’فاروق ضمیر ڈرامے کے مہدی حسن تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTV
Image caption فاروق ضمیر کی پہچان اگرچہ اداکاری سے ہوئی لیکن انھوں نے ڈرامے لکھے بھی اور ہدایت کاری بھی کی

’فاروق ڈرامے کے مہدی حسن تھے۔‘ یہ الفاظ پاکستانی ڈراموں کے قد آور فنکار سمجھے جانے والے قوی محمد خان نے فاروق ضمیر کے لیے کہے۔ فاروق ضمیر جمعرات کے روز فن کی دنیا سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔

فاروق ضمیر پاکستان ٹیلی وژن کے اولین دنوں سے ڈراموں میں اداکاری کرتے رہے، ٹی وی کے علاوہ تھیٹر میں بھی کام کیا۔

ان کا دھیما لہجا اور انداز ان کا خاصہ تھی۔

قوی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فاروق ضمیر کے ساتھ کام کرنے کے متعلق بتایا کہ وہ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاروق ایسا اداکار تھا جو ہدایت کار سے دو قدم آگے تھا۔

پی ٹی وی کے لیے درجنوں ڈراموں میں کام کرنے کے علاوہ انھوں نے نجی چینلز کے لیے بھی کام کیا۔ ان کا آخری ڈرامہ ’اسیر زادی‘ تھا۔

ڈرامے کے ڈائریکٹر محمد احتشام الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ برصغیر کے ان چند ناموں میں سے ہیں جن کی اردو زبان کی ادائیگی مستند ہے۔ وہی مکالمہ کسی بھی اور فنکار کی ادائیگی میں وہ تاثیر نہیں لا سکتا تھا جو فاروق ضمیر اپنی آواز سے لے آتے تھے۔ وہ آواز کے بادشاہ تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTV
Image caption پی ٹی وی کے لیے درجنوں ڈراموں میں کام کرنے کے علاوہ انھوں نے نجی چینلز کے لیے بھی کام کیا

فاروق ضمیر اداکاری میں مشہور زمانہ سٹیج پرفارمر کیری گرانٹ کے مداح تھے۔

احتشام الدین نے اسیرزادی کے منظر ناموں کا ذکر کیا جن میں فاروق ضمیر ساتھی اداکار سلمان شاہد کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ ان کے مطابق عام طور پر لمبے مکالمے والے سین میں ہدایت کار منظر کو کئی طریقوں سے عکس بند کرتا ہے تاکہ ناظر کی دلچسپی قائم رہے لیکن ان دو اداکاروں کی مکالمے کی ادائیگی بذات خود اتنی جاندار تھی کہ طویل سین بھی مستقل ناظر کی توجہ لینے میں کامیاب رہتے۔

فاروق ضمیر کی پہچان اگرچہ اداکاری سے ہوئی لیکن انھوں نے ڈرامے لکھے بھی اور ہدایت کاری بھی کی جن کا بیشتر ریکارڈ 1971 میں پی ٹی وی ڈھاکہ کے حصے میں آیا۔

اسیر زادی میں ان کی ساتھی اداکارہ ثانیہ سعید جنھوں نے اس کے علاوہ بھی کئی ڈراموں میں ان کے ساتھ کام کیا، ان کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ فاروق ضمیر کی نسل کے لوگوں نے خود اپنی تربیت پر جتنا کام کیا وہ اب ناپید ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ’وکٹوریا کا ٹکٹ‘ نامی کھیل یاد کیا، کہتی ہیں ’فاروق ضمیر کے ساتھ کام کر کے وہ بے انتہا خوشی ملی جو پہلی مرتبہ خالدہ ریاست کے ساتھ کام کرتے ہوئے ملی۔‘

ثانیہ سعید نے یہ بھی کہا وہ سیٹ پر اپنے ساتھ سب کے لیے مسکراہٹ لاتے۔

اسی بارے میں