بالی وڈ اداکارائیں: ’یہ دل مانگے اور‘

کنگنا تصویر کے کاپی رائٹ Rangoon PR
Image caption اداکارہ کنگنا نے اپنی اداکاری سے ایک مقام حاصل کیا ہے

انڈیا کی فلموں میں عموماً خواتین کرداروں کو ابتدا اور کلائمیکس کے درمیان کہانی کو جوڑنے کے لیے یا پھر دل لگی کے ہلکے پھلکے پل کے لیے شامل کیا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ پانچ دہائیوں سے ہندی سنیما کم و بیش اسی راہ پر گامزن ہے۔ لیکن حالیہ دنوں اس رجحان میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

اب پردۂ سیمیں پر اداکارائیں بیچاری اور مجبور محض عورت بن کر آنسو بہانے اور محض رومانس کے کردار سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ اب کہانی میں اپنے وجود کے معانی تلاش کرنا چاہتی ہیں۔

٭ بالی وڈ میں خواتین اداکاروں کا مرتبہ کیا ہے؟

٭ کیا ہالی وڈ جانا بیوقوفی ہے؟

اب انہیں صرف 'چھوئی موئی' بنے رہنے پر سخت اعتراض ہونے لگا ہے۔

کنگنا راناوت، انوشکا شرما، پرینکا چوپڑہ اور سوناکشی سنہا جیسی اداکاراؤں نے ثابت کیا ہے کہ اگرچہ بالی وڈ اپنے موجودہ دائرے سے نکلنے میں ہچکچاتا ہو، لیکن انھیں جب بھی موقع ملا ہے وہ فلموں کو اکیلے اپنے کندھے پر ڈھونے کا مادہ رکھتی ہیں۔

'رنگون'، 'اکیرا'، 'این ایچ 10' اور 'کہانی' جیسی فلمیں بالی وڈ میں بڑی تبدیلی کی غماز ہیں لیکن باکس آفس کے اعداد و شمار دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دہلی ابھی بھی دور ہے۔

فلمیں خود کو خوش کرنے کا کاروبار نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بالی وڈ میں خواتین پر مبنی فلمیں بنانا آسان نہیں ہے۔

خواتین کے اہم کرادار والی فلموں کی کامیابی کے امکانات بھی 50-50 ہی رہتے ہیں۔

'کوئین'، 'ریوالور رانی' جیسی فلموں سے کامیابی کا مزا چکھنے والی کنگنا راناوت کا کہنا ہے: 'یہ ایک خیال خام ہے کہ ناظرین خواتین کے اہم کردار والی فلمیں نہیں دیکھنا چاہتے۔

'اگر ناظرین دیکھتے نہیں تو ایسی فلمیں بنتی کیوں ہیں؟ بالی وڈ میں بھلا کون پیسے ضائع کرنے کے لیے فلمیں بناتا ہے؟'

کنگنا پوچھتی ہیں: "کیا 'کوئین'، 'تنو ویڈس منو'، 'مردانی' اور 'پنک' جیسی فلمیں نہیں چلیں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عباس مستان اکیرہ اڈوانی کے ساتھ فلم مشین کے پروموشن میں مشغول ہیں

لیکن کنگنا کی حالیہ فلم 'رنگون' بہت زیادہ بزنس نہیں کر پائی۔

حالات جو بھی ہوں لیکن انوراگ کشیپ، دباكر بینرجی، عباس مستان جیسے فلم ساز اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے خواتین پر مبنی فلمیں بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

آئندہ دنوں آنے والی فلموں 'نام شبانہ' میں تاپسي پنوں، 'رابتا' میں کیرتی شینون اور 'ایک تھا ٹائیگر' میں قطرینہ کیف جیسی اداکارائیں نظر آئيں گی۔

آخر کیا وجہ ہے کہ تلخ تجربات کے باوجود فلمسازوں نے ہمت نہیں ہاری ہے؟

فلم 'مشین' کے پروموشن میں مشغول ڈائریکٹر عباس مستان کی نئی فلم بھی خواتین پر منبی ہے اور کیارا اڈوانی اہم رول میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’فلمیں اگر اچھی ہوں تو ناظرین کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ فلم خواتین پر مبنی ہے یا مرد پر۔ کچھ مختلف کرنے کے چکر میں لوگ فلموں کو اتنا غیر حقیقی بنا دیتے ہیں کہ ناظرین انھیں ہضم نہیں کر پاتے۔ یہ زمانہ قصے کہانیوں اور فینٹیسی کا نہیں ہے۔ ریل میں بھی کہانی اور کردار ریئل ہونے چاہیے، تبھی بات بنے گی۔‘

'گنگا جل -2' پرکاش جھا کے لیے اچھا تجربہ نہیں رہا۔ فلم میں سارا بوجھ پرینکا چوپڑہ کے کندھوں پر تھا۔ کیا یہی فلم کا مائنس پوائنٹ ثابت ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلم پنک میں ہر چند کہ امیتابھ بچن کا اہم کردار ہے لیکن یہ فلم خواتین پر مبنی ہے

پرکاش جھا کا کہنا ہے کہ حالات جلد بدلیں گے۔ اس کے آثار بھی ہیں۔ مردوں کے غلبے والی فلموں کے درمیان گذشتہ چند سالوں میں کئی اداکاراؤں نے پردے پر اپنی بااثر موجودگی درج کرائی ہے۔

انوشکا شرما، کنگنا راناوت،رانی مکھرجی اور سیانی گپتا جیسی اداکاراؤں نے اپنے کردار سے ناظرین کے ایک بڑے طبقے کو اپنی طرف متوجہ بھی کیا ہے۔

سامعین نے اس معاملے پر اپنی رضامندی دے دی ہے اور اب یہ فلمسازوں کو طے کرنا ہے کہ خواتین کی اس بدلتی تصویر کو وہ فلموں میں کس طرح پیش کر پاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں