پشاور کے گلوکار کے لیے اعلیٰ افغان صدارتی ایوارڈ

خیال محمد
Image caption 70 سالہ خیال محمد گذشتہ کچھ عرصہ سے علیل ہیں وہ چل پھر نہیں سکتے

افغانستان نے پشاور سے تعلق رکھنے والے پشتو موسیقی کے شہنشائے غزل کہلانے والے نامور سینیئر گلوکار خیال محمد کو اعلیٰ صدارتی ایوارڈ میر بچہ خان میڈل سے نوازا ہے۔

افغانستان سے باہر کسی گلوکار کو ملنے والا یہ پہلا قومی اعزاز ہے۔

جمعرات کو پشاور میں افغان قونصلیٹ کی طرف سے ایک تقریب کا انقعاد کیا گیا جس میں پشتو گلوکار خیال محمد کو افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی طرف سے صدارتی میڈل دیا گیا۔

اس موقع پر پشاور میں متعین افغان کونسل جنرل ڈاکٹر عبد اللہ وحید پویان کی طرف سے ڈاکٹر اشرف غنی کا ایک تحریری پیغام بھی پڑھ کر سنایاگیا جس میں خیال محمد کی موسیقی کے لیے خدمات پر ان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

70 سالہ خیال محمد گذشتہ کچھ عرصہ سے علیل ہیں وہ چل پھر نہیں سکتے۔ اس موقع پر خیال محمد نے ویل چیئر پر تقریب میں شرکت کی اور اپنا ایوارڈ وصول کیا۔

انھوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے ملنے والا اعلیٰ ایوارڈ صرف ان کی خدمات کا صلہ نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے فنکاروں کےلیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے فنکار ایک ہیں اور وہ کسی صورت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش اور دعا ہے کہ ایسے اعزازات ان دیگر فنکاروں کو بھی ملنا چاہیے جنھوں نے ان سے زیادہ فن کی خدمت کی ہے۔

افغان قونصل جنرل ڈاکٹر عبد اللہ وحید پویان نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بلاشبہ خیال محمدایک عظیم فنکار ہیں اور پشتو موسیقی کےلیے ان کے خدمات کو ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ بجپن سے خیال محمد کی غزلیں سنتے رہے ہیں لیکن کبھی اس کا مزا اور مٹھاس ختم نہیں ہوئی۔

Image caption تقریب میں سیاسی جماعتوں کے رہنما، اعلیٰ سفارتی اہلکار، فنکاروں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

تقریب میں شریک خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ افغان اور پاکستانی حکومتوں کے درمیان بلا کتنے ہی اختلافات کیوں ہوں دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

انھوں نے خیال محمد کو ایوارڈ سے نوازنے پر افغان صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے پہلے تقریب میں ایک ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی جس میں خیال محمد کی فنکارانہ زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تقریباً 15 منٹ پر مشتمل یہ ڈاکومنٹری سینئیر صحافی فاروق فراق کی طرف سے پشتو زبان میں بنائی گئی ہے جس میں گلوکار کی طرف سے بجپن میں گائے گئے گانے شامل کئے گئے ہیں۔

تقریب میں سیاسی جماعتوں کے رہنما، اعلیٰ سفارتی اہلکار، فنکاروں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔