داستان گوئی کی صنف کو زندہ کرنے کی کوشش

داستان گوئی
Image caption فواد خان اور نذر الحسن نے داستان گوئی کے صدیوں پرانے فن کو زندہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے

پاکستان میں تھیئٹر کی تجدید نو کے ساتھ ساتھ بعض فنکار اپنے فن کو داستان گوئی کی صنف کے ذریعے منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تین سال پہلے کراچی میں تھیئٹر کے تین فنکاروں فواد خان، میسم نقوی اور نذر الحسن نے' داستان گو' کے نام سے ایک گروپ بنایا اور کئی صدیوں پرانی داستان گوئی کی صنف کو زندہ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس تیز اور بھاگتی دوڑتی دنیا میں طویل بیانیے والی داستانیں کیسے قبول عام حاصل کر سکتی ہیں؟

فواد خان نے بتایا کہ وہ داستان گوئی میں جدت لائے ہیں۔ 'ہم ایسے کام ڈھونڈتے ہیں جو سنانے میں مزہ آئے۔ ضروری نہیں ہے کہ ہم صرف داستانِ امیرحمزہ سے ہی چیزیں پیش کریں۔ ہم نےجدید ادب میں موجود دیگر زبانی بیانیوں کی طرف بھی ہاتھ بڑھانا شروع کیاہے۔‘

میسم نقوی نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ'جیسے ہم نےیوسفی صاحب کی آبِ گُم سے حویلی کا ایک ٹکڑا نکال کے پیش کیا، پھر عصمت چغتائی کے افسانوں کو لے کے ان کو بھی داستان کے طور پر سنانا شروع کیا اور موجودہ دور کےحساب سے اُس میں کچھ جدت کی اور کچھ انداز بھی بدلا۔ پِطرس بُخاری کی کہانیاں پیش کیں اور اسی طرح حال ہی میں ہم نے میر انیس کا مرثیہ بھی پیش کیا جو لکھا ہی سنانے کے لیے جاتا تھا۔'

داستان گو' کے فنکاروں نے پاکستان بھر کی جامعات میں داستان گوئی کی ہے اور ہر جگہ انھیں بے حد پذیرائی ملی لیکن وہ اپنے تجربے سے بتاتے ہیں کہ زبان کی شُستگی کی وجہ سے علم و ادب سے شغف رکھنے والے بیشتر بزرگ افراد اس فن میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

نذر الحسن نے بتایا کہ کراچی میں دا سیکنڈ فلور یا عرف عام میں مقبول ٹی ٹو ایف میں پہلی بار داستان پیش کرنے کے بعد انھیں ایک کال موصول ہوئی کہ 'جناب میرے شوہر کی سالگرہ ہے اور انھیں داستان بہت پسند ہے تو کیا آپ پیش کرنے کے لیے آ سکیں گے؟

’ہم تقریب میں گئے اور کیک کٹنے کے بعد ہمیں تحفے کے طور پر سامنے لایا گیا۔'

Image caption داستان گو ڈرامائی طریقے سے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں

داستان میں استعمال کی جانے والی زبان اب بمشکل کہیں برتی جاتی ہے اور عام لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہے۔ اس پرمیسم نقوی کا جواب تھا کہ ' داستان گو کا کمال یہ ہے کہ وہ ایسے پرفارم کرے کہ سننے اور دیکھنے والے کو سمجھ آ جائے کہ ہاں وہ یہ بات کہنا چاہ رہا ہے اگر وہ کوئی لفظ سمجھے بھی نہیں۔'

داستان پہ ایک بڑی تنقید یہ بھی ہے کہ اس میں خواتین کو ناموس کے لفظ میں بند کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ فواد خان اس بات سے سو فیصد اتفاق نہیں کرتے۔ انھوں نےمثال دیتے ہوئے کہاک ہ'طلسمِ ہوش رُبا میں خواتین جنگ بھی کر رہی ہیں، ملکہ بہار لشکروں کو لے کے چلتی ہے، ماہ رُخ لشکر کی قیادت کر رہی ہے۔ یہ نہیں ہوا کہ انھیں مسلمان کرنے کے بعد بولا گیا ہو کہ چلو پردو کرو اور بیٹھ جاؤ۔'

فواد خان نے مزید کہا کہ'میرا خیال ہے کہ کسی متن کو آج کے اقدار کی مطابق نہیں پرکھنا چاہیے۔ داستان کی زبان اتنی خوبصورت ہے کہ آپ اسے سرے سے رد نہیں کر سکتے مثلً کیا مہا بھارت اور دیگر کلاسیکل قصے کہانیوں میں عورتوں کو صرف ایک شے کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا تو کیا آپ انھیں بھی رد کردیں گے؟'

Image caption تھیئٹر کرنے والوں کے لیے داستان کے ٹکڑے یاد کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے: نذر الحسن

داستان بنیادی طورپر فی البدیہہ کہی جاتی ہے لیکن اب داستان کہنےکا رواج معدوم ہو چکا ہے۔ نذر الحسن نے اسی بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ' داستان قصے کہانیوں کی طرح لوگ ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ جو داستان اُس دور میں پروان چڑھی جب زبان اپنے عروج پر تھی۔ لوگ زندگی کی باریکیوں کو دیکھتے تھےاور انھیں داستان کی شکل میں فی البدیہہ کہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ حالیہ دور میں ہم ایسا نہیں کر پاتے کیونکہ ہم بہت سی چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہم جو داستانیں پیش کرتے ہیں وہ یاد کی ہوئی ہوتی ہیں۔'

نذرالحسن نے بتایا کہ لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ یاد کیسے کرتے ہیں، حالانکہ تھیئٹر کرنے والوں کے لیے یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔

فواد خان نے بتایا کہ 'ایک اچھی بات یہ ہے کہ متن کے بعض حصے شہوت انگیز ہوتے ہیں اور لوگ بہت کُھل کھیل کے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کہہ دیا۔'

داستان زبانی بیانیہ ہے یعنی زبانی کہانی سنانے کی روایت کو داستان گوئی کہا جاتا ہے۔ داستان اور ناول میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ناول پڑھنے جبکہ داستان سنانے کے لیے لکھی جاتی ہے۔

اس خطے میں ویسے تو بہت سی داستانیں مشہور ہوئیں لیکن سب سے مشہور داستانِ امیر حمزہ تھی۔جب اسے فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا تو وہ بہت پھیلتی چلی گئی۔

19 ویں صدی کے آخیر میں جب داستانِ امیر حمزہ کو چھپوانا شروع کیا گیا تو اُس کی کوئی 46 جلدیں بنیں۔ داستانِ امیر حمزہ کا ہی ایک ٹکڑا ہے طلسمِ ہوش رُبا جو نو جلدوں پر محیط ہے۔ ان 46 جلدوں کو اکٹھا کرنے اور پڑھنے اور تنقید کرنے کا کام انڈیا کے نامور نقاد شمس الرحمان فاروقی صاحب نے کیا۔

16ویں صدی میں پنپنے والی داستان گوئی کی صنف کا سلسلہ ختم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں بیتا۔ دلی کے آخری داستان گو میر باقرعلی کا انتقال 1928 میں ہوا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ داستان گوئی کے قواعد کے بارے میں زیادہ کوئی علم موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں