’امیتابھ کی وصیت اور گووندا کی شکایت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گوندانے تقریباً 180 فلموں میں اداکاری کی ہے

اپنے زمانے کے کامیاب اداکار گووندا آج کل خاصے حیران پریشان ہیں اور ہر ہفتے نئے نئے بیانات دیتے نظر آتے ہیں اس کی وجہ بلکل واضح ہے ان کی فلم ’آگیا ہیرو‘ ریلیز کے لیے تیار ہے لیکن پتہ نہیں کیوں گووندا جی ریلیز کی تاریخ آگے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے ذہن میں خود کو تازہ کرنے کے لیے ہر ہفتے نئے نئے انکشافات کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

اس ہفتے گووندا اس بات پر افسوس ظاہر کرتے نظر آئے کہ انھوں نے بالی وڈ میں موجود کئی بااثر کیمپوں میں سے کسی ایک میں بھی شامل نہ ہو کر غلطی کی تھی۔

گووندا کا کہنا ہے کہ اس سے آپ کا کریئر متاثر ہوتا ہے۔ فلموں سے سیاست اور پھر سیاست سے واپس فلموں کا رخ کرنے والے گووندا کا کہنا ہے کہ ان کے خراب وقت میں لوگوں نے ان کی مشکلیں آسان نہیں کیں بلکہ بڑھائی تھیں۔

گووندا آخری مرتبہ سنہ 2007 میں سلمان خان کے ساتھ فلم ’پارٹنر‘ میں نظر آئے تھے۔ اب پتہ نہیں کہ وہ اپنی نئی فلم کب اور کیسے ریلیز کرنے والے ہیں حالانکہ کچھ عرصہ پہلے سلمان خان نے گووندا اور ان کی آنے والی فلم کی دل کھول کر تعریف کی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جاییداد کی تقسیم کے لیے امیتابھ بچن کی وصیت

امیتابھ بچن بالی وڈ کی ایک ایسی بڑی اور اہم شخصیت ہیں جو انڈسٹری کے دوسرے سٹارز کے برعکس ملک کے بڑے اور اہم موضوعات پر اپنے خیالات اپنے تک ہی رکھتے ہیں لیکن آج کل انھوں نے کچھ موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار ایک انوکھے انداز میں کرنا شروع کر دیا ہے۔

چند ماہ پہلے اپنی فلم 'پنک' کی ریلیز سے پہلے انھوں نے اپنی پوتی آرادھیا اور نواسی نویا کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں انھیں من چاہے انداز میں آزاد زندگی گزارنے کا مشورہ دیا تھا۔ اب ان کی فلم ’سرکار‘ کا سیکوئل آنے والا ہے اور اس بار انھوں نے انوکھے انداز میں اپنی وصیت کا اعلان کیا ہے۔ ایک تصویر میں بگ بی نے ایک کارڈ پکڑ رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ 'میری موت کے بعد میری تمام جائیداد میرے بیٹے ابھشیک اور بیٹی شویتا نندہ کے درمیان برابر تقسیم کر دی جائے۔ ہیش ٹیگ جینڈر ایکوالٹی وی ار ایکوئل'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میری موت کے بعد میری تمام جائیداد میرے بیٹے ابھشیک اور بیٹی شویتا نندہ کے درمیان برابر تقسیم کر دی جائے: امیتابھ

حالانکہ امیتابھ بچن جیسے بڑے سٹار کی جانب سے صنفی مساوات کے حق میں اس طرح کی پبلسٹی ایک اچھا قدم ہے اور شاید کچھ لوگ ان کی اس رائے سے متاثر بھی ہوں لیکن امِت جی کو اس طرح کے پیغامات صرف اپنی فلموں کی ریلیز کا محتاج نہیں کرنا چاہئیے۔

امیتابھ بچن سے ان کی فلمی ماں نیرو پرائے کا قصہ یاد آ گیا۔ 1975 کی بلاک بسٹر فلم 'دیوار' کا وہ ڈائیلاگ بھی جس میں نیرو پرارئے کے دو بیٹے تھے ایک امیتابھ بچن اور دوسرا سششی کپور۔ ایک کہتا ہے 'میرے پاس گاڑی ہے بنگلہ ہے' تو امیتابھ کہتے ہیں 'میرے پاس ماں' ہے۔ نیرو پرائے نے اس وقت خواب میں بھی نہ سوچا ہوگا کہ ایک دن ان کے اپنے بیٹے ان کی جائیداد حاصل کرنے کے لیے عدالت میں لڑیں گے۔

نیرو پرائے کے بیٹے یوگیش ممبئی میں تین ہزار سکوائر فِٹ پر واقع گھر کی ملکیت پر جھگڑے کے بعد عدالت میں آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ اس گھر کی قیمت تقریباً سو کروڑ بتائی جا رہی ہے۔ اب اگر نیرو پا رائے نے بھی اپنے فلمی بیٹے امیتابھ بچن کی طرح کوئی وصیت کی ہوتی تو شاید آج ان کے بچے اس طرح عدالت میں ایک دوسرے کے خلاف نہ کھڑے ہوتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں