اداکار اوم پوری کی آخری شام کیسے گزری؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اوم پوری بیٹے کے حوالے سے کافی فکر مند سے تھے

بالی وڈ کے اداکار اوم پوری آج کل 'رام بھجن زندہ باد' نامی ایک فلم میں کام کر رہے تھے جس کے ڈائریکٹر خالد قدوائی جمعرات کی شام کو اوم پوری کے ساتھ تھے۔

خالد قدوائی نے ممبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار سوشانت موہن کو اوم پوری کے ساتھ ان کی موت سے پہلے گزرنے والی شام کی تفصیلات بتائیں۔

’'میں شام کو ساڑھے 5 بجے اوم پوری کے گھر گیا تھا۔ وہاں ان کا ایک انٹرویو چل رہا تھا۔ انٹرویو ختم ہونے کے بعد اوم پوری نے مجھ سے کہا کہ ایک تقریب ہے،ا ہمارے ساتھ چلو گے ؟ میں نے کہا کہ مجھے تو دعوت ہے نہیں۔۔۔۔ میں کس طرح جاؤں؟ پھر اوم پوری نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے مجھے وہاں تک چھوڑ دو۔

پھر ہم گاڑی سے منوج پاهوا کے گھر پہنچے۔ وہاں اوم پوری جی کا کسی سے کچھ ہاٹ ڈسکشن ہوا۔ اس کے بعد اوم پوری جی نے کہا کہ چلو یہاں سے چلتے ہیں۔ ہم دس ساڑھے دس کے قریب وہاں سے چل پڑے۔

پھر اوم پوری نے کہا کہ چلو میں اپنے بیٹے ایشانت سے مل لیتا ہوں۔ سوسائٹی کے باہر پہنچنے پرانھوں نے ایشانت کو فون کیا۔ ایشانت تب تک پارٹی میں ہی تھا۔ ایشانت نے کہا کہ پارٹی میں ہی آ جاؤ تو اوم پوری نے کہا کہ نہیں میں پارٹی میں نہیں آؤں گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اوم پوری کے ڈرائیور نے صبح اصلاع دی کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے

اوم پوری نے ایک ڈرنک لی اور کہا کہ اگر پیگ ختم ہونے تک بیٹا نہیں آیا تو چل دیں گے۔ پھر ہم کچھ دیر کے بعد وہاں سے نکل پڑے۔

بیٹے کے حوالے سے اوم پوری کافی فکر مند سے تھے۔ کہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ سب کچھ میں دیتا ہوں پیسہ، فلیٹ، نوکر ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن بیٹے سے ملنے نہیں دیتے۔

پھر ہم اوم پوری جی کے گھر چلے گئے۔ رات کے ساڑھے گیارہ بج گئے تھے۔ چلتے وقت مجھ سے گلے ملے ۔۔۔۔۔۔۔ بولے، بیٹا مجھے تم پر فخر ہے ۔۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔

پھر میں نیچے آ گیا اور اپنی کار سے گھر چلا آیا۔ جب میں نے گاڑی پارک کی تو دیکھا کہ سیٹ کے نیچے اوم پوری جی کا بٹوہ پڑا تھا۔ ان کا بٹوہ کار میں رہ گیا تھا۔

میں نے سوچا کہ اب رات کے بارہ بج گئے ہیں تو کیا فون کرنا، صبح فون کر کے انہیں بتا دوں گا۔

پھر میں نے صبح ساڑھے چھ بجے اوم پوری جی کو فون کیا، کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے ان کے ڈرائیور کو فون کیا اور کہا کہ اوم پوری جی کا پرس لے جانا۔

آٹھ بجے کے قریب ان کے ڈرائیور کا فون آیا اور اوم پوری کے انتقال کی اطلاع دی۔‘‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں