’90 سیکنڈ میں ہی لوہا منوا لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption انڈیا میں سینما دیکھنے والوں نے اوم پوری کو سنہ 1980 میں بننے والی فلم 'آکروش' میں پہلی بار ٹھیک سے پہچانا

سنہ 1982 میں رچرڈ ایٹنبرا کی فلم 'گاندھی' میں ایک سین ہے جس میں آزادی کے بعد بھڑکنے والے فسادات کے خلاف گاندھی بھوک ہڑتال پرہیں اور مذہبی نفرت کی آگ میں جلنے والے نہاری (اوم پوری) کا بستر پر لیٹے کمزور گاندھی سے آمنا سامنا ہوتا ہے۔

غصے سے بھرے اوم پوری گاندھی کی طرف روٹی کا ایک ٹکڑا پھینکتے ہوئے چلاتے ہیں 'کھا ۔ ۔ کھا میں تو جہنم میں جا رہا ہوں لیکن تمہاری موت کی وجہ بننے کا بوجھ اپنی روح پر لے کر نہیں جاؤں گا۔ ہاں میں نے ایک بچے کو مارا، میں نے اس کا سر دیوار سے پٹخ دیا تھا۔ انہوں نے میرے بیٹے کو مار دیا تھا، میرا بچہ، مسلمانوں نے میرے بیٹے کو مارا تھا۔'

جواب میں گاندھی کہتے ہیں 'میرے پاس ایک طریقہ ہے اس سے باہر نکلنے کا۔ ایک یتیم بچے کو اپنا لو، اسے پالو، دیکھنا کہ وہ مسلمان ہو۔'

حیران اور احساس جرم سے بھری ہوئی آنکھوں سے اوم پوری گاندھی کو دیکھتے ہیں اور پھر روتے ہوئے ان کے پیروں میں گر جاتے ہیں۔

فلم 'گاندھی' کے اس 90 سیکنڈ کے سین میں ہی اوم پوری نے اپنی مہارت دکھا دی تھی۔

یوں تو اوم پوری نے اداکاری کا آغاز سنہ 1970 کی دہائی میں مراٹھی فِلم 'گھاسی رام کوتوال' سے کر لیا تھا، لیکن انڈیا میں سینما دیکھنے والوں نے اوم پوری کو سنہ 1980 میں بننے والی فلم 'آکروش' میں پہلی بار ٹھیک سے پہچانا۔

اور پھر بین الاقوامی سطح پر اوم پوری کو پہچان سنہ 1999 میں بننے والی چھوٹے بجٹ کی فلم 'ایسٹ از ایسٹ' کی وجہ سے ملی جس میں انہوں نے ایک پاکستانی ’جارج خان‘ کا کردار ادا کیا تھا۔

اوم پوری نے جارج خان کے کردار کی باریکیوں کو بخوبی ادا کیا۔ برطانیہ میں آ کے بسنے والا ایک روایتی پاکستانی جو یہاں آ کر ایک انگریز خاتون سے شادی کر لیتا ہے، لیکن نہ تو اپنی پاکستانیت چھوڑ پاتا ہے اور نہ ٹھیک سے انگریز بن پاتا ہے۔

اس مشکل اور ایک لحاظ سے منفی کردار میں انہوں نے مزاح اور برداشت کے عنصر پرو کر اسے خوبصورت بنا دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption ایسٹ اِز ایسٹ میں انھوں نے ایک مشکل کردار کو بہت خوبصورتی سے ادا کیا

اسی فلم کو جب میں نے کچھ برس پہلے ڈرامے کی شکل میں دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ اوم ہوری کا کردار کتنا مشکل تھا۔ ایسٹ از ایسٹ پہلے ڈرامے کے طور پر لکھی گئی تھی اور مصنف ایوب الدین خان نے اس کہانی کی بنیاد اپنے خاندان کی کہانی پر رکھی تھی۔

سنہ 2016 میں انہوں نے غیر ملکی فلم میں کام کرنے کی روایت جاری رکھی اور پاکستانی فلم 'ایکٹر اِن لا' میں کام کیا۔ اس فلم نے عید کے موقع پر دھوم مچا دی تھی اور ساتھ ہی ان کے بیان نے بھی کہ انڈیا اور پاکستان میں 95 فیصد لوگ سیکولر ہیں۔

اوم پوری اکثر اپنے انٹرویو میں خود پر ہی طنز کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ انگریزی زبان میں میرا ہاتھ بچپن سے ہی تنگ رہا ہے۔ لیکن کم انگریزی جاننے والے یہی اداکار انڈیا سے باہر انگریزی فلموں میں ستارے کی طرح چمکے۔