'خوش ہوں کہ مجھے بھی انسان سمجھا جا رہا ہے'

Image caption رمل کو پاکستانی میوزک بینڈ 'سوچ' کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے

پاکستان کی شوبز انڈسٹری میں قبولیت کا درجہ پانے میں خواجہ سرا رمل علی کو آٹھ سال لگے ہیں۔

'زندگی کبھی سہل نہ تھی، پلٹ کر دیکھتی ہوں تو ایک تاریک اور ڈراؤنا سفر ہے۔'

رمل کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک دہائی قبل جب انھوں نے اس انڈسٹری میں قدم رکھا تو ان کی برادری کے دیگر افراد کی طرح ان کے حصے میں بھی صرف ٹھوکریں ہی آئیں۔ 'مجھے یہ کہہ کر دھتکار دیا جاتا کہ تمہاری جگہ صرف ریڈ لائٹ ایریا ہے۔'

ان کے مطابق شوبز انڈسٹری پر مردوں اور عورتوں کی حکمرانی ہے۔ ’جب کوئی مجھ جیسا آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو سب سے پہلے انڈسٹری کی خواتین راستے کی رکاوٹ بنتی ہیں، میرے کئی فیشن شوز صرف اس لیے منسوخ ہوگئے کہ میری دوستوں نے ایجنسیز کو یہ بتایا کہ میں ایک عورت نہیں، بلکہ خواجہ سرا ہوں۔'

رمل کو پاکستانی میوزک بینڈ 'سوچ' کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک خواجہ سرا کو کسی میوزک بینڈ نے اپنے گانے میں کاسٹ کیا ہے۔

بینڈ کے گٹارسٹ ربیع احمد کہتے ہیں کہ اس ویڈیو کے لیے پہلے خود کو اور پھر رمل علی کو قائل کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ 'رمل ہمیشہ خود کو ایک عورت ظاہر کرتی تھیں۔ انھیں ڈر تھا کہ پاکستان میں بطور ٹرانس جینڈر شناخت ان کے کریئر کو تباہ کر دے گی۔'

اس گانے میں ایک خواجہ سرا کو دکھایا گیا ہے جو سیکس ورکر ہے۔ رمل علی کا کہنا ہے کہ یہ سیکس ورکر بار بار اپنی شاخت تبدیل کرتی ہے کیونکہ وہ اپنے 'گاہکوں' میں سے ایک ایسے شخص کی متلاشی بھی ہے جو اسے قبول کر سکے تاہم اس کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔

Image caption گلوکار عدنان دھول کہتے ہیں کہ اس گانے کی کہانی درحقیقت رمل علی اور ان جیسے دیگر افراد کی زندگیوں کے گرد گھومتی ہے

رمل اس کردار کے بارے میں کہتی ہیں:'یہ بقا کی جنگ ہے، وہ زندہ رہنے کی وجہ ڈھونڈ رہی ہے۔ پیسہ تو کچھ بھی نہیں، پیسہ نہ تو خوشیاں خرید کر دیتا ہے، نہ ہی رشتے۔'

بینڈ کے گلوکار عدنان دھول کہتے ہیں کہ اس گانے کی کہانی درحقیقت رمل علی اور ان جیسے دیگر افراد کی زندگیوں کے گرد گھومتی ہے۔

رمل علی کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ 'آج مجھے بھی انسان سمجھا جا رہا ہے۔' ان کے مطابق ویڈیو کے بعد اب انھیں ایک ڈرامے میں سنجیدہ کردار دیا گیا ہے جب کہ دو فلمیں بھی آفر ہوئی ہیں۔

'میری کامیابی یہ ہو گی کہ میں ایک ٹرانس جینڈر کے طور پر ان لوگوں کو جواب دے سکوں جو کہتے تھے کہ میرا مستقبل ریڈ لائٹ ایریا ہے۔ میں انھیں جواب دے سکوں کہ نہیں، اگر آپ ہمت کریں، تو کسی بھی فیلڈ میں خود کو منوا سکتے ہیں۔'

رمل سے قبل پاکستان کی شوبز صنعت میں خواجہ سرا کامی سڈ نے بطور ماڈل ایک فوٹو شوٹ سے مقبولیت حاصل کی تھی جبکہ گذشتہ برس ٹی وی ڈرامے 'مور محل' میں بھی خواجہ سراؤں کو کاسٹ کیا گیا۔

سوچ بینڈ کے گلوکار عدنان دھول کہتے ہیں کہ اس کمیونٹی کو کبھی ان کی صلاحیت کے مطابق مقام نہیں دیا جاتا۔

Image caption پاکستان کی شوبز انڈسٹری میں قبولیت کا درجہ پانے میں خواجہ سرا رمل علی کو آٹھ سال لگے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ 'ڈھولا' میں رمل علی کی کاسٹ کے بعد کئی لوگوں نے خود انھیں بھی کبھی خواجہ سرا اور کبھی ہم جنس پرست ہونے کا طعنہ دیا۔

'بعض افراد کی رائے جان کر بہت دکھ ہوا، ہمارے رویے ان افراد کو تنہائی کا شکار بنا دیتے ہیں اور خواجہ سراؤں کے پاس سیکس ورکر بننے یا بھیک مانگنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔'

واضح رہے کہ پاکستان خواجہ سراؤں کو حقوق دینے کے حوالے سے نہ صرف ایشیا کے کئی ممالک سے پیچھے ہے بلکہ یہاں انھیں امتیازی سلوک اور تشدد کا بھی سامنا ہے اور سنہ 2016 میں صرف پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ہی 45 خواجہ سرا ہلاک ہوئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 80 ہزار کے قریب خواجہ سرا موجود ہیں جبکہ غیر سرکاری اعدادوشمار یہ تعداد تقریباً ساڑھے تین لاکھ بتاتے ہیں۔ اس سال مارچ میں ہونے والی مردم شماری میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی شمار کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں