں، لیکن دونوں ملکوں میں حالیہ تناؤ پیدا ہونے کے بعد انھوں نے اِن فلموں کو چلانے سے گریز کیا۔

عام طور پر فلم ڈسٹری بیوٹر اتنی چھوٹی فلمیں سنیما میں پیش نہیں کرتے لیکن موجودہ حالات میں جبکہ پاکستان میں سنیماؤں کے پاس دکھانے کو فلمیں نہیں ہیں، 'جیون ہاتھی' کے فلمسازوں کے لیے یہ حالات خوش آئند ثابت ہوئے ہیں۔

'جیون ہاتھی' میڈیا پر ایک 'سیٹائر' ہے اور اس کا مرکزی خیال مزے کا ہے۔ اپنے چینل کے مارننگ شو کی گرتی ہوئی ریٹنگ کو دیکھتے ہوئے چینل کا مالک سیٹھ تبانی (نصیر الدین شاہ) شو کی ہوسٹ کو تبدیل کر کے ایک نوجوان اور زیادہ گلیمرس ہوسٹ رکھنے کا حکم دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jeenvan Hathi
Image caption 'جیون ہاتھی' اب سنیما میں ریلیز کر دی گئی ہے لیکن شاید اس کو فیچر فلم کہنا مناسب نہ ہوگا

مسئلہ یہ ہے کہ شو کی موجودہ ہوسٹ نتاشا (حنا دلپذیر) اس کی اپنی بیوی ہے۔ چینل کا چیف ایگزیکٹو 'اے ٹی ایم' (سیف حسن) نتاشا کے لیے ایک نیا پروگرام تخلیق کرتا ہے جس کا نام 'جیون ساتھی' پڑتا ہے جس میں میاں بیوی کی دو عدد جوڑیوں نے انعام کے لیے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

چینل کا خیال ہوتا ہے کہ یہ پروگرام بھی فلاپ ہو جائے گا جس کے بعد خاتونِ اوّل سے بھی اُن کی جان چھُوٹ جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ 'اے ٹی ایم' ایک جوڑی (عدنان جعفر اور سمیعہ ممتاز) اپنے رشتہ داروں میں سے بھرتی کر لیتا ہے تاکہ انعام انھی کے ہاتھ لگ جائے۔ دوسری جوڑی ایک غریب میاں بیوی (فواد خان اور کرن تعبیر) کی چُنی جاتی ہے جو میڈیا کی چالاکیوں سی ناواقف ہوتے ہیں۔

لیکن چیزیں پلان کے مطابق نہیں چلتیں۔ نہ صرف نتاشا اپنے ٹھکرائے جانے کے رنج کا اظہار عجیب و غریب طریقوں سے کرنے لگتی ہے، بلکہ پڑھے لکھے میاں بیوی بھی (غلطی سے) نشے میں آ کر پٹری سے اُتر جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شو کی ریٹنگ بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔

سکرپٹ کے لکھاری فصیح باری خان ہیں جنھوں نے ٹی وی کے لیے متعدد مقبول اور بالکل نئی طرز کی ٹیلی فلمیں اور سیریل لکھے ہیں۔ اُن میں 'برنس روڈ کی نیلوفر' اور 'قدوسی صاحب کی بیوہ' خاصے مشہور ہوئے لیکن یہاں فصیح باری خان اور ہدایتکار مینُو اور فرجاد، کہانی کے خیال کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jeevan Hathi
Image caption 'جیون ہاتھی' میڈیا پر ایک 'سیٹائر' ہے اور اس کا مرکزی خیال مزے کا ہے

'جیون ہاتھی' اُن چند فلموں میں سے ایک ہے جنھیں دیکھنے والے یہ خواہش لے کر رخصت ہوتے ہیں کہ کاش اس فلم کا دورانیہ تھوڑا طویل ہوتا۔ کردار جامع طور پر ڈیویلپ نہیں ہو پاتے اور نہ ہی کہانی صحیح طور پر اپنے انجام تک پہنچتی ہے۔

فلم میں مزاح کے کچھ لمحے ضرور آتے ہیں لیکن کم، کم اور کچھ کا اثر اداکاروں کی 'ٹائمنگ' اور تدوین کے ڈھیلے پن سے جاتا رہتا ہے۔

اداکاروں میں حنا دلپذیر اور کرن تعبیر نمایاں ہیں۔ دونوں اپنے کرداروں میں پوری طرح کھو جاتی ہیں، حالانکہ کرن کا 'بِہاری' لہجہ کہیں کہیں غائب بھی ہو جاتا ہے۔ سیف حسن اور ناپا سے سند یافتہ تھیٹر ایکٹر فواد خان اپنے کرداروں کو بخوبی نبھاتے ہیں لیکن کاش اُن کے کرداروں میں کچھ اضافی 'بیک سٹوری' ہوتی۔

عدنان جعفر اور سمیعہ ممتاز بہت ہی تجربہ کار اداکار ہیں لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ وہ سکرپٹ کے ہاتھوں یہاں مار کھا گئے ہیں۔

اگر 'جیون ہاتھی' ڈیڑھ گھنٹے لمبی ہوتی تو فلم بین اُن کی کہانی دیکھنا چاہتے، کہ ایک بہتر طبقے سے تعلق رکھنے والے کردار اس مرحلے پر پہنچے کیسے کہ وہ ایک فضول سے ٹی وی پروگرام میں ایک 60 اِنچ کے ٹی وی کے انعام کی خاطر اس میں حصّہ لینے آ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jeevan Hathi
Image caption موجودہ حالات جبکہ پاکستان میں سنیماؤں کے پاس دکھانے کو فلمیں نہیں ہیں، 'جیون ہاتھی' کے فلمسازوں کے لیے خوش آئند ثابت ہوئے ہیں

نصیر الدین شاہ اپنے رول میں بہت مزہ لیتے ہیں لیکن اُن کا رول صرف چند منٹ کا 'کیمیو' ہے۔

فلم میں کہیں کہیں ساؤنڈ کے بھی مسئلے ہیں۔ 'زندہ بھاگ' میں بھی ایک کھردرا پن تھا جو اس کی تازہ کہانی اور ٹریٹمنٹ نے ڈھانک دیا تھا لیکن اب لوگ مینُو اور فرجاد سے اونچی توقعات رکھتے ہیں۔ اُن کو آئندہ فلم کے مرکزی خیال کے علاوہ فلم کے تکنیکی 'کرافٹ' پر بھی زور دینا ہوگا۔

'جیون ہاتھی' کا ہاتھی وہ میڈیا ہے جو ہم سب کے گھروں میں موجود ہے اور جو ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس پر تبصرے کی اشد ضرورت ہے اور اس فلم کے فلمسازوں نے نشانہ بہت عمدہ چُنا ہے لیکن اس فلم کا اپنا ہاتھی وہ ایک گھنٹے کا مختصر ٹی وی دورانیہ ہے جس کی وجہ سے فلمسازوں کا نشانہ چُوک جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات