اُداسی کا سفر

کتاب
Image caption ندیم اسلم بہت ہی خوبصورتی سے ایک انتہائی دکھی کہانی بیان کرتے ہیں

مصنف ندیم اسلم کی نئی کتاب کی کہانی پاکستان میں لاہور نُما ایک شہر کے پس منظر میں لکھی گئی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے یہ ایک پُر تشدد معاشرے میں سکون کی زندگی گزارنے والے انسانوں کی جدوجہد کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

انگریزی میں لکھے گئے اس ناول کا عنوان ہے ’دا گولڈن لیجنڈ‘ جو شاید ماضی میں دُکھی اور انسانی اصولوں کے لیے قربانی دینے والوں کی کہانیوں کی طرف اشارہ ہے۔

کہانی کی ابتدا میں ہی ایک اہم کردار کی موت ہو جاتی ہے۔ مسعود اور نرگس میاں بیوی ہیں اور دونوں پیشے سے آرکیٹیکٹ ہیں۔ ان کی زندگی دنیا کی تاریخ، انسانی کامیابیوں، فن اور خوبصورتی کے گرد گھومتی ہے۔ علم حاصل کرنا اور مختلف لوگوں کی سوچ اور ایمان کو سمجھنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے، اور وہ ’زمانہ‘ نامی شہر میں رہتے ہیں۔

ان کی تعمیر شدہ ایک نئی لائبریری تک پرانی عمارت سے کتابیں منتقل کرنے کے لیے انھوں نے لوگوں کے ایک سلسلے یا ’ہیومن چین‘ کا بندوبست کیا ہے تاکہ وہ کتابیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کا سفر طے کرکے اپنی منزل تک پہنچیں تاکہ ان کی کسی طرح سے بے حرمتی نہ ہو سکے۔

پھر اچانک ایک ریمنڈ ڈیوس جیسا واقعہ پیش آتا ہے ہے یعنی ایک گاڑی سے ایک مشکوک سفید فام امریکی اچانک دو موٹر سائیکل سواروں پر فائرنگ کرتا ہے۔ مرنے والوں میں مسعود شامل ہوتا ہے جو کتابوں کو منتقل کرنے کے لیے بنائی گئی اس انسانی زنجیر کا حصہ ہوتا ہے اور اس وقت جی ٹی روڈ پر اسی سلسلے میں کھڑا ہوتا ہے۔

اس ہلاکت کے بعد خوفناک واقعات کا ایک سلسلہ شرو ہو جاتا ہے۔ خفیہ ادارے کے ایک میجر صاحب نرگس کے گھر آکر اس سے کہتے ہیں کہ یہ لازم ہے کہ وہ امریکی ملزم کو قصاص اور دیت کے تحت معاف کردے کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ لیکن اس کے نہ کرنے پر دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور کیونکہ نرگس نے اپنی زندگی اور شناخت کے حوالے سے ایک جھوٹ بولا ہوتا ہے، اس لیے وہ اس راز کی وجہ سے مزید کمزور ہو جاتی ہے۔

خوف کا ماحول بڑھتا جاتا ہے۔ مسعود اور نرگس کا گھر شہر کے ایسے علاقے میں ہے جہاں بیشتر آبادی عیسائی ہے۔ یہاں بھی کچھ مذھبی شدت پسند عناصر مقامی مسجد کے مولوی کو ڈرا دھمکا کر عیسائیوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

مسعود اور نرگس کے عیسائی ملازموں کی بیٹی ہیلین ان کے گھر میں پلی بڑھی ہے اور اس کو انھوں نے تعلیم دلائی ہے۔ اچانک اس جریدے کے دفتر پر ایک دہشت گرد حملہ ہوجاتا ہے جہاں ہیلن بھی کام کرتی اور لکھتی ہے۔ یہ فرانس کے شہر پیرس میں ’چارلی ایبڈو‘ رسالے کے دفتر پر حملے کی نوعیت کا حملہ ہے اور حملہ آور اپنی قاتلانہ کارروائی کے لیے توہین مذہب کا حوالہ دیتے ہیں۔

پھر اچانک ایک اور واقعہ پیش آتا ہے اور علاقے کے عیسائی گھروں کو ایک پُراشتعال ہجوم نذرآتش کر دیتا ہے۔ ہیلین کے تصویر کے ساتھ پورے شہر میں پوسٹر لگ جاتے ہیں کہ یہ توہین مذہب کی مرتکب ہے۔

بے گناہ، امن اور ہمدرد شخصیت کی حامل یہ دونوں خواتین پھر پولیس، شدت پندوں اور ایجنسیوں سے بچنے کے لیے گھر اور علاقہ چھوڑ دیتی ہیں اور اس دوران ان کی ملاقات ایک اور مفرور شخص سے ہوتی ہے جس کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہے، اور جو پاکستان میں واقع اپنے تربیتی کیمپ سے اس وقت بھاگ گیا تھا جب اسے پاکستان میں مزید قاتلانہ حملوں کی ذمہ داری سونپی گئی۔

عمران یا ’ماسکو‘ نامی اس کردار کی زندگی کی کہانی بھی بڑی دکھ بھری ہے، اور آہستہ آہستہ واضح ہوتی جاتی ہے۔

ندیم اسلم نے بہت ہی خوبصورتی سے ایک انتہائی دکھی کہانی بیان کی ہے۔ ان کے مرکزی کردار منافرت، تشدد اور جنون کے ماحول میں انسانی محبت، خوبصورتی اور علم کا سہارا لیتے ہیں اور بہت سی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ مسعود اور نرگس نے پوری زندگی اپنے کام اور منصوبوں کے ذریعے تاریخ اور رواداری کو فروغ دینے کی کوشش کی لیکن یہ تمام کوششیں تشدد کے سامنے بے سود ہوتی ہیں۔

کتاب کے اندر بھی ایک خاص کتاب کی کہانی کا ذکر ہے۔ یہ مسعود کے والد کی لکھی ہوئی ایک پُرانی کتاب ہے جس میں مشرق اور مغرب کی اہم شخصیات کے درمیان رابطوں اور مشترک خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس عظیم قسم کی کتاب کے صفحات نرگس کا دشمن پھاڑ کر پھینک جاتا ہے لیکن نرگس اس کی مرمت شروع کر دیتی ہے اور کہانی کے دوران اس کتاب کے صفحات کے سنہری دھاگے کے ساتھ سلائی کا کام جاری رکھا جاتا ہے۔ مفرور رہنے کے دوران بھی نرگس یہ کتاب ساتھ رکھتی ہے اور ہیلین اور عمران بھی اس کی مرمت میں مدد کرتے ہیں۔

ندیم اسلم نے اپنی پچھلی کتابوں میں بھی سخت گیر مذہبی سوچ اور رواداری کی حامی قوتوں کے مابین تصادم پر لکھا ہے۔ وہ اپنی کہانیوں میں حقیقی واقعات کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ناول ’دا بلائنڈ مینز گارڈن‘ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے سے پہلے لکھا گیا تھا لیکن اس میں بھی ایک سکول پر شدت پسندوں کے حملے اور محاصرے کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

ندیم اسلم کی کتاب پاکستان میں (اور شاید پوری دنیا میں) اُس مشکل جدوجہد کی کہانی ہے جس میں عام لوگ مذہبی انتہا پسندی اور تشدد سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن اداسی سے لیس یہ کہانی امید کی کرن بھی دکھا دیتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں