'دوبارہ پھر سے': پاکستانی سنیما کی بڑھتی پختگی کی علامت

دوبارہ پھر سے تصویر کے کاپی رائٹ ARY Films
Image caption ہدایتکار مہرین جبّار کی فلم 'دوبارہ پھر سے' اب پاکستان کی پہلی 'این آر پی' یا 'نان ریزیڈنٹ پاکستانی' فلم کہی جا سکتی ہے

1995 بالی وُڈ کی تاریخ میں بہت اہم سال تھا۔ شاہ رخ خان اور کاجول کی سُپرہِٹ فلم 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے' سے فلموں میں ایک نئے رجحان نے جنم لیا تھا جسے 'این آر آئی فلم' کا نام دیا گیا۔ اس سے پہلے جہاں یش چوپڑا کبھی کبھار سوئٹزرلینڈ جا کر اپنی ہندی فلموں کے گانے فلماتے تھے، اُن کے بیٹے آدتیہ چوپڑا نے 'نان ریزیڈنٹ انڈیئنز' یا تارکِ وطن ہندوستانیوں کو اپنی فلم کا محور بنا دیا۔

اگرچہ 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے' کی زیادہ تر فلم بندی بھارت ہی میں ہوئی تھی، لیکن یہ واضح تھا کہ اس کے کرداروں کی ذہنیت اور مسائل اُن کے والدین کی جنریشن سے دوری کا نتیجہ تھے۔ اس جنریشن سے جو روایات سے زیادہ جُڑی ہوئی تھی۔ یہ ایک عمدہ طریقہ بھی تھا انڈیا کے نوجوان طبقے کی خواہشات پر بات کرنے کا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اکثر دنیا بھر کے یوتھ کلچر سے زیادہ اُنسیت محسوس کرتا ہے بہ نسبت اپنی سوسائٹی کی اُن روایات کے جن سے اُس کا دم گھُٹتا ہے۔

بہر کیف، 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے' کے سُپر ہِٹ ہونے کے بعد دیگر پروڈیوسروں کو یکدم دنیا بھر میں پھیلے ہندوستانیوں کا خیال آ گیا، اور خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ میں مقیم دیسیوں کا، جن سے اچھا خاصا پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد تو جیسے تانتا بندھ گیا ایسی انڈین فلموں کا جو یا تو ملک سے باہر بھارتی باسیوں کے بارے میں تھیں یا فلم کا اہم حصّہ اُن ملکوں میں فلمایا گیا تھا جہاں دیسی کثرت سے رہتے ہیں۔ اس طرح بالی وُڈ نے اپنی مارکیٹ بھی بڑھائی۔

اس رجحان میں سب کچھ اچھا نہیں تھا بلکہ زیادہ تر بُرا ہی تھا کیونکہ 'این آر آئی' فلمیں عموماً ایک عجیب و غریب بُلبُلے میں اپنا وجود قائم رکھتی ہیں اور یہ بھی تنقید کی گئی ہے کہ فلمساز اپنی سوسائٹی کے مشکل مسئلوں کو نظرانداز کر کے صرف خوبصورت مناظر دکھانے میں لگ جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس رجحان نے کبھی خاص زور نہیں پکڑا کیونکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ویسے ہی بدحال تھی۔ یہاں تو گھر کو آگ سے بچانے کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ دوسرے ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کا کون سوچ سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARY Films
Image caption فلم کے مکالموں کا ذکر کرنا ضروری ہے جو گھسے پٹے محسوس نہیں ہوتے

اوپر سے باہر کسی ملک میں جا کر فلم بنانا پاکستان میں فلم بنانے سے کئی گُنا مہنگا پڑتا ہے۔ شاید پاکستانی تارکینِ وطن کی تعداد (کم از کم ہندوستانیوں کے مقابلے میں) بھی کم تھی اور پاکستانی ڈسٹری بیوٹرز کو بیرونِ ملک فلم دکھانے کے گُر بھی نہیں آتے تھے۔

پاکستانی فلموں کا معیار ایک اور بڑی رکاوٹ تھی لیکن پاکستانی فلمسازوں میں کسی اور ملک کی کہانی بنانے کے بارے میں خوداعتمادی کی کمی بھی تھی اور پروڈیوسروں کو یہ پریشانی بھی تھی کہ ایسی فلمیں پاکستان میں شاید نہ چلیں۔

جو بھی وجہ ہو، ہدایتکار مہرین جبّار کی فلم 'دوبارہ پھر سے' اب پاکستان کی پہلی 'این آر پی' یا 'نان ریزیڈنٹ پاکستانی' فلم کہی جا سکتی ہے۔ یہ ایک مربوط فلم ہے جو دیکھنے میں خوبصورت ہے اور جو اپنے امریکی پس منظر کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتی۔

اس کے کردار بہتر طبقے کے نوجوان مرد اور عورتیں ہیں جو نیویارک سٹی میں رہتے ہیں اور جو اپنی زندگیاں بالکل ویسے ہی گزارتے ہیں جیسے اُس شہر میں رہنے والے دوسرے نوجوان۔ وہ پارٹیوں میں جاتے ہیں، کام کرتے ہیں، چھُٹیوں میں ساتھ گھومنے پھرنے جاتے ہیں اور عشق و محبت میں مبتلا ہوتے ہیں بغیر کسی پریشانی کے کہ اُن کی زندگیاں 'عام' پاکستانیوں سے بہت مختلف ہیں۔ لیکن اس کے باوجود شاید 'دوبارہ پھر سے' کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فلم پھر بھی پاکستانی اقدار سے کٹی ہوئی نہیں ہے۔

اس کی ایک وجہ شاید اس کی کہانی ہے جو بلال سمیع نے لکھی ہے۔ یہ ایک نوجوان آرکیٹیکٹ حمّاد (عدیل حسین) اور کتابوں کی اِلسٹریشن بنانے والی زینب (حریم فاروق) کے گرد گھومتی ہے اور اُن کے رُک رُک کے چلنے والے عشق کی داستان سناتی ہے۔ عشق کی کہانیاں سب کو سمجھ آجاتی ہیں چاہے وہ ہزاروں میل دور امریکہ ہی میں کیوں نہ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARY Films
Image caption مہرین جبار نے اپنا نام ٹی وی ڈراموں کی ہدایتکار کے طور پر بنایا ہے

جب حمّاد پہلی بار زینب سے ملتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کا تعارف ابھی ابھی ایک اور لڑکی نتاشا (طوبیٰ صدیقی) سے کرایا جا چکا ہوتا ہے اور زینب شادی شدہ ہوتی ہے۔ زینب اپنے شوہر عاصم (شاذ خان، جو 'موُر' سے مشہور ہوئے) سے خوش نہیں ہوتی۔ لیکن حمّاد اور اس کا ابھرتا ہوا رومانس یہیں پر ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ زندگی کی طرح کوئی چیز سیدھی سادھی نہیں ہوتی۔

یہ داستان کئی مہینوں پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کہانی میں کئی موڑ آتے ہیں، جو اس کو عام 'لّو سٹوری' سے مختلف بھی بناتے ہیں اور جن کی وجہ سے اس میں سچائی کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ یہاں فلم کے مکالموں کا ذکر کرنا ضروری ہے جو گھسے پٹے محسوس نہیں ہوتے۔

مہرین نے اپنا نام ٹی وی ڈراموں کی ہدایتکار کے طور پر بنایا ہے۔ اور اُن کے ڈراموں کی خاص بات جذبات کی وہ باریکیاں ہیں جو دیگر ڈراموں میں کم کم نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے اداکاروں سے اچھا کام لینے میں مہارت رکھتی ہیں۔ یہاں بھی یہ دونوں خوبیاں نظر آتی ہیں۔ بلکہ اُن کی پہلی فلم 'رام چند پاکستانی' سے کہیں بہتر طور پر افشاں ہیں، شاید اس لیے کہ مہرین خود نیو یارک کی حقیقت کو اچھی طرح جانتی ہیں (وہ کئی سال سے وہاں رہ رہی ہیں) اور شاید اس لیے بھی کہ 'دوبارہ پھر سے' میں کوئی بڑے سٹار بھی نہیں ہیں۔

عدیل حسین، علی کاظمی (جو حمّاد کے دوست واسع کا کردار ادا کرتے ہیں) اور صنم مودی سعید (جو واسع کی گرل فرینڈ کے کردار میں دیکھی جا سکتی ہیں) خاص طور پر فلم میں نمایاں ہیں۔ وہ اپنے اپنے کردار انتہائی ذہانت سے نبھاتے ہیں۔ ٹی وی پر بہت زیادہ کام کرنا اکثر اداکاروں کے لیے فلم کے حوالے سے مثبت ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن عدیل اپنے کردار سے وفا بھی کرتے ہیں اور گلیمر کا وہ عنصر بھی قائم رکھتے ہیں جو سنیما میں کسی ہیرو کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ یقیناً وہ بہت آگے جائیں گے۔

حریم فاروق کا کیس تھوڑا پیچیدہ ہے۔ اُن کا کردار آسان نہیں ہے۔ ایسی عورت جو ایک طرف ایک چھوٹے بچے کی ماں بھی ہے اور روایات کی پابند بھی اور دوسری طرف اپنی خواہشات سے بھی مجبور۔ زیادہ تر مناظر میں وہ بخوبی اپنے کردار کو نبھا لیتی ہیں۔ لیکن میں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ کوئی اور اداکارہ، جو جذبات کا بہتر اظہار کر سکتی یا زیادہ کرشمائی ہوتی، وہ کیسے اس رول کو کرتی۔

'دوبارہ پھر سے' کا پہلا حصّہ بہت ہی عمدہ ہے، خاص طور پر اس کی عکاسی اور تدوین (اس کی عکاسی معروف کیمرہ مین آندریئس برجس نے کی ہے جو دو مرتبہ ایمی ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں)۔ لیکن انٹرمشن کے بعد فلم میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اس کی کہانی میں بھی اور اس کی رفتار میں بھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARY Films
Image caption حریم فاروق کا کردار آسان نہیں ہے

ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ فلم بہت زیادہ وقت زینب اور عاصم کے بیٹے زید (موسیٰ ربانی) کا 'پیارا پن' دکھانے میں صرف کردیتی ہے۔ اس سے فلم عام طرز کا ٹی وی ڈراما محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جو بہت ہی افسوسناک ہے کیونکہ اس وقت تک کہانی بہت ہی تازہ اور سنجیدہ تھی۔ زینب کے شوہر عاصم کا کردار بھی یکطرفہ لگتا ہے، وہ صرف اور صرف غصیلا، خودسر اور شاطر انسان نظر آتا ہے۔

کچھ اہم کردار مثلاً عاصم کی ماں (عتیقہ اوڈھو) اور نتاشا کے روّیوں میں تبدیلی ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہے۔ فلم میں کہانی کے کلائمیکس سے پہلے کسی طرح کے جذباتی دھماکے کی ضرورت تھی لیکن (سوائے عاصم کے) سارے کرداروں کو اچھا دِکھانے کے چکّر میں فلم کو وہ مضبوط جذباتی حصار نہ مل سکا جس سے فلم کا آخری حصّہ تسلی بخش بن جاتا۔ اس کے بغیر فلم غیر ضروری طور پر کھِنچی ہوئی لگتی ہے۔

لیکن یہ تنقید ایک ایسی فلم کے بارے میں ہے جو دیکھنے میں اور جذباتی طور پر بامعنی ہے۔ اور جس کے کردار کم از کم سچ مُچ کے انسان لگتے ہیں۔ آج کل کی کئی فلموں سے یہ کہیں بہتر ہے۔

کچھ فلم کی موسیقی کے حوالے سے کہنا بھی ضروری ہے۔ سوائے شیراز اُپل کے بنائے ہوئے ایک گانے کے، جس پر شادی کا ڈانس فلمایا گیا ہے، زیادہ تر گانے بیک گراؤنڈ میں استعمال ہوئے ہیں اور ان میں کچھ تو بہت ہی عمدہ ہیں۔ ہانیہ اسلم کا کمپوز کردہ 'دوبارہ پھر سے'، وشال بھردواج کا 'رستہ تھم گیا' اور عروج آفتاب کا 'رس کے بھرے تورے نین' خاص طور پر ایسی موسیقی ہے جو آپ فلم کے بغیر بھی سننا پسند کریں گے۔

'دوبارہ پھر سے' شاید پاکستانی سنیماؤں میں اتنی کامیاب نہ ہو پائے کیونکہ اس میں نہ تو مسالا ہے نہ ہی کوئی بڑے سٹار ہیں۔ لیکن میرے خیال میں یہ بیرونِ ملک دیسیوں میں زیادہ مقبول ہوگی۔

اہم بات یہ ہے کہ دوسرے حصّے کی کمزوریوں کے باوجود یہ ایک ایسی فلم ہے جو نوجوانوں کی آج کل کی اصل زندگیاں بغیر کسی معذرت کے دکھاتی ہے۔ اور یہ بات پاکستانی فلم کی بڑھتی ہوئی پختگی کی علامت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں