سلمان خان غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں بری

سلمان خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption سلمان خان کے خلاف یہ مقدمہ گذشتہ 18 سال سے جاری ہے

انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کی ایک عدالت نے فلم سٹار سلمان خان کو غیرقانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے ایک مقدمے میں بری کردیا ہے۔

نئی دہلی سے بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق عدالت نے کہا کہ سلمان خان کے خلاف الزامات کو پوری طرح ثابت کرنے کے لیے استغاثہ کی جانب سے وافر شواہد پیش نہیں کیے گئے لہذا شبہے کا فائدہ سلمان خان کو دیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے راجستھان کی ہائی کورٹ نے سلمان خان کو کالے ہرنوں کے غیرقانونی شکار کے دو مقدمات میں بری کردیا تھا۔ ریاستی حکومت اس فیصلے کو پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کرچکی ہے۔

اس کیس میں الزام یہ تھا کہ ہرنوں کے شکار کے لیے جو ہتھیار استعمال کیے گئے تھے وہ غیر لائسنس والے تھے یا ان کے لائسنس کی معیاد ختم ہوچکی تھی۔

لیکن سلمان خان کے وکیل ہستی مل سارسوت نے کہا کہ استغاثہ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی کہ اس رات گاڑی میں ہتھیار تھے اور وہ سلمان خان کی ملکیت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس فرضی تھا اور محکمہ جنگلات نے سلمان خان کو پھنسانے کے لیے قائم کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سلمان خان کو روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک کیس میں ممبئی کی ایک عدالت نے پانچ سال کی سزا سنائی تھی لیکن بعد میں بامبے ہائی کورٹ نے انھیں بری کردیا تھا

یہ کیس سنہ 1998 کا ہے جب سلمان خان اور سیف علی خان ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں جودھپور کے ایک فارم ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان کے خلاف ہرنوں کے غیرقانونی شکار کے مقدمات قائم کیے گئے تھے جن میں ایک کی سماعت اب بھی جاری ہے اور اس میں شنوائی اگلے ہفتے بدھ کو ہونی ہے۔

جب فیصلہ سنایا گیا تو سلمان خان بھی اپنی بہن کے ساتھ عدالت میں موجود تھے۔

سلمان خان کو روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک کیس میں ممبئی کی ایک عدالت نے پانچ سال کی سزا سنائی تھی لیکن بعد میں بامبے ہائی کورٹ نے انھیں بری کردیا تھا۔

اس حادثے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ سلمان خان پر الزام تھا کہ وہ شراب کے نشے میں گاڑی چلا رہے تھے کہ گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھ گئی جہاں کچھ لوگ سو رہے تھے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ مہارشٹر کی حکومت کی اپیل پر سلمان خان کو نوٹس جاری کر چکی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں