'کرۂ ارض کا عظیم ترین شو' ختم ہونے کو

سرکس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سالوں کی قانونی جنگ کے بعد مئی سنہ 2016 میں سرکس نے ہاتھیوں کا شو بند کیا تھا

امریکہ کا سب سے مقبول سرکس جسے عرف عام میں 'دا گریٹسٹ شو آن ارتھ' یا کرۂ ارض کے عظیم ترین شو کے نام سے جانا جاتا تھا تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد ختم ہونے جا رہا ہے۔

رنگلنگ برادرز اور برنم اینڈ بیلی کی نگرانی میں چلنے والا یہ سرکس 146 سال بعد ٹکٹ کی فروخت میں کمی اور زیادہ اخراجات کے سبب بند کیا جا رہا ہے۔

جانوروں کے سرکسوں میں استعمال کے خلاف دہائیوں سے مہم چلانے والوں نے اس خبر کا خیر مقدم کیا ہے۔

یہ سرکس اپنے بلند بانگ نعروں کے سبب مقبول خواص و عام تھا اور اس پر مبنی ایک فلم نے آسکر انعام بھی حاصل کیا تھا۔

فیلڈ انٹرٹینمنٹ کے سی ای او کینتھ فیلڈ نے ایک بیان میں کہا: ’بہت غور و خوض کے بعد ہمارے خاندان اور ہم نے یہ مشکل تجارتی فیصلہ کیا ہے کہ رنگلنگ برادرز اور برنم اینڈ بیلی اپنا آخری شو مئی میں پیش کرے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/ GETTY IMAGES
Image caption یہ سرکس اپنے بلند بانگ نعروں کے سبب مقبول خواص و عام تھا

خیال رہے کہ فیلڈ فیملی نے اس سرکس کا آغاز سنہ 1960 کی دہائی سے کیا تھا۔

بہر حال جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ پیٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس سرکس کے بند ہونے سے کرۂ ارض پر جنگلی جانوروں کے افسوسناک ترین شو کا خاتمہ ہو جائے گا' اور انھوں نے دوسرے تمام سرکسوں سے اس راہ پر آنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ بدلتے وقت کی علامت ہے۔'

خیال رہے کہ کئی سالوں کی قانونی جنگ کے بعد مئی سنہ 2016 میں سرکس نے ہاتھیوں کا شو بند کیا تھا اور وہاں موجود ہاتھیوں کو فلوریڈا کی ایک پناہ گاہ میں بھیج دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption یہ سرکس 146 سال بعد ٹکٹ کی فروخت میں کمی اور زیادہ اخراجات کے سبب بند کیا جا رہا ہے۔

اس سرکس کے عملے اور اس کے جانوروں کو سنہ 1952 میں ریلیز ہونے والی فلم 'دا گریٹسٹ شو آن ارتھ' میں دکھایا گيا تھا۔

فلم ساز سیسل بی ڈی میلی کو بہترین فلم کے ساتھ اس فلم کے لیے دو آسکر ایوارڈز ملے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں