آسکر ایوارڈ یافتہ مہرشالہ علی کے مذہب پر سوشل میڈیا پر بحث

فلم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مہرشالہ علی کے آسکر ایواراڈ جیتنے کی خبر عالمی میڈیا میں بھی کافی گردش میں رہی

آسکر ایوارڈ جیتنے والی بہترین فلم مون لائٹ میں کام پر بہترین معاون اداکار کا آسکر جیتنے والے مہرشالہ علی کے مذہب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔

مون لائٹ میں مہر شالہ علی نے ہوان نامی ایک منشیات فروش کا کردار ادا کیا ہے جو کہ فلم کے مرکزی کردار کی مدد کرتا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں مہرشالہ علی کو اداکاری کے شعبے میں آسکر جیتنے والا پہلا مسلمان قرار دیا گیا جس کے بعد پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے بھی اس بارے میں ٹویٹ کی جو کہ جلد ہی حذف کر دی گئی۔

ان کی جانب سے ٹویٹ حذف کیے جانے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی تاہم پاکستانی سوشل میڈیا پر اس کے بعد بات مہرشالہ علی کے جماعتِ احمدیہ سے تعلق کی ہونے لگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ملیحہ لودھی کی ٹویٹ کا عکس جو انھوں نے بعد میں حذف کر دیا تھا

واضح رہے کہ امریکہ میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہونے والے 43 سالہ مہرشالہ علی نے 2001 میں جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور پاکستان کے آئین میں ایک ترمیم کے تحت سنہ 1974 میں احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔

ملیحہ لودھی کے ٹویٹ ہٹانے کے بعد سوشل میڈیا پر کافی ردعمل دیکھنے میں آیا اور بہت سے لوگوں نے اپنی ٹویٹس کے ذریعے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

مصنفہ بینا شاہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ جو پاکستانی ایک مسلمان کے آسکر ایوارڈ جیتنے پر خوشی منانا چاہتا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ شخص احمدی ہے۔

پاکستان کے سرکاری چینل پر چلنے والی خبر میں بھی مہر شالہ علی کو مسلمان قرار دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انٹرنیٹ پر موجود انسائیکلوپیڈیا ویب سائٹ 'وکی پیڈیا' پر 27 فروری کو مہر شالہ علی کی نام کی انٹری میں سو سے زائد دفعہ تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں سے بیشتر ان کے مذہب کے بارے میں تھیں۔

مہرشالہ علی کی جیت کی خبر عالمی میڈیا میں بھی کافی گردش میں رہی اور کئی نامور خبر رساں اداروں نے ان کے اعزاز کو سراہا۔

Image caption پی ٹی وی پر چلنے والی مہرشالہ علی کے آسکر ایوارڈ کی خبر