فلم فیئر ایوارڈز: دنگل، عامر اور عالیہ آگے

تصویر کے کاپی رائٹ DISNEY INDIA
Image caption فلم دنگل دو پہلوان لڑکیوں اور ان کے باپ کی حقیقی کہانی پر مبنی ہے

انڈیا میں فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین فلم کا ایوارڈ دنگل کو ملاجبکہ بہترین اداکار کا ایورڈ عامر خان کو اور بہترین اداکارہ کا عالیہ بھٹ کو ملا۔

ممبئی میں سنیچر کو ہونے والے ان ایوارڈز میں بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ رشی کپور کو فلم کپور اینڈ سنز کے لیے ملا جبکہ بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ شبانہ اعظمی کو فلم نیرجا کے لیے ملا۔

فلم دنگل کے لیے ہی بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ نتیش کمار کو ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Spice
Image caption فلم 'اڑتا پنجاب'میں عالیہ ایک بہاری لڑکی کے کردار میں نظر آئیں

بیسٹ میل ڈبیو دلجیت دوسانج کو فلم اڑتا پنجاب کے لیے ملا جبکہ بہترین فیمیل بیسٹ ڈبیو ریتیکا سنگھ قرار پائیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی سنگر راحت فتح علی کے ساتھ ساتھ عاطف اسلم کو فلم ’رستم‘ کے گیت ’تیرے سنگ یارا‘ اور قرۃ العین بلوچ کو فلم ’پنک‘ کے گیت ’کاری کاری‘ کے لیے نامزد کیا گیا تھا جو کہ ان کی پہلی نامزدگی تھی۔

جبکہ گذشتہ برس فلم ’خوبصورت‘ کے لیے ’بیسٹ میل ڈبیو‘ کا ایوارڈز حاصل کرنے والے اداکار فواد خان کو اس سال فلم فیئر میں فلم ’کپور اینڈ سنز‘ میں ’معاون اداکار‘ کے طور پر نامزدگی ملی تھی۔

تاہم کوئی بھی پاکستانی اس بار ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

بیسٹ پلے بیک سنگر کا ایوارڈ ’اے دل ہے مشکل‘ کے لیے ارجیت سنگھ کو ملا۔

نیہا بھاسن کو بہترین پلے بیک سنگر کا ایوارڈ ملا۔

اس سے قبل راحت فتح علی خان نے انڈیا کے فلم فیئر ایوارڈز میں نامزدگی کو اعزاز قرار دیا تھا تاہم اپنی مصروفیات کی بنا پر وہ اس میں شرکت نہیں کر سکے۔

ایوارڈز میں شرکت کے لیے دعوت نامہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے راحت فتح نے کہا کہ ’فی الحال تو ہم یہاں بہت مصروف ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں ہمارے شوز ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وہ اس سے پہلے سنہ 2011 میں بھی اپنے گیت 'دل تو بچہ ہے جی' کے لیے بھی یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں

راحت فتح علی نے بتایا کہ ’یہی سیزن ہوتا ہے۔ ہمارے لوگ اتنے معصوم ہیں کہ پہلے ہماری دستیابی کی تاریخ معلوم کرتے ہیں اس کے بعد اپنے بچوں کی شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔‘

راحت فتح علی کا گیت ’جگ گھومیا‘ بالی وڈ فلم ’سلطان‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس گیت کی مقبولیت کی وجہ سے اسے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

راحت فتح علی اس سے پہلے سنہ 2011 میں بھی اپنے گیت ’دل تو بچہ ہے جی‘ کے لیے بھی یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔

انھیں 2010 میں ان کے گیت ’آج دن چڑھیا‘، 2011 میں’سجدہ‘ اور 2012 میں ’تیری میری‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا تاہم ان گیتوں کے لیے وہ فلم فیئر ایوارڈز حاصل نہ کرسکے۔

اسی بارے میں