پہلی بلوچی فلم کی 42 سال کے بعد نمائش

بلوچی فلم

بلوچی زبان کی پہلی فلم حمل و ماہ گنج 42 سال کے بعد 28 فروری کو ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فلم 1975 میں تیار کی گئی تھی لیکن بلوچ قوم پرستوں کے اعتراض اور احتجاج کی وجہ سے اسے ریلیز نہیں کیا جا سکا تھا۔

اس فلم کے پروڈیوسر اور ہیرو انور اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ فلم کی کہانی رومانوی داستان حمل و ماہ گنج پر مشتمل ہے، اس کا انتخاب انھوں نے اس لیے کیا تھا کیونکہ بلوچوں کی جتنی بھی رومانوی داستانیں ہیں ان میں یہ واحد کہانی تھی جس میں غیر ملکیوں کے ساتھ لڑائی تھی اور اپنے مادر وطن کو بچانے کی فکر تھی۔

پندرہویں صدی میں پرتگال کے ایک سابق فوجی افسر ال فانسو ڈی البقر نے اپنے ساتھیوں سمیت اسٹولا جزیرے پر آکر اپنا پڑاؤ ڈالا وہاں سے مسقط اور بلوچستان کی تجارتی کشتیاں گزرتی تھیں وہ اس سے لوٹ مار کرتا۔

ان دنوں کلمت میں جین کی سرداری تھی اس نے اپنے بیٹے حمل کو نصیحت کی تھی کہ فرنگیوں کے قدم اپنی زمین پر پڑنے نہیں دینا، اس کی پیروی میں حمل نے اپنی جان قربان کی۔

اس فلم کی کہانی نامور شاعر سید ظہور شاہ ہاشمی نے لکھی تھی، جبکہ کاسٹ میں انور اقبال کے علاوہ انیتا گل، نادر شاہ عادل، اے آر بلوچ ، نور محمد لاشاری اور دیگر شامل تھے۔

انور اقبال کا کہنا ہے کہ فلم بننے کے بعد اس کی مخالفت کا آغاز ہوا کیونکہ اس سے پہلے لوگوں کے ذہنوں میں یہ ہوگا کہ نوجوان ہے پتہ نہیں بنا پائے گا یا نہیں اور جب فلم مکمل ہوگئی تو وہ پریشان ہو گئے۔

’میرے والد ایک سیاسی شخصیت تھے کراچی میں ایوب خان کے دور میں وہ مسلم لیگ کے صدر اور پہلے میئر رہے۔ ان کا سیاست میں اثر رسوخ بھی تھا مخالفین نے سوچا اگر یہ نوجوان سیاست میں آ گیا تو پھر ہماری لیاری یا ملیر کی نشست تو گئی یعنی بلوچ آبادی میں جن کے مفادات تھے انھوں نے فلم کی مخالفت کی اور عام عام بلوچوں کو استعمال کیا گیا۔‘

حمل و ماہ گنج کی مخالفت کی بنیاد اس کا ایک گیت بنا تھا، جس پر بلوچ قوم پرستوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ انور اقبال کہتے ہیں ہر فلم کی کمرشل ویلیو ہوتی ہے وہ دستاویزی فلم تو نہیں بنا رہے تھے۔

’فلم میں پرتگالی لڑکی حمل سے محبت کرتی ہے لیکن حمل نے ان پرتگالی لڑکیوں کو ٹھکرا دیا تھا اور اپنی خواتین کی تعریف کی تھی جس کا ثبوت اس کی شاعری میں ملتا ہے۔ میں نے ایک رومانوی گیت بنایا تھا جس میں پرتگالی لڑکی خواب میں جا کر حمل کو کہتی ہے کہ کاش تم بلوچ نہ ہوتے میں پرتگالی نہ ہوتی ہم اور کوئی مخلوق ہوتے۔ وہاں میں نے انہیں سیمسن اینڈ ڈیلائلا کے روپ میں دکھایا ہے۔‘

انور اقبال کے مطابق اس رومانوی گیت کو مخالفین نے بنیاد بنا کر کہا کہ یہ دیکھو بلوچ ایسے تھے کیا بلوچی کلچر ایسا ہوتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ لوگ پوری فلم دیکھتے تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس گانے کا بلوچستان اور بلوچ کلچر سے سے کوئی تعلق نہیں صرف فلم سے تعلق ہے۔

بلوچستان میں ان دنوں ترقی پسند جماعت نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت تھی انور اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔

’مجھے تو افسوس ہوتا ہے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بھائیوں پر جو خود کو ترقی پسند کہتے ہیں اور یہ بھی کہ انقلاب لائیں گے اور بلوچستان کو آزاد کرائیں گے انھوں نے بھی فلم کی مخالفت کی تھی۔

سینما گھروں نے احتجاج کے بعد فلم کی نمائش سے انکار کیا اور انور اقبال نے فلم ریلیز روک دی تھی۔

42 سال کے بعد اب یہ 28 فروری کو بلوچ فیسٹیول کے موقعے پر آرٹس کاؤنسل کراچی میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

انور اقبال کے مطابق ’مجھے معاشی طور پر نقصان ہوا لیکن راتوں رات میں مقبول ہوگیا مجھے ٹیلی ویژن والوں نے پیشکش کی، میرا پہلا ڈرامہ آب و آئینہ تھا اس میں میں نے اپنا نام حمل رکھوایا اور فلم کا لباس استعمال کیا۔ مخالفین نے دھمکی دی کہ ہم ٹی وی کو بم سے اڑا دیں گے لیکن کوئی پھلجھڑی بھی نہیں جلی، اس کے بعد بھی ہمیں دھمکیاں ملتی رہیں میرا دفتر لی (لیاری) مارکیٹ کے قریب ہی لیکن آج تک کوئی نہیں آیا۔‘

اسی بارے میں