قتل و غیرت: معاشرے کی سوچ بدلنے والے ڈرامے کہاں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Hum TV
Image caption مصنفہ کا کہنا ہے کہ ایسے ڈرامے جن میں معاشرے کی سوچ اور ذہنیت بدلی جا سکے وہ خال خال ہی ملیں گے

پاکستان کے تفریحی میڈیا کو اگر ذرا توجہ اور باریک بینی سے دیکھا جائے تو اندازہ ہو تا ہے کہ خواتین کے خلاف پاکستانی معاشرے میں جو منفی رویے پنپ رہے ہیں ان کی ایک بڑی وجہ پاکستانی ڈرامے بھی ہیں۔

کوئی بھی تفریحی چینل کسی وقت بھی لگا کر دیکھ لیں اس میں پیش کردہ ڈراموں میں سے ننانوے فیصد ڈرامے عورت، محبت، شادی اور طلاق تک ہی محدود ہوں گے۔

ایسے ڈرامے جن میں معاشرے کی اجتماعی سوچ اور ذہنیت بدلی جا سکے وہ خال خال ہی ملیں گے۔ کیا ہوتا ہے ان بیشتر ڈراموں میں؟ ہر جرم، گناہ، سزا، عذاب کی بنیادی وجہ عورت، خاتون یا لڑکی گردانی جاتی ہے، وہی خطا کار اور وہی سزاوار ۔

تواتر سے گھر، والدین، خاندان کی عزت کی پاسداری کرنا اس کا اولین فرض۔ نہ ان کی کوئی مرضی نہ پسند، خاص کر محبت کی شادی تو ایک ناقابلِ معافی جرم بتایا جاتا ہے۔ ایک ایسا ناپسندیدہ عمل جو صرف تباہی کی طرف لے کر جاتا ہے۔

ایسی شادیوں کا انجام بھی بھیانک ہوتا ہے۔

ہر دوسرے تیسرے ڈرامے میں عورت کو اس بات کا احساس ضرور دلایا جاتا ہے کہ اس کا ہر عمل خاندان کی عزت سے جڑا ہوا ہے، وہ اگر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرے تو قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ 'اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے؟'

بس اب شادی کرواؤ اور اپنے گھر کی ہو جاؤ؟ وہ شادی کے معاملے میں پسند کا اظہار کرے تو خاندان کی عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ وہ اگر کسی طرح ہمت سے کام لے کر تعلیم حاصل کر کے ملازمت کر بھی لے تو اسے ہمہ وقت چوکس رہنا ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنے گلے میں گھر اور خاندان کی عزت کا طوق جو ڈالے پھر رہی ہوتی ہے۔

یوں لگتا ہے کہ شاید وہ پل صراط پر چل رہی ہو اور کسی بھی لمحہ انتہائی بلندی سے پاتال میں گر سکتی ہے اور اسی کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں وہ آنکھیں وہ زبانیں جو حرکت میں آنے میں دیر نہیں لگاتیں۔

Image caption تسنیم احمر کے خیال میں پاکستانی میڈیا اس حقیقت کو پوری طرح سے سامنے لانے سے قاصر ہے کہ 'غیرت' کے نام پر قتل درحقیقت بےغیرتی ہے

مکالمے ایسے کہ انسان اپنا سر پیٹ لے، مگر چینلز کو کیا؟ ان کو تو لاکھوں کے اشتہار مل رہے ہوتے ہیں۔

معاشرے کی پستی کے وہ ذمہ دار تو نہیں، ایسی سوچی اور خیال ہے ان ڈراموں کے خالق خواتین و حضرات کا، لکھاریوں کا اور ان میں کام کرنے والوں کا۔ حقیقت سے بہت دور، ایک عام پاکستانی عورت کے روز مرہ کے مسائل سے پرے یہ ڈرامے ایک سنگین مذاق لگتے ہیں۔ مگر ان کے کرتا دھرتا یہی کہتے ہیں کہ 'ہمارے ڈرامے تو تفریح کے لیے ہیں، تعلیماتی یا معلوماتی پروگرام تو نہیں، نہ ہی ہم تبلیغی پروگرام پیش کر رہے ہیں۔'

یہ سارے لوگ شاید اس بات کو بالکل نظر انداز کر رہے ہیں کہ اداکاروں کی زبان سے ادا ہونے والا ایک ایک جملہ دیکھنے والوں کے ذہن پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور کرتا ہے۔ بہت سارے لوگ ان ہی تفریحی ڈراموں کے کرداروں سے متاثر ہو کر وہ کچھ کر گزرتے ہیں ہیں جو وہ کبھی بھی نہ کرتے۔

'عزت' اور 'غیرت' کو صرف عورتوں سے منسوب کر کے مردوں کو کھلی چھوٹ دینا ایک طرف سے ان پر شاہی، قبائلی اور جاگیردارانہ ذہنیت کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے۔

ایک عجیب سی صورتحال ہے جہاں پر ایک طرف وہ خواتین اور مرد شامل ہیں جو ہر حال میں صنفی برابری اور مساوات کے ناصرف قائل ہیں بلکہ معاشرے میں فروغ بھی دینا چاہتے ہیں ان میں صحافی، ٹی وی کے میزبان، بہت ساری غیر سرکاری تنظیمیں وغیرہ شامل ہیں۔

اگر میڈیا کلی طور پر ان تمام لوگوں کے ساتھ ہو جائے تو بہت کچھ بہتر ہوسکتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے عوام ، بالخصوص خواتین کو ان قوانین کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں جو انسانی حقوق کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں عموماً لوگوں کو نہ قوانین کے بارے میں علم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی تفصیل کا۔ یہاں تک کہ ہماری پولیس اور کبھی کبھار تو عدلیہ تک کو ان قوانین کے بارے میں کم کم ہی آگاہی ہوتی ہے۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر زیادہ تر کیسز کا فیصلہ کورٹ سے باہر ہوتا ہے اور اس میں بھی نقصان خواتین کا ہی ہوتا ہے۔

Image caption پاکستانی ٹی وی چینلز پر پیش کردہ ڈراموں میں سے اکثریت کے موضوعات عورت، محبت، شادی اور طلاق تک ہی محدود ہوتے ہیں

میڈیا کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنی نشریات اور خبروں سے عوام کو یہ باور کروائیں کہ خواتین دوسرے درجے کی شہری نہیں ہیں، ان کو بھی وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو مردوں نے اپنے نام کر لیے ہیں۔

خواتین ہمارے معاشرے کا ایک فعال حصہ ہیں اور ان کا کام شادی کر کے بچے پیدا کرنا اور ان کو پالنا ہی نہیں وہ ایک باشعور شہری بھی ہیں اور اقتصادی طور پر بہت کچھ کر سکتی ہیں۔

ضابطہ اخلاق برائے میڈیا اس بات کا متقاضی ہے کہ میڈیا اپنا کردارصنفی احساسات کے ساتھ ادا کرے۔ یہ میڈیا کی اپنی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مالکان اور صحافی، دونوں فریق اس بات پر متفق ہوں کہ خواتین سے متعلق خبریں، ڈرامے، تصاویر وغیرہ کس طرح سے پیش کرنی چاہیں۔

کونسے الفاظ غیر موزوں ہیں، کہاں پر تصاویر یا بیانات سے گریز کرنا چاہیے اور کس طرح اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اور صنفی حساسیت سے نباہنی چاہیں۔

اگر ہمارا میڈیا اس بات کو بھی عوام کے سامنے پوری سچائی اور حساسیت کے ساتھ لائے کہ قانوناً جو عمل خواتین کے لیے نامناسب یا غیر قانونی ہے وہ مردوں پر بھی اسی طرح سے لاگو ہونا چاہیے۔ عزت اور غیرت دونوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ دونوں کو ہی اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔

معاشرتی رو سے تو دونوں کو بدلنا ایک بہت کھٹن اور طویل عمل ہے مگر شروعات کہیں سے تو کرنی ہیں۔ اگر ہمارا ہمسایہ ملک خواتین کے مسائل پر فکر انگیز فلمیں بنا سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم یہ سب نہیں کر سکتے؟

چلیں فلموں کو چھوڑیں کیا ہم اپنے ڈراموں میں کوئی سدھار نہیں لا سکتے؟ کیا میڈیا، خواتین کو دوسرے درجے کی شہری، ایک بوجھ یا ایک جنس کے طور پر پیش کرنے سے گریز نہیں کر سکتا ہے؟ یا پھر ان ہی مذموم، پدرشاہی رویوں کو بار بار دکھا کر میڈیا ان رویوں کو معاشرے میں پنپنے کا موقع دیتا رہے گا؟

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس بات کی کوشش کریں کہ ان جاگیردرانہ، قبائلی اور فرسودہ رسم و رواج سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

'غیرت' کے نام پر قانون کا بن جانا بہت خوش آئند قدم ہے مگر کافی نہیں کیونکہ جس میڈیا کو عوام دیکھتی اور سنتی ہے وہ ابھی بھی اس حقیقت کو پوری طرح سے سامنے لانے سے قاصر ہے کہ 'غیرت' کے نام پر قتل درحقیقت بےغیرتی ہے اور اس کو ہمارے معاشرے سے نکال دینا ہی مسئلے کا ہے۔

کیا ہمارا میڈیا یہ سب کچھ کر سکتا ہے؟