باب ڈلن نے آخرکار نوبیل انعام لے ہی لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سویڈش میڈیا کے مطابق امریکی گلوکار اور نغمہ نگار باب ڈِلن نے تین ماہ سے زائد عرصے بعد آخرکار اپنا نوبیل انعام برائے ادب لے ہی لیا۔

انھوں نے اپنا میڈل سٹاک ہوم میں پہلے سے طے شدہ کنسرٹ سے قبل ایک نجی تقریب کے دوران حاصل کیا۔

تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

اس سے قبل نوبیل اکیڈمی کا کہنا تھا کہ باب ڈلن کو نوبیل انعام کے لیے براہِ راست لیکچر نہیں دینا پڑے گا اور وہ اپنا لیکچر ریکارڈ کر کے پیش کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ باب ڈلن کو گذشتہ سال اکتوبر کی 13 تاریخ کو ادب کا نوبیل انعام دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا جس نے ادبی حلقوں کے بڑے حصے کو حیرت زدہ کر دیا تھا کیوں کہ وہ روایتی معنوں میں ادیب نہیں بلکہ نغمہ نگار ہیں۔ اس سے قبل ادب کا نوبیل انعام عام طور پر ناول نگاروں اور شاعروں کو دیا جاتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 75 سالہ باب ڈلن کو 'امریکی نغمہ نگاری کی عظیم روایت کے اندر رہ کر نئے شاعرانہ پیرائے تخلیق کرنے' کے صلے میں 13 اکتوبر کو نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا

باب ڈلن اس انعام کی تقریب میں نہیں جا سکے تھے۔ نوبیل انعام کی رسم ہے کہ نو لاکھ ڈالر کی رقم وصول کرنے والے کو ایک خطاب بھی کرنا ہوتا ہے۔

75 سالہ باب ڈلن کو 'امریکی نغمہ نگاری کی عظیم روایت کے اندر رہ کر نئے شاعرانہ پیرائے تخلیق کرنے' کے صلے میں 13 اکتوبر کو نوبیل انعام سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس اعلان کے بعد باب ڈلن نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ ان کی خاموشی سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید وہ انعام قبول کرنے سے انکار کر دیں۔

اکیڈمی کے ایک رکن واسٹبرگ نے باب ڈلن کی خاموشی کے پیشِ نظر کہا تھا کہ نغمہ نگار باب ڈِلن کی جانب سے ادب کا نوببل انعام قبول نہ کرنا 'نا شائستہ اور تکبرانہ' ہے۔

باب ڈلن کو اس خبر پر ردعمل ظاہر کرنے میں دو ہفتے لگے جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ ’لاجواب‘ ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں