کیش نہیں اس لیے بال نہیں کٹوا رہی: نیہا دھوپیا

تصویر کے کاپی رائٹ NEHA DHUPIA TWITTER
Image caption نیہا مانتی ہے کہ بڑی فلموں میں شوپيس بننے سے کہیں بہتر ہے کہ شو کیش کی جانے والی فلمیں کی جائیں۔

بالی وڈ کی اداکارہ نیہا دھوپیا کا کہنا ہے کہ ایک ہزار اور پانچ سو کے کرنسی نوٹوں پر پابندی سے وہ بھی متاثر ہوئی ہیں لیکن لوگ ان کی مدد کر رہے ہیں اس لیے ان کا کام چل رہا ہے۔

نیہا اپنی آنے والی فلم 'موہ مایا منی' کے پروموشن کے لیے آئی تھیں جہاں انھوں نے بی بی سی ہندی کے سوشانت موہن سے اس موضوع پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوٹ پر پابندی سے تقریباً سبھی لوگ کافی پریشان ہیں لیکن اس پریشانی کے عالم میں بھی وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔

نیہا نے کہا: 'اپنے پڑوسی کو جب میں نے بتایا کہ میرے پاس کیش ختم ہو گیا ہے تو انھوں نے مجھے کچھ سو سو کے نوٹ دے دیے. وہیں میرے پھل والے نے کیش نہ ہونے کی بات پر خوشی سے کہا کہ میڈم آپ پھل لیتی رہیے، جب 2000 کی قیمت ہو جائے گی تب میں ایک ساتھ ہی لے لوں گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NEHA DHUPIA TWITTER
Image caption نیہا نے کہا کہ کالے دھن کے خلاف لڑنے کا یہ اچھا طریقہ ہے اور لوگ اپنے اپنے طریقوں سے اس مسئلے سے دو چار ہیں لیکن لوگوں کی سہولت کے لیے حکومت کو پہلے سے اس کی تیاری کرنی چاہیے تھی

نیہا نے کہا کہ کالے دھن کے خلاف لڑنے کا یہ اچھا طریقہ ہے اور لوگ اپنے اپنے طریقوں سے اس مسئلے سے دو چار ہیں لیکن لوگوں کی سہولت کے لیے حکومت کو پہلے سے اس کی تیاری کرنی چاہیے تھی۔ پھر وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں: 'میں تو ابھی بال بھی نہیں کٹوا رہی ہوں کیونکہ میرے پاس اپنے ہیئر سٹائلسٹ کو دینے کے لیے نقد پیسے نہیں ہیں۔'

نیہا دھوپيا کے ناقدین کئی بار انھیں مین سٹریم کی اداکارہ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور ان کے تعلق سے یہ بحث بھی ہوتی ہے کہ انھوں نے بڑی فلمیں نہیں کی ہیں۔

لیکن نیہا اس بات کو ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھتی ہیں: 'میں جانتی ہوں کہ میرے گھر کے آگے فلم سازوں کی لائن نہیں لگی ہے، لیکن گذشتہ 13 سالوں میں میں نے اپنی ایک ایک شناخت بنائی ہے اور میں جانتی ہوں کہ جو کام مجھے ملا ہے وہ میری قابلیت سے مل رہا ہے۔'

بڑے بینرز کی فلموں میں کام نہ کرنے کی بات پر وہ کہتی ہیں: 'دیکھیے فلموں میں محنت اتنی ہی لگتی ہے۔ موہ مایا منی، پھنس گئے رے اوباما جیسی فلمیں چھوٹے بینر کی فلمیں ہیں لیکن ان میں سکرپٹ کمال کی ہے اور گذشتہ 13 سالوں میں میں نے یہی سیکھا ہے کہ کس طرح اچھا کام کرنا ہے۔'

نیہا مانتی ہے کہ بڑی فلموں میں شوپيس بننے سے کہیں بہتر ہے کہ شو کیش کی جانے والی فلمیں کی جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NEHA DHUPIA TWITTER
Image caption نیہا کے مطابق ماڈلز جیسا نظر آنا بالکل بھی صحت مندی کی بات نہیں ہوتی اور اگر آپ ایسا کر رہی ہیں تو آپ اپنے جسم کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

نیہا دھوپیا نے باڈی شیمنگ پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی خواتین اور خاص کر نوجوان لڑکیوں کو سمجھنا ہوگا کہ ہر لڑکی کی جسمانی ساخت یا بناوٹ مختلف ہوتی ہے۔ ماڈلز جیسا نظر آنا بالکل بھی صحت مندی کی بات نہیں ہے اور اگر آپ ایسا کر رہی ہیں تو آپ اپنے جسم کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

نیہا کہتی ہیں: 'ماڈلز ایسا کرتی ہیں کیونکہ انہیں ریمپ پر کپڑوں کو شو کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ ایسا بہت سالوں تک نہیں کرتیں اور ہر لڑکی زیرو فگر نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر ایک کا میٹابولزم مختلف ہوتا ہے۔'

نیہا خود 16 سالوں سے ماڈلنگ میں سرگرم ہیں اور کہتی ہیں: 'میں کبھی زیرو فگر کی حمایت نہیں کرتی اور جو میگزین ہمارے جسم کو فوٹوشاپ کر کے دکھاتی اور شائع کرتی ہیں آپ ان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ وہ فوٹو گمراہ کن ہیں، صحت مند ہونا سیکسی بھی ہے۔'

نیہا دھوپيا کی فلم 'موہ مایا منی' 24 نومبر کو ریلیز ہو رہی ہے جس کی کہانی کالے دھن پر ہی مبنی ہے۔'

لیکن نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے لوگوں کے پاس نقد پیسوں کی کمی ہے اس لیے کتنی تعداد میں ناظرین سنیما ہال تک پہنچیں گے یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں