آسکرز میں بہترین فلم کا انعام غلط فلم کے نام

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
آسکر ایوارڈز میں تاریخی غلطی

امریکی شہر لاس اینجلس میں 89ویں آسکر ایوارڈز میں فے ڈنوے نے غلطی سے 'مون لائٹ' کی جگہ ’لا لا لینڈ‘ کو بہترین فلم قرار دے دیا، تاہم بعد میں ان کی غلطی کی تصحیح کر دی گئی۔

تقریب میں اس اعلان کی وجہ سے غلط فہمی پھیل گئی اور لا لا لینڈ کی ٹیم ایوارڈ لینے کے لیے سٹیج پر پہنچ گئی۔ وہ اپنی تقریر کے وسط میں تھے جب اس غلطی کا پتہ چلا۔

آسکرز ایوارڈ 2017: تصاویر میں

پرائس واٹرہاؤس کوپر نامی کمپنی نے جو آسکرز بیلٹ کی گنتی کرنے کی نگرانی کی ذمہ دار تھی، اس غلطی پر معافی مانگی ہے جس کی وجہ سے 89ویں آسکر ایوارڈز میں غلطی سے 'مون لائٹ' کی جگہ 'لا لا لینڈ' کو بہترین فلم قرار دے دیا تھا۔

کمپنی نے کہا ہے کہ پیش کار کو غلط لفافہ دے دیا گیا تھا اور وہ اس کی تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ غلطی کیسے سرزد ہوگئی۔

ایما سٹون نے کہا: ’یہ آسکرز کا سب سے پاگل پن والا لمحہ ہے؟ یہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔‘

’مون لائٹ‘ کے ہدایت کار بیری جینکنز نے کہا کہ ان کی زندگی پچھلے 20 سے 30 منٹ میں ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہترین اداکار اپنے اپنے اعزازات کے ساتھ

یہ فلم ایک سیاہ فام ہم جنس پرست نوجوان کے بارے میں ہے۔ اسے بہترین اختیارکردہ سکرین پلے اور بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔

بہترین اداکار کا انعام کیسی ایفلیک نے ’مانچسٹر بائی دا سی‘ پر جب کہ بہترین اداکارہ کا طلائی مجسمہ ایما سٹون نے ’لا لا لینڈ‘ میں بہترین اداکاری پر حاصل کیا۔

توقع تھی کہ ’لا لا لینڈ‘ 14 نامزدگیوں کے ساتھ زیادہ ایوارڈ حاصل کرے گی لیکن وہ صرف چھ انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ ’مون لائٹ‘ اور ’ہیک سا رِج‘ نے تین تین ایوارڈ جیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایما سٹون نے بہترین اداکارہ کا طلائی مجسمہ اپنے نام کیا

مہرشالا علی نے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔ وہ 2014 کے بعد سے یہ انعام جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار ہیں۔ ان کے علاوہ بہترین معاون اداکارہ کا انعام ایک اور سیاہ فام اداکارہ وایولا ڈیوس نے جیت لیا۔ انھوں نے ’فینسز` میں روز نامی کردار کے روپ میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔

پروگرام کے میزبان جمی کِمل نے پروگرام کا رنگ شروع ہی میں کہہ کر متعین کر دیا کہ مجھے لگتا ہے کہ کوئی اداکار یہاں آ کر ایسی تقریر کرے گا کہ امریکہ صدر صبح پانچ بجے باتھ روم جا کر اس کے بارے میں ٹویٹ کر دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بہترین معاون اداکارہ کا انعام وایولا ڈیوس کے حصے میں آیا

انھوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے معروف اداکارہ میرل سٹریپ پر کی جانے والی تنقید کا بھی مذاق اڑایا۔

ایرانی ہدایت کار اصغر فرہادی کی فلم ’فروشندہ‘ نے بہترین غیرملکی فلم کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس سے قبل 2012 میں بھی اصغر فرہادی ہی کی فلم ’جدائی نادر از سیمیں‘ کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔

تاہم اصغر فرہادی ڈونلڈ ٹرمپ کے سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے انتظامی فیصلے کے خلاف بطورِ احتجاج اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے۔ ان کی بجائے ان کا انعام ایرانی نژاد امریکی خلاباز انوشہ انصاری نے وصول کیا۔

آسکر ایوارڈز کی تقریب میں عام طور پر صرف مرنے والے فنکاروں کا انعام دوسروں کو وصول کرنے دیا جاتا ہے لیکن اس موقعے پر اکیڈمی ایوارڈز نے اپنے قوانین میں ترمیم کی ہے۔

میکسیکن اداکار گیل گارسیا نے سٹیج پر آ کر کہا: ’بطور ایک میکسیکن اور بطور ایک انسان میں کسی بھی ایسی دیوار کے خلاف ہوں جو ہمیں جدا کرے۔‘

مختصر فلم کے زمرے میں ’پائپر‘ نے انعام جیتا، جب کہ بہترین اینی میٹڈ فلم کا ایوارڈ ’زوٹوپیا‘ کے حصے میں آیا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ جادوئی میوزیکل ’لا لا لینڈ‘ سب سے زیادہ طلائی مجسمے جیتے گی تاہم ایسا نہ ہو سکا اور 14 نامزدگیوں میں سے اسے چھ ایوارڈ ہی مل سکے۔

بہترین ہدایت کار کا انعام بھی لا لا لینڈ کے ڈیمیئن چیزل نے جیتا۔ وہ آسکر ایوارڈ جیتنے والے کم عمر ترین ہدایت کار بن گئے ہیں۔

انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فلم محبت کے بارے میں ہے اور میں خوش قسمت تھا کہ اسے بناتے ہوئے محبت میں گرفتار ہو گیا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں