لاہوتی میلہ: شدت پسندی کا مقابلہ صوفی موسیقی سے

سیف

صوفیانہ کلام، راک بینڈ اور لوک رقص اور یہ سب ایک جگہ پر۔ یہ ہے لاہوتی میلہ جو سنیچر اور اتوار کے دن سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں سجایا گیا گیا۔ اس کے منتظم نوجوان صوفی سنگر سیف سمیجو ہیں جن کا 'سکیچز' کے نام سے اپنا بینڈ ہے۔

لاہوتی سندھ کے صوفیوں کی ایک راہ ہے، جس میں وہ سیہون سے دشوار سنگلاخ پہاڑوں کے سفر طے کرکے ایک مخصوص مقام پر پہنچتے ہیں، جو روحانیت کی ایک منزل سمجھی جاتی ہے۔ میلے کا نام اس سے منسوب کیا گیا تھا۔

لسانی تفریق اور فسادات کا ماضی رکھنے والے شہر حیدرآباد میں لاہوتی میلہ ایک پل نظر آتا ہے، جس میں شہر میں رہنے والے دونوں زبانیں سندھی اور اردو بولنے والے نوجوان ایک ساتھ نظر آئے۔ صوبے کے اس دوسرے بڑے شہر میں ایسے مواقع تقریباً ناپید ہیں۔

میلے کے روح رواں سیف سمیجو کا کہنا تھا کہ مذہبی شدت پسندی سے لڑنے کے لیے ان کے پاس کوئی تلوار، تیر یا بندوق تو نہیں گٹار، طنبورا، بانسری جیسے آلات ہیں اور وہ ان کے ذریعے ہی برداشت اور انالحق کی آواز کو بلند کرسکتے ہیں، اسی کے ذریعے وہ آج کے نوجوان کو متبادل بیانیہ دے رہے ہیں۔

میلے میں امریکی بینڈز 'ڈیلائس براؤن بینڈ'، 'ڈیوڈ' اور دیگر نے بھی پرفارم کیا۔ ابتدائی تقریب میں امریکی قونصل جنرل گریس شیلٹن نے کہا کہ 'اس میلے کے ذریعے دنیا کی دیگر ثقافتوں سے رابطہ ہوگا اور سندھ کا کلچر متعارف ہوگا۔ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے جہاں سے ہمیشہ امن کا کا پیغام آیا ہے۔'

صوبائی وزیر ثقافت سردار علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'لاہوتی ایک لفظ نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے جس کا مطلب ہے پیار اور محبت۔ اس کیفیت کو سمجھنے والے آج سب لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں اور ان کی حکومت ایسے پروگرامز کی ہمت افزائی اور فروغ کے لیے مکمل معاونت کرے گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Lahooti Melo

میلے میں پرفارمنگ آرٹ بھی پیش کیا گیا۔ ننگرپارکر کے کولھی کمیونٹی کے نوجوانوں نے گجراتی لوک رقص اور شیدی گروپ نے روایتی پرفارمنس پیش کیں۔ اس کے علاوہ استاد عبداللہ نے شہنائی، علی محمد رونجھو نے چنگ، بھورا سنگھ نے مرلی اور شکور فقیر نے کماچ کے سر بکھیرے۔ اسی طرح لاہور کے دانشور تاجدر زیدی نے سرندے کے سروں پر شیخ ایاز کی شاعری پڑھ کر سنائی اور زبردست داد حاصل کیا۔

نامور سماجی ورکر اور 'ٹیبو' اور 'ورکنگ ود شارکس' کی مصنف ڈاکٹر فوزیہ سعید کا کہنا تھا کہ جو لوگ کلچر کی مخالفت کرتے ہیں، ان کی کلچر میں جڑیں کھوکلی ہیں۔ 'لاہوتی ایک تصور ہے، یہاں سب فنکار اور گلوکار اکٹھا ہوکر ثقافت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ جب ملک میں بسنت اور روایتی تہوار ختم ہو رہے ہیں ایسے میں لاہوتی میلوں کی اشد ضرورت ہے۔'

لاہوتی میلے میں جامشورو کی جامعات کی طالبات کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی ان طالبات کے لیے موسیقی کے ایسے پروگرامز میں جانا انتہائی کم ہی نظر آتا ہے۔

سندھ یونیورسٹی کے استاد انعام شیخ نے ایک سیشن میں کلچر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'نوجوان تاریخ کو کار کے سائیڈ شیشے کی طرح سمجھیں جس کی مدد سے انھیں آگے بڑھنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی۔ نوجوانوں کو سندھ کی تہذیب پر فخر ہونا چاہیے کیونکہ سندھ جو آج نظر آتی ہے ایسی کبھی نہیں رہی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Lahooti Melo

دو روزہ لاہوتی میلے میں فلم، موسیقی، فوک داستانوں پر بھی سیشن منعقد کیے گئے۔ انتہا پسندی پر سیشن کی میزبانی صحافی وسعت اللہ خان نے کی جس میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کے خاندان کے فرد جمن فقیر کا کہنا تھا کہ 'دنیا میں جو زمین اور آسمان کا فرق پیدا ہوگیا ہے اس کو صوفی ازم کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ برین واش کرکے انتہا پسندی بڑھا سکتے ہیں تو ہم صوفی کلاموں اور موسیقی کے ذریعے ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔'

لال بینڈ کے بانی شاہرم اظہر کا کہنا تھا کہ 'آرٹ اول سے ایک سیاست ہے، اس کے دو پہلو ہیں ایک کوئی محکوم طبقات کو لے کر آگے جاتے ہیں تو کوئی حکمران طبقے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ نو آبادیاتی نظام میں بھی کئی ایسے لوگ تھے جو انگریز سرکار کی حمایت کرتے تھے بٹوارے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔'

ان کا کہنا تھا کہ صوفی کے پاس نفی ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے، بلھے شاہ اورسچل کی شاعری عشق اور پیار کا پیغام دیتی ہے جبکہ دوسری طرف کند ذہنیت کا بھی پیغام دیا جاتا ہے۔

کالم نویس امر سندھو کا کہنا تھا کہ شاہ عبداللطیف اور صوفی شاہ عنایت میں یہ فرق ہے کہ شاہ عنایت طبقاتی نظام کے خلاف لڑے اور ان کی سیاسی وابستگی رہی جبکہ شاہ لطیف نے ایک فکری سوچ دی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں