لاہور میں سجی انقلابِ ایران کی محفل

کوک
Image caption ایران کی 38 ویں سالگرہ کے موقع پر مشہور ایرانی میوزیکل گروپ 'کوک' نے صوفی موسیقی کی بیٹھک سجائی

صوفی موسیقی صدیوں سے برصغیر کے لوگوں کو محظوظ کرتی رہی ہے۔

لاہور کے الحمرا ہال میں انقلاب ایران کی 38 ویں سالگرہ کے موقع پر مشہور ایرانی میوزیکل گروپ ’کوک‘ نے صوفی موسیقی کی بیٹھک سجائی اور ایرانی کلاسیکی موسیقی اور پاکستانی قوالی کو ایک ساتھ پیش کیا گیا۔

ایرانی موسیقی کے اس روایتی فیسٹیول میں شریک کوک بینڈ نے علامہ اقبال کا فارسی کلام بھی پیش کیا اور ایرنی شاعروں کے اسلامی انقلاب پر لکھے گیت بھی سنائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈاریکٹر والڈ سٹی لاہور سید ذیشان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو قریب لانے کے لئے ثفاقت کو موثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے ـ

’یہ ایک قسم کا صوفی گالا ہے، ایران اور پاکستان کا صوفی میوزک آپس میں محبتوں کو بڑھائے گا اور دوریوں کو کم کرنے کا سبب بنے گا ـ یہ خوبصورت محفل والڈ سٹی لاہور اور ایران کلچرل سینٹر کے تعاون سے پیش کی گئی ہے جس میں ایران کے کلاسیکل موسیقار اور پاکستانی قوال اپنی ثقافت اور فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس کو دیکھنے کا اپنا ایک الگ لطف ہو گاـ‘

فیسٹیول میں شریک ایرانی بینڈ ’کوک‘ کے موسیقار امیر پرویز احمدی نے بتایا کہ وہ پاکستان سے بہت حسین یادیں لے کر جا رہے ہیں ـ

’پہلی دفعہ پاکستان آ کر بہت خوشی محسوس ہوئی، پاکستانی لوگ بہت خوش اخلاق اور محبت کرنے والے ہیں ـ یہاں بہت اچھا وقت گزرا اور ہم وطن واپس خوبصورت یادیں کے سنگ جا رہے ہیں ـ‘

محفل میں پاکستانی قوال شیر میاں داد نے قوالی کا تڑکا لگایا، انھوں نے اپنے منفرد انداز میں فن قوالی کے استاد امیر خسرو کے فارسی کلام کو پیش کیاـ

Image caption محفل میں پاکستانی قوال شیر میاں داد نے قوالی کا تڑکا لگایا

ایران اور پاکستان کی صوفی موسیقی کے اس حسین امتزاج سے شائقین نے خوب لطف اٹھایا ـ محفل میں موجود ایک طالب علم محمد رفیق نے پہلی بار ایرانی موسیقی سنی اور فنکاروں کی کاوش کو خوب سراہا ـ

’تصوف کی سرزمین ہے ایران اور وہاں کے شعرا نے تصوف میں بڑا کام کیا ہے ـ وہاں کے شعرا اور وہاں کی موسیقی مل کر خطے کے لئے انتہائی محبت کا اور امن کا پیغام اجاگر کرتی ہے ـ ایران کی موسیقی کا ایک اپنا کلچر اور روایتی انداز ہے جو باقی دنیا سے جدا حیثیت رکھتا ہے ـ اب ہم نے ان کو پاکستان میں بھی سنا ہے تو انہوں نے دل چھو لیا ـ‘

اس محفل موسیقی کے ساتھ انقلاب ایران کی 38ویں سالگرہ کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات کا اختتام تو ہو گیا لیکن شائقین کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرام تسلسل سے ہوتے رہنے چاہییں تاکہ پاکستان ایران دوستی ثفافت کی ذریعے اور مضبوط ہو سکےـ

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں