پلے بوائے ميگزین میں برہنہ تصاویر شامل

پلے بوا تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption پلے بوائے کا مارچ اپریل شمارے کا سرورق

بالغوں کے لیے شائع ہونے والے معروف پلے بوا‏ئے ميگزین نے کہا ہے کہ وہ پھر سے اپنے ميگزین میں برہنہ تصاویر کی اشاعت کریں گے۔

پلے بوا‏ئے میگزین کی انتظامیہ نے گذشتہ سال کے مکمل برہنہ تصاویر شائع نہ کرنے کے اپنے فیصلے کو بدل دیا ہے۔

٭ تصویر پوسٹ کرنے پر پلے بوائے ماڈل پر مقدمہ

میگزین کے نئے تخلیقی سربراہ کوپر ہفنر نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عریانی کو پوری طرح ختم کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔

ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا: 'آج ہم اپنی شناخت کو واپس لے رہے ہیں اور اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں آخر ہم کون ہیں۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نور تگوری ماڈل

امریکہ سے شائع ہونے والی اس میگزین نے اپنے مارچ تا اپریل کے شمارے کی تشہیر کرتے ہوئے اپنی ایک ماڈل کی تصویر شائع کی ہے اور اس کے ساتھ NakedIsNormal# ہیش ٹیگ کا استعمال کیا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹس پر بعض صارفین نے ميگزین کی جانب سے اپنا فیصلہ بدلنے کا خیر مقدم کیا ہے جب کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گيا ہے کہ ميگزین کی فروخت کم ہو رہی تھی۔

ہفنر نے سوموار کو لکھا: 'میں وہ پہلا آدمی ہوں گا جو یہ تسلیم کرے گا کہ اس میگزین میں جس طرح سے عریانیت دکھائی جاتی ہے وہ اب پرانی پڑ چکی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پلے بوائے ميگزین کی اشاعت سنہ 1953 میں شروع ہوئی تھی

ميگزین کے بانی ہیو ہفنر کے 25 سالہ بیٹے نے مزید کہا: 'عریانی کبھی بھی مسئلہ نہیں تھی کیونکہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔'

پلے بوائے ميگزین کی اشاعت سنہ 1953 میں شروع ہوئی تھی۔ اس ميگزین نے مارچ سنہ 2016 سے عریاں تصاویر کی اشاعت بند کر دی تھی۔

مسیسیپی یونیورسٹی میں جرنلزم کے پروفیسر سمیر حسنی نے کہا کہ پلے بوائے میں عریاں تصاویر کی اشاعت پر پابندی نے نئے قارئین کو متوجہ کرنے ک بجائے اس کے قاریئن کو زیادہ دور کیا۔

انھوں نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا: 'پلے بوائے اور عدم عریانیت کا خیال ایک قسم کا صنعت تضاد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے کہا کہ ميگزین کو نوجوان قارئین کے لیے قابل قبول بنانے کا راستہ تلاش کرنا ابھی باقی ہے کیونکہ ڈیجیٹل عہد میں عریانیت عام ہو چکی ہے۔

اپنے آنے والے شمارے میں پلے بوائے نے اپنے بعض پرانے فرینچائزی 'دا پلے بوائے فلاسفی' اور 'پارٹی جوکس' کو از سر نو زندہ کرنے کا خیال ظاہر کیا ہے۔

ستر کے عشرے میں پلے بوائے کی فروخت اپنے عروج پر تھی اور اس کی فروخت 56 لاکھ سالانہ تھی جو گذشتہ سال کم ہو کر سات لاکھ رہ گئي تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں