’لیڈرانی کو قتل کسی نے نہیں کیا‘

کتاب

ایک نئی کتاب میں ایک بینظیر بھٹو نُما لیڈر کے قتل میں ایک ناہید خان نُما سیاسی کارکن کو ملزم بنا دیا جاتا ہے تو مقدمے کے ذریعے کارکن اور رہنما دونوں کی کہانیاں سامنے آ جاتی ہیں۔

انگریزی میں لکھی گئی کتاب ’نو بوڈی کلڈ ہر‘ سبین جویری کا پہلا ناول ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کو اگر آپ پڑھنا شروع کریں گے تو اس سے ہٹنا مشکل لگے گا اور آپ چاہیں گے کہ اس کو پڑھتے ہی چلیں جائیں۔

کہانی میں ایک مقتول رہنما کی بیٹی رانی شاہ نیو یارک میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں جہاں پارٹی کے ایک وفا دار کارکن نازو خان اس کے پاس نوکری کی تلاش میں آتی ہے۔ نوکرانی، سکریٹری، دوست، سیاسی مشیر، نازو کو پھر ہم کئی روپ میں دیکھتے ہیں۔ دونوں عورتوں کے سیاسی اور ذاتی سفر کی کہانی نازو خان مقدمے میں بیان کرتی ہے اور پڑھنے والے کے ذہن میں سوالات اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ یہ دونوں دوست ہیں یا دشمن؟ سہلیاں یا رقیب؟

رانی شاہ (لیڈرانی) نازو کی ہیرو ہے، وہ اس کے لیے قربانیاں دیتی ہے اور چالاکیاں کرتی ہے لیکن اس کو رانی سے سخت مایوسی بھی ہوتی ہے۔ کہانی میں سیاست سے وابسطہ شک کے ماحول کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے اور ایک عورت کی مجبوریوں کو بھی۔ کہانی میں سیاست کو شترنج کے کھیل کی طرح کھیلا جاتا ہے اور رانی اور نازو اس میں مہارت حاصل کرتے جاتے ہیں۔

بہت سارے اور بھی کردار ہیں کتاب میں، رانی شاہ کا وڈیرہ شوہر، ملک کے فوجی جنرل اور افسر، جہادی تنظیمیں۔۔۔ لیکن یہ کہانی ان دونوں عورتوں اور ان کے رشتے کے ارد گھومتی ہے۔ ان کی جد و جہد ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے لیکن رانی نازو کو کبھی یہ بھولنے نہیں دیتی کہ ان میں سماجی طبقے کا فرق کتنا ہے۔ کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمرانوں اور محکوم، امرا و عوام کے درمیان خلیج مساوات اور جمہوریت کے نعروں سے مٹانا بھی مشکل ہوتا ہے۔

کہانی کے بہت سے واقعات پاکستان کے سیاسی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن ان کو بہت ہی منفرد انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔

سبین جویری نے ایسی کہانی بیان کی ہے جو سیاست کے بارے میں بھی ہے، اقتدار کے بارے میں بھی اور سماجی اور صنفی تعصب کے بارے میں بھی۔ لیکن سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کب پڑھنے میں واقعی مزا آتا ہے۔

کتاب کے آخری حصے سے آپ کو اتفاق ہو یا پھر اختلاف، آپ کو اس پر سوچنا ضرور پڑے گا۔

اسی بارے میں