باب ڈلن نوبیل انعام لینے کے لیے رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 75 سالہ باب ڈلن کو 'امریکی نغمہ نگاری کی عظیم روایت کے اندر رہ کر نئے شاعرانہ پیرائے تخلیق کرنے' کے صلے میں 13 اکتوبر کو نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا

امریکی گلوکار اور نغمہ نگار باب ڈِلن نے آخرکار اپنا نوبیل انعام برائے ادب لینے کی حامی بھر دی ہے۔

نوبیل اکیڈمی کا کہنا ہے کہ وہ باب ڈلن سے سٹاک ہوم میں ملاقات کریں گے۔

باب ڈلن کو گذشتہ سال اکتوبر کی 13 تاریخ کو ادب کا نوبیل انعام دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا جس نے ادبی حلقوں کے بڑے حصے کو حیرت زدہ کر دیا تھا کیوں کہ وہ روایتی معنوں میں ادیب نہیں بلکہ نغمہ نگار ہیں۔ اس سے قبل ادب کا نوبیل انعام عام طور پر ناول نگاروں اور شاعروں کو دیا جاتا رہا ہے۔

باب ڈلن اس انعام کی تقریب میں نہیں جا سکے تھے۔ نوبیل انعام کی رسم ہے کہ نو لاکھ ڈالر کی رقم وصول کرنے والے کو ایک خطاب بھی کرنا ہوتا ہے۔

نوبیل اکیڈمی کا کہنا ہے کہ باب ڈلن اور ان کے نمائندے ایک چھوٹی سی تقریب میں شریک ہوں گے جہاں میڈیا کے لوگ موجود نہیں ہوں گے۔ باب ڈلن کو نوبیل انعام کے لیے براہِ راست لیکچر نہیں دینا پڑے گا اور وہ اپنا لیکچر ریکارڈ کر کے پیش کر سکتے ہیں۔

75 سالہ باب ڈلن کو 'امریکی نغمہ نگاری کی عظیم روایت کے اندر رہ کر نئے شاعرانہ پیرائے تخلیق کرنے' کے صلے میں 13 اکتوبر کو نوبیل انعام سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس اعلان کے بعد باب ڈلن نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ ان کی خاموشی سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید وہ انعام قبول کرنے سے انکار کر دیں۔

اکیڈمی کے ایک رکن واسٹبرگ نے باب ڈلن کی خاموشی کے پیشِ نظر کہا تھا کہ نغمہ نگار باب ڈِلن کی جانب سے ادب کا نوببل انعام قبول نہ کرنا 'نا شائستہ اور تکبرانہ' ہے۔

انھوں نے سویڈش ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہویے کہا کہ: 'وہ ہیں جو وہ ہیں، ڈِلن کی جانب سے اس خبر کو نظر انداز کرنا کچھ حیران کن تھا۔'

باب ڈلن کو اس خبر پر ردعمل ظاہر کرنے میں دو ہفتے لگے جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان کے وہ ’لاجواب‘ ہوگئے ہیں۔

ان کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ان کے مطابق ان کے نوبیل جیتنے کے امکانات ایسے ہی تھے جیسا کہ ان کا ’چاند پر کھڑے‘ ہونا۔

اسی بارے میں