’لڑکیوں کی زندگی صرف ساس بہو کے مسائل کے گرد نہیں گھومتی‘

Image caption انعم 'ون ویمن آرمی' ہیں، یعنی کہانی لکھنے سے لے کر تشکیل دینے تک کا کام زیادہ تر وہ خود ہی کرتی ہیں

آپ نے پاکستانی چینلز میں عورت کو مظلوم اور بےچارہ تو بہت دیکھا ہو گا مگر ایسے ڈرامے بہت کم ہیں جن میں پڑھی لکھی اور ترقی کے لیے محنت کرنے والی خاتون رول ماڈل کے طور پر پیش کی جائیں۔

پاکستانی میڈیا انڈسٹری آج بھی عورت کو زیادہ تر اس روایتی عینک سے دیکھتی اور دکھاتی ہے جس میں خاندان کی خوشی کے لیے اپنی ذات کو مارنے والی عورت کامیاب اور اچھی جبکہ مغربی لباس پہننے والی، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والی ’مغرب زدہ` لڑکی ناکام اور بری دکھائی دیتی ہے۔

* 2016 میں پاکستانی ڈرامہ نڈر ہو گیا؟

انھی روایتی تصورات کو چیلنج کرنے کے لیے کراچی کی ایک فلم میکر انعم عباس نے انٹرنیٹ پر ایک سیریز ’لیڈیز اونلی‘ کا آغاز کیا ہے۔

معمولی بجٹ سے بننے والی اس ویب سیریز کا مقصد بتاتے ہوئے انعم عباس نے کہا ’میں پیسے کمانے کی دوڑ میں لگنے کی بجائے یا سینسرشپ کے ڈر سے بالاتر ہو کر ان خواتین کے مسائل اجاگر کرنا چاہتی ہوں جو اپنی جائز جگہ حاصل کرنے کے لیے معاشرے سے مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔‘

انعم ’ون وویمن آرمی‘ ہیں، یعنی کہانی لکھنے سے لے کر تشکیل دینے تک کا کام زیادہ تر وہ خود ہی کرتی ہیں۔ ’لیڈیز اونلی‘ خواتین کے لیے بنائی جاتی ہے اور اس میں اہم کردار بھی خواتین کرتی ہیں اور اس کی پیشکش بھی انھی کی ہے۔

اس ویب سیریز کی ایک قسط میں کام کرنے والی اداکارہ امتل باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں اس منصوبے کا حصہ اس لیے بنی ہوں کیونکہ اس میں صنفی مساوات اور عوامی مقامات پر خواتین کے ساتھ برتے والے جانبدار رویے جیسے مسائل پر بات ہوتی ہے اور یہ مسائل میرے دل کے بہت قریب ہیں۔‘

انعم کہتی ہیں ’ٹی وی والوں کو لگتا ہے کہ روتی ہوئی خاتون پر مبنی ڈرامہ ہی بکتا ہے اس لیے مین سٹریم میڈیا میں خواتین کو زیادہ تر کمزور اور کمتر ہی دکھایا جاتا ہے چاہے حقیقت میں وہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر رہی ہوں۔‘

Image caption انعم عباس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے انھیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کم بجٹ میں بغیر کسی سینسرشپ کے اپنے خیالات کا آزادی سے اظہار کر سکیں

انھوں نے کہا ’پاکستان میں بہت لڑکیاں ایسی ہیں جن کی زندگی صرف ساس بہو کے مسائل کے گرد نہیں گھومتی۔ میرے جسی بہت سی لڑکیاں ہیں جو اپنی مرضی سے زندگی گزار رہی ہیں، سیاسی بحث کا حصہ ہیں، ان کے لیے ڈرامے بنتے ہی نہیں۔ میں اس آن لائن سیریز کے ذریعے ان سارے خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا چاہتی ہوں جو مین سٹریم میڈیا کے لیے نہ بِکنے والی کہانیاں ہیں۔‘

لیڈیز اونلی کی ایک قسط میں پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کو بھی ٹربییوٹ پیش کیا گیا جنھیں ان کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کیا اور بعد میں مکر گیا۔

انعم کہتی ہیں ’مجھے لوگوں نے کہا یہ متنازع مسئلہ ہے اس پر بات مت کرو لیکن ہم نے اس پر بات کی اور قندیل بلوچ کے حوالے سے معاشرے کی دوغلی رائے کو سامنے لائے۔‘

انعم عباس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے انھیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کم بجٹ میں بغیر کسی سینسرشپ کے اپنے خیالات کا آزادی سے اظہار کر سکیں۔

اسی بارے میں