’میں صبیحہ خانم نہیں بن سکتی کیونکہ وہ دور دوسرا تھا‘

سحرش تصویر کے کاپی رائٹ Sehrish Khan
Image caption سحرش خان امریکہ میں مس پاکستان کا ٹائٹل بھی حاصل کرچکی ہیں

پاکستان میں سینما کی بحالی نے ماضی کے فلمی گھرانوں کی اولاد کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے، جس کی مثال صبیحہ خانم اور سنتوش کمار کی نواسی سحرش خان ہیں۔

سحرش کی پیدائش لاہور میں اور پرورش امریکہ میں ہوئی ہے۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سحرش خان نے بتایا کہ انھیں بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا کیونکہ وہ نانی کے ساتھ پلی بڑھی ہیں اور ساری زندگی نانا نانی کی فلمیں دیکھی ہیں تو اداکاری کی چاہت بچپن سے تھی۔

سحرش خان امریکہ میں تھیٹر کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے نیویارک فلم اکیڈمی سے تربیت حاصل کی اور اس کے ساتھ ساتھ ذاتی شوق کے لیے کلاسیکل کتھک ڈانس بھی سیکھا۔

سحرش خان کے مطابق تھیٹر بالکل الگ میڈیم ہے کیونکہ آپ کو کیمرے کے لینز اور لائیٹنگ کی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔

سحرش خان ان دنوں دو فلموں میں کام کر رہی ہیں، اس میں ’رہبرا‘ کے ڈائریکٹر امین اقبال ہیں۔ اس فلم میں سحرش خان کے ساتھ اداکار احسن خان اور عائشہ عمر ہیں اور یہ فلم عیدالضحیٰ پر ریلیز ہونے کا امکان ہے۔

دوسری فلم ’چین آئے نہ‘ ہے جس کے ڈائریکٹر سید نور ہیں۔اس فلم میں سحرش خان کے ساتھ بہروز سبزواری کا بیٹا شہروز سبزواری اور وحید مراد کے فرزند عادل مراد کو بھی کاسٹ کیا گیا ہے۔

سحرش خان کا کہنا ہے کہ وہ صبیحہ خانم نہیں بن سکتیں کیونکہ وہ دور دوسرا تھا اور وہ بچپن سے ہی اداکاری کرتی ہوئی آئی تھیں۔ انھوں نے نصیحت کی تھی کہ اپنے کردار کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرو اسی نصیحت پر میں اپنے کریئر میں عملدرآمد کر رہی ہوں۔

صبیحہ خانم کے علاوہ سحرش خان پسندیدہ اداکارہ صبا قمر ہیں۔ بقول ان کے صبا قمر بہت کمٹمینٹ کے ساتھ کام کرتی ہیں اور ان کی اداکاری کے کئی پہلو ہیں لیکن ان کی آئیڈیل صبیحہ خانم ہیں، یقیناً وہ ان کی نانی ہیں لیکن انھوں نے فلم، تھیٹر، ڈرامے اتنے میڈیمز میں کام کیا ہے کہ وہ کمال ہیں۔

سحرش خان بالی وڈ میں بھی کام کرنے کے لیے خواہشمند ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ ان کے ساتھ فہد مصطفیٰ یا احسن خان جیسا کوئی پاکستانی ہیرو ہو۔ سحرش خان کے مطابق کہانی اور کردار اچھا ملے تو بالی وڈ کیا ہالی وڈ میں بھی کام کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی پہچان پاکستانی امریکن ہے اس لیے پہلے پاکستان میں اپنا نام روشن کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sehrish Khan

سحرش خان امریکہ میں مس پاکستان کا ٹائٹل بھی حاصل کرچکی ہیں، جس کے بعد انھوں نے خواتین کے معاشی استحکام کے لیے بھی کام کیا۔ سحرش خان نے بتایا کہ وہ نینا دلاری سے متاثر تھیں جو 2014 میں مس امریکہ بنی تھیں۔ اس وقت وہ لا سکول میں زیرتعلیم تھیں۔

’نینا دلاری نے اپنا ٹائٹل صحت کے شعبے کے لیے وقف کردیا تھا۔ میں ذاتی طور پر ان سے متاثر ہوئیں اور سوچا کہ اگر وہ انڈیا کا نام روشن کر رہی ہیں تو میں یہ سب کچھ پاکستان کے لیے کیوں نہ کروں۔‘

خواتین کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کی خواہش انھیں گھر سے ملی ہے۔ سحرش خان کے مطابق ان کی والدہ سنگل پیرنٹ ہیں اور پاکستان میں بطور سنگل پیرنٹ تین لڑکیوں کی پرورش کافی مشکل تھی اس لیے ان کی والدہ امریکہ چلی گئیں۔ پاکستان میں وہ خواتین جن کے پاس یہ مواقع نہیں ہیں وہ ان کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔

سحرش خان سوات میں غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کام کررہی ہیں جہاں وہ مقامی دستکاری سے وابستہ خواتین کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں اور ان کی تیار کردہ شال، ہینڈ بیگز اور دیگر اشیا امریکہ میں فروخت کی جاتیں ہیں تاکہ خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ سحرش خان سوات جانا چاہتی ہیں لیکن وہ اس سے بالکل خوفزدہ نہیں کہ یہ علاقہ طالبان کے زیر اثر رہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں