آسکرز میں گڑبڑ کے ذمہ دار جوڑے کی جان کو خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان دونوں کے خاندان کی تصاویر اور گھروں کے پتے سوشل میڈیا پر شائع کیے جانے کے بعد انھیں سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

آسکرز ایوارڈ کی تقریب میں اعزازات کی تقسیم کے لفافوں کی ذمہ دار جوڑے کو سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد ذاتی محافظ فراہم کیے گئے ہیں۔

اکاونیٹسی فرم پرائس واٹر ہاؤس کوپر کا کہنا ہے کہ بریئن کلینن اور مارتھا روئز کے گھر پر سکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔

* آسکرز میں بہترین فلم کا انعام غلط فلم کے نام

سلیبریٹی ویب سائٹ ٹی ایم زیڈ ڈاٹ کام کے مطابق ان دونوں کو خدشہ تھا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

بدھ کو بتایا گیا تھا کہ ان دونوں کو آئندہ آسکرز کی کوئی ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔

تاہم ٹی ایم زیڈ کے مطابق ان کی ملازمتوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

ان دونوں کے خاندان کی تصاویر اور گھروں کے پتے سوشل میڈیا پر شائع کیے جانے کے بعد انھیں سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

اتوار کو ہونے والے آسکرز کی تقریب میں فلم ’مون لائٹ‘ کی جگہ غلطی سے بہترین فلم کا ایوارڈ ’لا لا لینڈ‘ کو دے دیا گیا تھا۔

لا لا لینڈ کی ٹیم کو دورانِ تقاریر روک کر صحیح فاتح کا اعلان کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انھوں نے بجائے بہترین فلم والے نتائج کے لفافے کے بہترین اداکارہ کے نام والا دوسرا لفافہ دے دیا تھا۔

اسے اکیڈمی ایوارڈ کی 89 سالہ تاریخ میں سب سے بڑی غلطی قرار دیا جا رہا ہے۔

مسٹر کلینن نے غلطی سے ایک دوسرا لفافہ پریزینٹرز کو تھما دیا تھا۔

انھوں نے بجائے بہترین فلم کے نتائج والے لفافے کے بہترین اداکارہ کے نام والا دوسرا لفافہ دے دیا تھا۔

ووٹوں کی گنتی کرنے اور لفافوں کو منظم کرنے والے ادارے پی ڈبلیو سی نے اس گڑ بڑ کے لیے معذرت کی ہے۔

کلینن نے بہترین اداکارہ کا اعزاز حاصل کرنے والے ایما سٹون کے ساتھ ایک تصویر لفافوں کی تبدیلی سے کچھ لمحے قبل ٹیوٹ کی تھی اور کہا جا رہا ہے کہ یہی بے توجہی غلطی کی وجہ بنی۔

اسی بارے میں