اعتزاز حسن کی زندگی پر فلم

سیلوٹ تصویر کے کاپی رائٹ Salute

پاکستان میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے طالب علم اعتزاز حسن کی زندگی پر مبنی ایک فیچر فلم بنائی گئی ہے۔

’سلوٹ‘ کے نام سے موسوم یہ بائیو گرافک فلم خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی سے تعلق رکھنے والے نویں جماعت کے طالب علم اعتزاز حسن بنگش کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 15 سالہ طالب علم نے تقریباً تین سال قبل اپنے گاؤں ابراہیم زئی میں ایک خودکش حملہ آور کو سکول جانے سے روکا تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کو ناکام بنانے کی وجہ سے بیسیوں طالب علموں کی زندگی بچائی گئی تھی۔

فلم کے ہدایت کار اور مصنف شہزاد رفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی بائیوپک فلم ہے جس میں ایک طالب علم کی بہادری اور قربانی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملے کے بعد ان کے ذہن میں خیال آیا کہ ایک ایسی فلم کی ضرورت ہے جس میں طالب علم کی قربانی کو اجاگر کیا جائے۔

ان کے بقول ’میں نے اس فلم میں دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے سارے دہشت گردی کے واقعات کے باوجود ہمارے بچے کتنے دلیر ہیں اور ان میں کتنا قربانی کا جذبہ ہے۔‘

ان کے مطابق اعتزاز حسن بنگش اس خطے کے ہیرو ہیں اور ان کی قربانی کو نصاب کا حصہ بننا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اپنے ہیروز کی بہادری سے واقف ہوں۔

انھوں نے کہا کہ یہ فلم کسی سرکاری یا غیر سرکاری پراجیکٹ کا حصہ نہیں بلکہ یہ ان کی خالصتًا اپنی فلم ہے جس میں کسی سے کوئی مدد نہیں لی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 15 سالہ طالب علم نے تقریباً تین سال قبل اپنے گاؤں ابراہیم زئی میں ایک خودکش حملہ آور کو سکول جانے سے روکا تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے

اس فلم کی عکس بندی دبئی اور پاکستان میں کی گئی ہے ۔ اس فلم میں معروف اداکاروں عجب گل نے اعتزاز حسن کے باپ اور صائمہ نے ماں کا کردار ادا کیا ہے جبکہ اس میں دیگر پاکستانی اداکار بھی شامل ہیں۔

فلم’ سلوٹ‘ کا پریمیئرمنگل کو لاہور میں منعقد کیا جارہا ہے جبکہ کی اس کی باقاعدہ نمائش دو دسمبر سے ملک بھر میں کی جائے گی۔

اعتزاز حسن کے بھائی مجتبی بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ انکے بھائی کی زندگی پر فلم ان کے خاندان اور علاقے کےلیے ایک بڑے اعزاز سے کم نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس فلم کے بنانے سے اعتزاز حسن کی قربانی کو مزید تقویت ملی ہے اور ان کی بہادری کا پیغام اب گھر گھر پہنچے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں