رشی کپور کے ’کھلم کھلا‘ اعتراف

رشی کپور تصویر کے کاپی رائٹ ABHA SHARMA
Image caption رشی کپور نے بطور لیڈ ایکٹر فلم بابی سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا

اس وقت بالی وڈ میں بائیو پکس ری مِکس کے ساتھ ساتھ سوانح عمری لکھنے کا سلسلہ بھی زوروں پر ہے اور جیسا کہ بالی وڈ اپنی بھیڑ چال کے لیے مشہور ہے۔

اب جسے دیکھو وہ اپنی زندگی پر کتاب شائع کرنے میں مصروف ہے اور ظاہر ہے ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کتاب کو پڑھیں۔ اس لیے کتاب میں بھر پور مصالحہ بھی ڈالا جاتا ہے اور اپنے بارے میں زبردست انکشافات بھی کیے جاتے ہیں۔ جیسے کرن جوہر نے اپنی کتاب 'ان سوٹ ایبل بوائے' میں اپنے اور اپنے دوستوں کے بارے میں کئی انکشافات کیے۔

اس دوڑ میں رشی کپور سب سے آگے نکل گئے۔ انھوں نے اپنی کتاب 'کھلم کھلا'میں کچھ بھی پردے میں نہیں رکھا۔ انھوں نے اپنے بارے میں تو چھوڑیے اپنے پاپا راج کپور تک کے عشق کے قصے کھل کر بیان کر ڈالے۔ اب چاہے وہ نرگس کے ساتھ ہوں یا پھر وجینتی مالا کے ساتھ انھوں نے راج کپور کی رنگین زندگی پر کھل کر روشنی ڈالی۔

رشی کپور اپنی چرب زبانی کے لیے خاصے مشہور ہیں اب ان سے کوئی یہ پوچھے کہ کیا وہ راج کپور کی زندگی میں 'کھلم کھلا' یہ انکشافات کرنے کی جرات کر سکتے تھے۔

دو بڑی فلموں کی ٹکر

تصویر کے کاپی رائٹ FILMKRAFT/Twitter
Image caption شاہ رخ خان اور ریتک روشن دونوں کا کہنا ہے کہ ان کی فلمیں بہت مختلف ہیں

اس ہفتے بالی وڈ کی دو بڑی فلمیں ٹکرانے والی ہیں اور سبھی اس بارے میں بات بھی کر رہے ہیں۔

فلم 'قابل' کے ہیرو ریتک روشن اور 'رئیس' کے ہیرو شاہ رخ خان بار بار کہہ چکے ہیں کہ دونوں فلمیں بہت مختلف ہیں اور اچھی ہیں اور دونوں ہی اپنے حصے کا کاروبار کریں گی اور یہ کسی طرح کا ٹکراؤ نہیں ہے۔

لگتا تھا کہ بات یہیں ختم ہو گئی لیکن اب جب فلم کی ریلیز میں چند ہی دن باقی ہیں تو ریتک کا کہنا ہے کہ ان کے والد اور فلم کے پروڈیوسر، ڈائریکٹر راکیش روشن اس بات سے پریشان اور ناراض ہیں۔

ریتک کا کہنا ہے کہ اگر فلم 'رئیس' کی ٹیم نے ڈھنگ سے پلاننگ کی ہوتی تو شاید اس کی نوبت نہیں آتی۔

اس سے پہلے فلم 'رئیس' اور فلم 'سلطان' کے ساتھ ریلیز ہونے والی تھی لیکن 'رئیس' کے ڈائریکٹر راہل ڈھولکیا نے فلم کی ریلیز کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا۔'

شاہ رخ کا کہنا ہے کہ انڈیا جیسے ملک میں دو فلموں کو ایک ساتھ ریلیز کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اس سے پہلے ریتک کی فلم 'موئن جوداڑو' کو اکشے کمار کی فلم 'رستم' کا سامنا کرنا پڑا تھا اور 'موئن جوداڑو' بری طرح ناکام رہی تھی لیکن اس فلم کی ناکامی یا 'رستم' کی کامیابی کا سبب فلموں کی ریلیز ڈیٹ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

'رستم' نہ ہوتی تو بھی شاید 'موئن جوداڑو' کا یہی حال ہوتا لیکن راکیش روشن کی فلمیں ہمیشہ ایک نیا انداز اور موضوع لے کر آتی ہیں اور لوگوں کے دلوں پر اثر بھی کرتی ہیں۔ امید ہے 'قابل' بھی انھی فلموں میں سے ایک ہوگی۔

انیل کپور کے بیٹے ہرش وردھن کی شکایتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اداکار انیل کپور، بیٹی سونم کپور اور بیٹے ہرش وردھن کپور کو یہاں ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

انیل کپور کے اداکار بیٹے ہرش وردھن کپور اپنی پہلی فلاپ فلم 'مرزیہ' کے ساتھ بالی وڈ میں داخل ہوئے۔ پاپا انیل کپور کے نام نے فلم تو دلوائی لیکن کہتے ہیں کہ کچھ ایوارڈز صلاحیتوں کی بنیاد پر بھی دیے جاتے ہیں۔

حال ہی میں فلم فیئیر ایوارڈز میں فلم 'اڑتا پنجاب' کے اداکار دلجیت دوسانج کو بہترین ڈیبیو کے لیے ایوارڈ دیا گیا جس کے لیے ہرش وردھن کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

پھر کیا تھا ہرش بابا کو برا لگ گیا اور انھوں نے ایک انٹرویو میں صاف صاف کہا کہ ڈبیو ایوارڈ پہلی فلم کے لیے دیا جاتا ہے اور یہ ایوارڈ انھیں ہی ملنا چاہیے تھا کیونکہ دلجیت پہلے پنجابی فلموں میں کام کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے ٹویٹر پر بھی اس موضوع کو اٹھایا۔

لوگ اب ٹویٹر پر یہ سوال کر رہے ہیں کہ بھائی پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ایورڈز ہندی فلموں کے لیے ہیں اور دوسرے یہ کہ جب سٹارڈسٹ ایوارڈز میں انھیں ان سے بہتر پرفارمنس دینے والوں کے مقابلے بیسٹ ڈیبو ایورڈ دیا گیا تو تب انھوں نے سوال کیوں نہیں کیا۔

ویسے ہرش کو یہ بھی جاننا ہوگا کہ ایوارڈ صرف پہلی فلم کے لیے نہیں بلکہ پرفارمنس کی بنیاد پر دیا جاتا ہے تو برائے مہربانی شکایت کرنا چھوڑ دیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں