2016: موسیقی میں تجربوں کا سال

کوک سٹوڈیو تصویر کے کاپی رائٹ Coke Studio
Image caption جب سے کوک سٹوڈیو کا آغاز ہوا ہے، لوگوں کو اس کے بنائے ہوئے نغموں کا شدت سے انتظار رہتا ہے

سال 2016 کے دوران پاکستانی موسیقی میں مختلف تجربات ہوئے جن میں سے چند کو پذیرائی ملی اورایک آدھ تجربہ متنازع بھی رہا۔

پچھلے نو برسوں سے ہر سال لوگوں کو انتظار ہوتا ہے کہ کوک سٹوڈیو میں کون سا نیا شاہکار یا تجربہ سننے کو ملے گا، لیکن 2016 میں کوک اسٹوڈیو کا نواں سیزن آنے سے پہلے کراچی کے بزنس مین طاہرشاہ کے گانے ’اینجل‘ اور اس کی ویڈیو کی ریلیز نے زیادہ ہلچل مچائی۔

طاہر شاہ کے اس گانے کی عجیب و غریب انگریزی شاعری اور وڈیو میں ان کے رنگ برنگے ملبوسات کا روایتی اور سوشل میڈیا دونوں پر مذاق بنتارہا۔

یہی وجہ تھی کہ راتوں رات ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پہ اتنی مقبول ہوئی کہ پاکستان اورانڈیا سمیت برطانیہ میں بھی ہیش ٹیگ طاہر شاہ ٹرینڈ کرنے لگا۔ یہی ویڈیو یوٹیوب کی جاری فہرست میں اس سال سب سے زیادہ دیکھی جانے والی دس ویڈیوز میں شامل ہو گئی۔

موسیقارحمزہ جعفری نے گذشتہ سال ایک سریلا تجربہ کیا۔ انھوں نے پاکستان کی دس علاقائی زبانوں کےدرمیان فیوژن کیا جن میں سندھی، بلوچی، پنجابی، پشتو، سرائیکی، شینا، بُروشسکی، مارواڑی، ہندکو، اور اردو شامل ہیں۔ اس نئے پروجیکٹ کا نام ’برداری براڈکاسٹ‘ ہے۔

حمزہ جعفری اور ان کی ٹیم نے ہر دو علاقائی زبانوں کے موسیقاروں کے درمیان فیوژن سے دس گانے ریکارڈ کیے اور فلمائِے جو بےحد مقبول ہو رہے ہیں۔

اس سال کوک سٹوڈیو کی ایک منفرد ویڈیو بھی سامنے آئی جسے دیکھ کر تقریباً سبھی محظوظ ہوئے۔ یہ وڈیو تھی سماعت سے محروم افراد کے موسیقی سے لطف اندوز ہونے کی۔ کوک نےاس ویڈیو کو فلمانے کے لیے خصوصی سٹوڈیوز لگائے۔

ساتھ ساتھ اس سال کوک سٹوڈیو نے ایک نئی آواز مومنہ مستحسن کو بھی متعارف کروایا جن کے دھیمے دھیمے انداز نے سب کا دل موہ لیا۔ کوک سٹوڈیو میں انھوں نے گلوگار راحت فتح علی خان کے ساتھ مشہور قوال اور گلوکارنصرت فتح علی خان کا گانا ’آفرین آفرین‘ گایا۔ اس گانے کی ویڈیو یوٹیوب کی جاری کردہ فہرست میں اول نمبر پررہی۔

پشتو گلوکار کرن خان ادب کے شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ پشتون علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ سو فنکاروں اور ادیبوں کے کام اور ان کی زندگی کے بارے میں معلومات اکٹھی کر کے انٹرنیٹ پر نشر کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tahir Shah
Image caption طاہر شاہ کی ویڈیو اینجل سے لوگ محظوظ بھی ہوئے، اور حیران بھی

اب تک انھوں نے مختلف فنکاروں مثلاً موسیقارصاحب گل استاد، گلوکار ہارون بادشاہ، رباب ساز نوید اورنغمہ سازغازی سیال وغیرہ کی پروفائلز تیار کر کے یوٹیوب پر ڈالی ہیں۔

کرن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کام میں ان کے احباب رضاکارانہ طور پر مدد کرتے ہیں لیکن وہ کسی طرح کی فنڈنگ کے خواہش مند نہیں ہیں۔ ’فنڈنگ آ جائے تو پھر دل سے کام نہیں ہوتا۔ پھر تو ہم فنڈنگ کے پیچھے بھاگیں گے۔‘

2016 میں بعض گانے پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے وقت اور بعد میں جرات مندی کا مظاہرہ کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بنائے گئے۔

ان میں 14 اگست کو جشن آزادی سے پہلے گلوکار شہزاد رائے کا 'مولا' کے ٹائٹل سے ریلیز کیا گیا گانا بھی شامل ہے جس میں انھوں نے جون 2014 میں کراچی میں واقع جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شدت پسندوں کے حملے میں سکیورٹی فورس کے ہلاک ہونے والے دو جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس سال پاکستان کی دنیائے موسیقی اپنے روشن ستارے امجد صابری سے محروم ہو گئی

اس کے علاوہ دسمبر آیا تو 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پرشدت پسندوں کےحملے کی یاد ایک بارپھر تازہ ہو گئی۔ ٹی سکرینوں پر مختلف جذباتی ویڈیوز دیکھنے کو ملے۔

کراچی میں فنون لطیفہ اور ثقافت کے تحفظ کے لیے قائم ادارے تہذیب فاؤنڈیشن نے انگریزی زبان میں 'سٹوری آف گُل شیر' کے نام سے ایک گانا ریلیز کیا، جس میں شہرت یافتہ صداکار ضیا محی الدین نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جبکہ گلوکارہ زوئی وکاجی کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔ یہ گیت حارث خلیق نے لکھا اورارشد محمود نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔

2016 پاکستانی موسیقی کے لیےکافی غمگین بھی رہا۔ اس سال پاکستان نے امجد صابری قوال، نعت خواں اورسابق گلوکار جنید جمشید اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتون فوک گلوکارہ معشوق سلطانہ کو کھو دیا۔

اسی بارے میں