’قومی ہم آہنگی ملی نغموں سے نہیں آ سکتی‘

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کے مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان کثیر الثقافتی، مذہبی اور قومی ملک ہے، ایک مذہب، ایک زبان اور ایک ہی ثقافت کی بنیاد پر یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

کراچی آرٹس کونسل میں جاری عالمی اردو کانفرنس کی نشست 'پاکستانی زبانیں اور قومی ہم آہنگی' میں سندھی، بلوچی، پنجابی، سرائیکی اور پشتون لکھاریوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کو بھی قومی زبان کا درجہ حاصل ہونا چاہیے۔

پاکستان اکیڈمی اور ادبیات کے سربراہ ڈاکٹر قاسم بگھیو نے صدارتی تقریر میں کہا ہے کہ اپنے کلچر کو آگے بڑھانے کے لیے خود جدوجہد کرنی ہوگی۔ ابتدا میں یہ کہاگیا کہ تمام زبانیں سکھائی جائیں گی، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ زبانوں کی ترقی کے بغیر معلومات میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا، لوگ مر جاتے ہیں لیکن ثقافتیں زندہ رہتی ہیں۔

انہوں نے شرکا کو آگاہ کیا کہ آئندہ سال ملک کو کلچر پالیسی مل جائے گی۔

سندھ ادیب اور لکھاری جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ یکسانیت کی تلاش ایک خود فریبی ہے، جبکہ تنوع معاشرہ سماج کی خوبصورتی اور زندہ قوم کے وجود کی علامت ہے۔

'جہاں عید ایک دن نہ منائی جائے وہاں قومی ہم آہنگی کیسے ممکن ہے، اس کے باوجود گذشتہ 70 سالوں سے ثقافتی ہم آہنگی کو تلاش کیا جا رہا ہے۔'

جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ اس ملک کے لوگ ایک دوسرے کی ثقافت، کھانوں، موسیقی اور زبان سے پیار کرتے ہیں لیکن لوگوں کی رگوں میں زہر پھیلایا گیا ہے۔

'قومی ہم آہنگی، ملی نغموں سے نہیں آ سکتی، صرف اور صرف زبانوں اور قومیتوں کو تسلیم کرنے اور برداشت کرنے سے آ سکتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اردو ادب بھی قومی ادب ہے لیکن اس کے علاوہ سندھی، بلوچی، پنجابی، سرائیکی اور پشتوں زبان میں ادب بھی قومی ادب ہے یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سندھی انڈیا کی قومی زبان ہے لیکن اپنے دس میں اس کو یہ اعزاز حاصل نہیں۔

کراچی کی تاریخ اور عمرانیات پر کتاب کے مصنف اور محقق گل حسن کلمتی کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہی کراچی میں اردو زبان کے چاہنے والے موجود تھے، یہاں مشاعرہ ہوتے تھے اخبارات اور جرائد کی اشاعت ہوتی تھی اس قدر کے نعرے بھی اردو میں تحریر کیے جاتے تھے۔

'شہر میں موجود 30 میں سے 6 سکول اردو میں تعلیم دیتے تھے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سیاست کے لیے زبانوں کو استعمال کیا گیا۔ اس کے لیے بیورکریسی اور سیاست دانوں نے اہم کردار ادا کیا۔کوئی زبان چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، لیکن بنگال بھی زبان کی بنیاد پر تقسیم ہوا۔'

پنجابی ادب کی محقیق ڈاکٹر صغریٰ صدف کا کہنا تھا کہ یہاں ایک ثقافت، ایک مذہب، ایک زبان اور ایک کتاب کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسرے قومیتوں اور مذاہب کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔

'بسنت میرا تہوار ہے لیکن اونٹوں کی دوڑ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ثقافت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو بنگلہ دیش کیوں الگ ہوتا۔'

ڈاکٹر صغریٰ صدف نے مشورہ دیا کہ اردو کو عربی اور فارسی سے جان چھڑا کر مقامی زبانوں کو جذب کرنا چاہیے۔ پنجابی، سندھی، بلوچ اور پشتووں قوموں نے ملک کر پاکستان بنایا ایسا نہیں ہے کہ پاکستان نے انہیں بنایا۔

بلوچی زبان کے مصنف رمضان علی نے بابلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں وہ قومی زبانیں ہیں لیکن وہ بلوچی کو بین الاقوامی زبان سمجھتے ہیں کیونکہ بلوچی ترکمانستان، خلیجی ممالک اور ایران سمیت دیگر ممالک میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

'ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر زبانوں کو تقسلیم کیا جاتا ہے تو پھر کیا بطور قوم تسلیم کیا جاتا ہے۔ آج تک بلوچستان کی لوک داستانوں کا ترجمہ نہیں کیا گیا جب آپ ہمیں سمجھیں گے ہی نہیں تو پھر قومی دھارے میں کیسے شامل کریں گے۔'

ڈاکٹر نذیر تبسم نے عام زندگی میں پشتو زبان کو بگاڑنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں چوکیداروں اور مزدوروں کی قوم کہا جاتا ہے لیکن پشتون کا شمار محنت کرنے والی قوم میں ہوتا ہے وہ جہاں جاتا ہے رزق حلال کمانے جاتا ہے، خدارا ہماری زبان کو بگھاڑ نہیں جائے۔

انہوں نے بتایا کہ آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ ایم اے اردو خیبر پختونخواہ سے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں کے لوگ دیگر اقوام سے بھی رابطہ رکھنا چاہتے ہیں زبانوں کو مرنے سے بچائیے کیونکہ جب زبان مرتی ہے تو ثقافت مر جاتی ہے۔

سندھی ادیب ڈاکٹر فہمیدہ حسین کا کہنا تھا کہ گذشتہ 70 سالوں میں بھی ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی ہے، دیگر زبانوں کے ادیبوں کی اکثریت اردو ادب کو پسند کرتی ہے اور ادیبوں کو جانتی ہے لیکن اردو ادیبوں میں سے اکثر دوسرا ادب نہیں پڑھتے وہ انہیں نہیں جانتے۔

'یہاں روسی ادب یا دوسرے بین الاقوامی ادب سے ترجمے ہوئے، کیا وہ انہوں نے آ کر کیے یا مقامی ادیبوں نے ہی کیے تھے تو پھر کیا وجہ ہے کہ دیگر قومی زبانوں کے ادب کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔'

Image caption مشتاق احمد یوسفی کی معروف کہانی 'حویلی' کو داستان کے انداز میں پیش کیا گیا

ڈاکٹر انوار احمدنے کہا کہ تنوع، وفاق کی روح ہے، لیکن حکمران طبقے میں یکسانیت پائی جاتی ہے اور ایک دوسرے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، زبانیں، تہذیب کا حصہ ہوتی ہیں، جو سرکار کی عنایت سے محروم ہیں۔

آرٹس کونسل میں جاری عالمی اردو کانفرنس میں نئے سماجی ذارئع اور ابلاغ کی صورتحال پر بھی نشست منعقد کی گئی، جس میں رضا علی عابدی، وسعت اللہ خان، مظہر عباس، نورالہدیٰ شاہ اور پروفیسر نعمان نقوی نے روشنی ڈالی۔

دوسرے دن چار کتابوں کی رونمائی کی گئی جس میں ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کی کتاب 'خاک کی مہک' ، مبین مرزا کی کتاب 'زمین اور زمانے' ، ڈاکٹر حسن منظر کی کتاب 'حبس` اور خالد احمد انصاری کی 'راموز` شامل تھیں۔

آخر میں مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی معروف کہانی 'حویلی' کو داستان کے انداز میں پیش کیا گیا۔ فواد خان، میثم نقوی اور نذر الحسن کی پرفارمنس پر شرکا نے کھڑے ہوکر داد دی۔

اسی بارے میں