’فلم انڈسٹری ایسی ہی ہے، آپ یہاں آئی ہی کیوں؟'

VARALAXMI SARATHKUMAR تصویر کے کاپی رائٹ VARALAXMI SARATHKUMAR
Image caption سوشل میڈیا پر ورالكشمی کی کافی لوگ حمایت کر رہے ہیں

جنوبی بھارتی فلموں کی اداکارہ ورالكشمی سرتھكمار نے فلمی دنیا میں جنسی تشدد کا موضوع ٹوئٹر پر چھیڑا ہے۔

'نيڈز ٹو بی سیڈ' یعنی 'کہنا ضروری ہے' کے عنوان سے لکھے اپنے کے تبصرے میں تمل فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ نے 'کاسٹنگ کاؤچ' کے بارے میں بیان کیا ہے۔

انھوں نے حال ہی میں ایک بڑے ٹی وی چینل کے پروگرامنگ ہیڈ کے ساتھ ہوئی اپنی ملاقات کے بارے میں لکھا ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ 'آدھے گھنٹے کی میٹنگ کے آخر میں انھوں نے مجھ سے کہا، 'تو، ہم باہر کب مل سکتے ہیں؟' میں نے جواب دیا، 'کسی اور کام کے لیے؟' انھوں نے کہا، 'نہیں .... کسی اور چیز کے لیے.'

یہ پوسٹ وائرل ہو گئی اور کئی ہزار لوگوں نے اسے سوشل میڈیا پر پسند کیا۔ ورالكشمی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

انھوں نے لکھا کہ 'میں نے اس انڈسٹری میں اس لیے نہیں آئی کہ میرے ساتھ گوشت کے ایک ٹکڑے جیسا سلوک ہو.'

ورالكشمی نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ 'فلم انڈسٹری میں خواتین کاسٹنگ کاؤچ کو تقدیر سمجھ کر قبول کر چکی ہیں.'

وہ بتاتی ہیں: 'لوگ ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے یہ کوئی عام بات ہو۔ اس لیے جب میں نے اپنے اس تجربے کے بارے میں لوگوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری ایسی ہی ہے، آپ یہاں آئی ہی کیوں؟'

وہ کہتی ہیں: 'لیکن میں اور دیگر اداکارائیں اس انڈسٹری میں اس لیے آئیں کیونکہ ہم اداکاری کے بارے میں پرجوش تھے۔ میں نہیں سمجھتی اگر اداکاری کے بارے میں آپ پرجوش ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کسی کے ساتھ سونا پڑے گا۔'

تاہم انھوں نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی، لیکن اتنا ضرور کہا کہ یہ واقعہ نمک کے پہاڑ کی ایک چٹکی بھر ہی ہے۔

سوشل میڈیا پر ورالكشمی کی کافی لوگ حمایت کر رہے ہیں جس میں ان کی ساتھی اداکارہ روپا منجری بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ VARU SARATHKUMAR/BBC
Image caption ورالكشمی آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر شعور کی آگہی کے لیے چنیئی میں ایک ریلی منعقد کرنے جا رہی ہیں

یہ پوسٹ کیرالہ میں ایک مقبول اداکارہ کے مبینہ اغوا اور عصمت دری کے واقعے کے دو دن بعد ہی شائع ہوئی تھی۔

اس اداکارہ نے پولیس کو بتایا تھا کہ تین نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کیا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر کافی ہنگامہ ہوا اور بھارتی فلم انڈسٹری کے کچھ اہم ارکان نے بھی آواز اٹھائی تھی۔

ورالكشمی کہتی ہیں: 'اس اداکارہ کے ساتھ جو ہوا، بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہیے، لیکن فلم انڈسٹری میں ہی نفاق ہے کیونکہ ایک طرف ہم اس واقعے کہ مذمت کرتے ہیں تو دوسری طرف لوگ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ صنعت کا ایک حصہ بھی ایسا ہی ہے۔'

ورالكشمی ایک مہم بھی چلا رہی ہیں اور آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر شعور کی آگہی کے لیے چنیئی میں ایک ریلی منعقد کرنے جا رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں