پاکستان میں بالی وُڈ فلموں کی راہ میں حائل رکاوٹیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ DISNEY INDIA
Image caption پاکستان میں 1965 سے بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی عائد ہے اور بھارتی فلمیں پاکستان میں ممنوعہ اشیاء کی فہرست میں شمار ہوتی ہیں

پاکستان میں بالی وڈ فلموں کی نمائش میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی سینیما گھر اجاڑ پڑے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نوازشریف نے وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جو انڈین فلموں کی پاکستانی سینیما گھروں میں نمائش کے معاملے کا جائزہ لے گی، اس طرح پاکستان میں اجاڑ سینیما گھروں کی بحالی کی امید تو بنی ہے تاہم اب بھی دلی دور ہے۔

* پاکستان میں آج سے انڈین فلموں پر پابندی ختم

* ’حالات بدل گئے،پاکستانی فنکاروں کو کاسٹ نہیں کروں گا‘

بدھ کو وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی جانب سے قائم کمیٹی کا اجلاس ہوا تو مگر بے نتیجہ رہا جس میں صرف یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں فلمی صنعت سے منسلک تمام افراد سے فرداً فرداً رائے لی جائے گے۔

اس سلسلے میں یہ کمیٹی ڈسٹری بیوٹرز اور ایگزیبیٹرز کے ساتھ جمعرات کو ملاقات کررہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع اُڑی کیمپ پر ہونے والے حملے کے دو ہفتے بعد انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں کے انڈیا میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کی تھی جس کے جواب میں پاکستان میں سینیما مالکان نے اپنے طور پر انڈین فلموں کی نمائش روک دی تھی۔

یہ خود ساختہ پابندی دسمبر میں اٹھا لی گئی مگر اب تک کوئی بھی نئی انڈین فلم پاکستانی سینیما کی زینت نہیں بن سکی۔

پاکستان میں ایٹریم سینیما کے مالک اور فلم ڈسٹریبیوٹر ندیم مانڈوی والا نے اس ضمن میں بی بی سی کو بتایا کہ اصل رکاوٹ اگست 2016 میں سپریم کورٹ کی جانب سے کیا جانے والا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت ممنوعہ اشیاء کی درآمد کا خصوصی اجازت نامہ (این او سی) جاری کرنے کا اختیار وزارتِ تجارت سے کے کر کابینہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے عدالتِ عظمٰی میں ایک اپیل بھی کی تھی تاہم وہ مسترد کر دی گئی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں 1965 سے انڈین فلموں کی درآمد پر پابندی عائد ہے اور انڈین فلمیں پاکستان میں ممنوعہ اشیاء کی فہرست میں شمار ہوتی ہیں۔

2007 میں حکومت نے ایک پالیسی بنائی تھی جس کے تحت انڈین فلموں کی محدود تعداد کو پاکستان میں نمائش کے لیے خصوصی استثنٰی یا این او سی جاری کیا جاتا تھا جس کے بعد وہ فلم پاکستان میں درآمد کی جاتی تھی اور پھر اسے سینسر بورڈ منظور کرتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اچھی چیز کوئی نہیں چھوڑتا، عاطف اسلم ، ماہرہ خان ، فواد خان اور راحت فتح علی خان اچھے تھے تو انھوں ہندوستان کے لوگ آکر وہاں لے گئے‘

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزارتِ تجارت کے پاس اب استثنٰی یا این او سی جاری کرنے کا اختیار نہیں رہا ہے اور تب سے یہ معاملہ اسی طرح لٹکا ہوا ہے کہ اس بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق درآمد کی پالیسی کے انیسویں پیرا کے مطابق اب وزیرِ تجارت وزیرِاعظم کی اجازت سے کی جگہ وفاقی حکومت سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے انڈین فلموں کو وزارتِ تجارت، وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سفارش پر استثنٰی کا سرٹیفیکیٹ یا این او سی جاری کیا کرتی تھی۔

ترمیم کے بعد اب وزیرِاعظم انڈین فلموں کی درآمد کی اجازت دے سکتے ہیں۔

ندیم مانڈوی والا نے بتایا کہ فلم میں کیا دکھایا جا سکتا ہے اور کیا نہیں یہ سینسر بورڈ کا کام ہے اور اس سلسلے میں کوئی تحریری ضابطہ موجود نہیں ہوتا۔

دوسری جانب پاکستانی اداکار شان نے اس کمیٹی کے قیام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وزیرِاعظم سے گزارش ہے کہ وہ انڈیا میں پاکستانی فلموں کی نمائش کے لیے بھی کوئی کمیٹی قائم کریں۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ پر مزید لکھا کے اگر انڈین فلموں کی اجازت دی ہے تو پھر انڈیا میں بننے والی گاڑیوں کی اجازت بھی دے دیں تاکہ ہونڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی کی اجارہ داری ختم کی جا سکے۔

اس بارے میں پاکستان کے سب سے بڑے اور قدیم ڈسٹری بیوٹر ایور ریڈی کے چیئرمین ستیش آنند کا کہنا ہے کہ شان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک خالص کاروباری معاملہ ہے اور حکومت کسی ملک میں کوئی فلم نہیں چلوا سکتی۔ انھوں نے کہ ہالی وُڈ کی فلمیں پاکستان میں لگتی ہیں تو کیا ہم وہاں پاکستانی فلمیں لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھی چیز کوئی نہیں چھوڑتا، عاطف اسلم ، ماہرہ خان ، فواد خان اور راحت فتح علی خان اچھے تھے تو انھوں ہندوستان کے لوگ آ کر وہاں لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب پاکستانی فلمیں اس معیار کی بنیں گی کہ وہ انڈیا میں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی مگر اس میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

دوسری جانب وزیرِاعظم کی جانب سے قائم کمیٹی کے اراکین سے فرداً فرداً رابطہ کرکے ان کا موقف معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی مگر تمام افراد نے اس سلسے میں کوئی بیان دینے سے فی الحال معذرت کر لی۔

اسی بارے میں