بانو قدسیہ کی یاد میں

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@afzalmbutt
Image caption بانو قدسیہ کے انتقال پر ایک ٹویٹ

’راجہ گدھ،’، ’پُروا’، ’توبہ شکن’، ’حاصل گھاٹ’، ’دست بستہ’ ان کہانیوں میں شامل ہیں جن کا ذکر سنیچر کی شام کو بانو قدسیہ کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ہونے لگا۔

اردو زبان کی مصنفہ بانو قدسیہ کے انتقال کی خبر آنے کے کچھ ہی دیر کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر سب سے پہلا ہیش ٹیگ تھا:

BanoQudsia #

بانو قدسیہ کو یاد کرنے اور ان کی ادبی خدمات کا ذکر کرنے والوں میں سیاستدان اور مختلف طبقات کے لوگ شامل تھے۔ کسی نے ان کے لیے دعا کی اور کسی نے یاد کیا کہ کیسے بانو قدسیہ کی کہانیاں ان کی زندگی پر اثر انداز ہوئیں۔

بہت سے لوگوں نے بانو قدسیہ کے ساتھ اپنی کچھ یادگار تصاویر بھی ٹوئٹر پر لگائیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے اپنی ٹویٹ میں بانو قسدیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی ادبی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ادبی شخصیات کی قلت کے اس دور میں ایک اور عظیم کہانی نویس دنیا سے چلا گیا’۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی ٹویٹ کیا کہ ’ان کا متصوفانہ طرز تحریر اور جداگانہ اسلوب ہمیشہ زندہ رہے گا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tweet/@CMshehbaz
Image caption پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا بانو قدسیہ کے انتقال پر رد عمل

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی ٹویٹ میں ایک ’عظیم ادیب کی موت پر گہرے دکھ‘ کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tweet/@ImranKhanPTI
Image caption عمران خان کا بانو قدسیہ کے انتقال پر رد عمل

پاک ٹی ہاؤس نے اپنے فیس بک صفحہ پر لکھا کہ بڑے ادیب مرتے نہیں بس لکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ شاعرہ اور مصنفہ نوشی گیلانی نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’بانو آپا بھی رخصت ہو گئیں، اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/noshi gilani
Image caption نوشی گیلانی کا فیس بک پیج