بلیو ساکس بینڈ نے سال کا پہلا نغمہ جاری کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

پاکستان میں موسیقی گروپ بلیو ساکس بینڈ نے اس سال کا اپنا پہلا نیا گانا 'جانا' باضابطہ طور پر جاری کر دیا ہے۔

بلیو ساکس بینڈ نے چار منٹ پندرہ سیکنڈ طویل 'جانا' لکھا اور خود ہی کمپوز کیا ہے۔

مغربی موسیقی کی صنف جاز اور بلیو پر مبنی یہ گیت سیکسافون پر زیادہ انحصار کرتا ہے لیکن طبلہ اور گیٹار مزید ماحول پیدا کرتا ہے۔

اسے کمپوز کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسے سننے کے دوران آپ کے پاؤں خود ہی ردم میں چل پڑتے ہیں۔ اس گانے کو طلحہٰ علی کوشاوا نے اپنی آواز دی ہے۔

'بیوی نے چوہا بنا دیا ورنہ میں تو شیر تھا' جیسے مصروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس گیت میں مزاح کا عنصر بھی رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو بیوی کے چلے جانے کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ اس کی تمام دولت بھی ساتھ لے جائے۔

بینڈ کے بانی اور گائیک طلحہٰ علی کوشاوا نے 'جانا' کے در پردہ کہانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'یہ گیت ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جو چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی جائے، لیکن وہ اس کا اظہار اس کے سامنے نہیں کرسکتا ہے۔

گانے کا اختتام بیوی سے درخواست سے ہوتا ہے کہ وہ اس کا کریڈٹ کارڈ چھوڑ جائے، جو کہ استعارہ ہے کہ وہ اس کی دولت کو ساتھ لے کر نہ جائے۔

طلحہٰ علی کوشاوا کا مزید کہنا ہے کہ یہ سب اچھی نیت سے لکھا گیا ہے، یہ ہی جاز موسیقی کی پہچان ہے۔ 'جانا ہماری اس سال کے لیے پہلی پیشکش ہے۔ ہم مزید موسیقی پر کام کر رہے ہیں جو جلد منظر عام پر آئے گی۔ ہم اس سال کے بارے میں کافی پرامید ہیں کہ یہ ہمارے لیے اب تک اچھا ثابت ہوا ہے۔'