’لاہور لاہور ہے جی‘

پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام اور ماضی کی مشہور اداکارہ شبنم گھوش ایک بار پھر لاہور میں ہیں۔ وہ لگ بھگ پانچ برس کے بعد پاکستان آئی ہیں جبکہ پچھلے سترہ برس سے وہ بنگلہ دیش میں مقیم ہیں۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز کے مطابق شبنم کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ لاہور آتی ہیں انہیں بہت اچھا لگتا ہے۔

'لاہور لاہور ہے جی۔ گو اب لاہور کافی بدل چکا ہے مگر میں جب بھی یہاں آئی ہوں مجھے لوگوں کا بہت پیار ملا ہے۔ جب میں یہاں کام کرتی تھی تب مجھے شاید اندازہ نہیں تھا کہ لوگ مجھے اتنا چاہتے ہیں۔'

٭کتب خانوں اور کتب بینی میں کمی

تقریباٌ 150 سے زائد فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ شبنم اپنے شوہر موسیقار روبن گھوش کے ہمراہ آخری مرتبہ 2012 میں پاکستانی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ وصول کرنے پاکستان آئی تھیں۔ اس مرتبہ شبنم لاہور لٹریری فیسٹیول 2017 میں مہمان کے طور پر شرکت کے لیے لاہور آئیں۔

سکیورٹی خدشات کے باوجود اس سال کے لاہور لٹریری فیسٹیول 2017 کا انعقاد سنیچر کو فلیٹیز ہوٹل میں ہوا جس میں دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والی ادبی شخصیات اور فنکاروں نے شرکت کی۔

شہر کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے منتظمین نے فیسٹیول کو تین روزکے بجائے ایک دن تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے اس فیسٹیول میں شرکت کی جس کو بنیادی طور پر لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں منعقد کیا جانا تھا۔

فیسٹیول کے ایک سیشن میں شبنم سے بات چیت کرنے کےلیے مشہور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید موجود تھے۔ دونوں کی دلچسپ گفتگو سے حاضرین کو شبنم کی فلمی اور ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کچھ نیا جاننے کو ملا۔

شبنم اس وقت آبدیدہ ہوگئیں جب اصغر ندیم سید نے ان سے سن 2000 میں پاکستان چھوڑ کر مستقل طور پر بنگلہ دیش منتقل ہونے کے ان کے فیصلے کے بارے میں سوال کیا۔

'مجھے محسوس ہوا میرے والدین کو میری ضرورت تھی اور اب مجھے ان کے پاس ہونا چاہیے۔ ایک روز میری اپنے والد سے فون پر بات ہوئی تو مجھے لگا ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ میں نے اپنے سسرال میں فون کر کے ان کو ہسپتال پہنچوایا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ان کو سٹروک ہوا ہے۔اگلے ہی روز میں بنگلہ دیش چلی گئ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اگلے 72 گھنٹے میرے والد کے زندگی کےلیے اہم تھے۔ بس اس کے بعد میں نے ان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔'

ماضی میں شبنم کے ساتھی اداکار فیصل رحمان بھی حاضرین میں موجود تھے۔ بعد میں شبنم کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فیصل کا کہنا تھا کہ انھیں بھی شبنم کے اچانک پاکستان سے چلے جانے کی خبر سن کر حیرت ہوئی تھی تاہم وہ ان سے دوبارہ مل کر خوشی محسوس کر رہے ہیں۔

شبنم کا کہنا تھا کہ مستقل طور پر بنگلہ دیش منتقلی کا فیصلہ ان کے شوہر روبن گھوش کا نہیں بلکہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔

یاد رہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان کے مغربی حصے سے علیحدگی کے بعد شبنم اور ان کے شوہر پاکستان ہی میں قیام پذیر رہے جہاں دونوں نے 70 اور 80 کی دہائیں میں اردو کی بےشمار ہٹ فلموں میں کام کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے بچوں کی پیدائش بنگلہ دیش جبکہ پرورش پاکستان میں ہوئی۔

'بچوں کی زیادہ دیکھ بھال تو روبن صاحب ہی کرتے تھے کیونکہ وہ اپنا زیادہ تر کام گھر ہی سے کرتے تھے جبکہ مجھے باہر جانا ہوتا تھا۔'

اپنی تعلیم کے حوالے سے اصغر ندیم سید کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شبنم نے بتایا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر پائی تھیں۔

'جب بھی سکول یا کالج جاتی تھی تو لوگ مجھے پہچان کر مجھ سے آٹو گراف لینا شروع کر دیتے تھے۔

شبنم نے چھوٹی ہی عمر سے بنگالی فلموں میں کام شروع کر دیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں شبنم کا کہنا تھا کہ اگر ان کے لیے کبھی بھی پاکستان میں کسی فلم یا ڈرامہ کےلیے کوئی کردار لکھا گیا اگر ان کو پسند آیا تو وہ ضرور کریں گی۔

لاہور لٹریری فیسٹیول میں شبنم کے علاوہ پاکستان اور بیرونِ ملک سے آئے ادیبوں، مصنفوں اور تجزیہ کاروں کو سننے کی لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس سال فیسٹیول کے انعقاد میں ان کو زیادہ مشکلات کا سامنا پڑا تاہم انھوں نے اپنی روایت کو ٹوٹنے نہیں دیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیسٹیول کے منتظمین میں سے سارہ نتاشا احمد نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ان کو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فیسٹیول میں شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ سیشنز میں تو ان کے ہال اتنے بھرے ہوئے تھے کہ ان کو بعد میں آنے والوں سے معذرت بھی کرنا پڑی۔ ان کے خیال میں ایسی تقریبات کے انعقاد میں خلل نہیں آنا چاہیے۔ تاہم ان کو موجودہ حالات کے نزاکت کا اور اس حوالے سے حکومت کی تشویش کا اندازہ ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے فیسٹیول کا دورانیہ تین سے کم کر کے ایک دن کیا۔

فیسٹیول میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے والی ادبی شخصیات میں مصنفین محسن حامد، کاملہ شمسی، تاریخ دان عائشہ جلال اور ولیم ڈیلیرمپل کے علاوہ ادب، آرٹ اور سیاست سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات شامل تھیں۔

اسی بارے میں